Book Name:Qurbani Kiyon Kartay Hain

ہونے کے باوجود دانت نہیں نکال پاتے۔ جانور وں کی عمر کے مُعاملے میں لوگ بیوپاریوں پر اِس لیے اِعتماد نہیں کرتے کہ کثرت سے جھوٹ اور دھوکا دہی کے باعِث اُن کا بیوپاریوں سے اِعتماد اُٹھ چکا ہوتا ہے ۔ بعض بیوپاری جانوروں کی کٹی ہوئی دُم ٹیپ لگا کر جوڑ دیتے ہیں اور جس رنگ کے جانور کے بال ہوتے ہیں ٹیپ پر اسی طرح کا رنگ لگا دیتے ہیں جس کے باعِث خَریدار کو یہ معلوم نہیں ہو پاتا کہ جانور کی دُم کٹی ہوئی ہے اور پھر جب وہ بیچارہ اُسے گھر لے جا کر دُم سے پکڑتا ہے تو دُم نکل کر اُس کے ہاتھ میں آ جاتی ہے ۔ اِسی طرح بعض بیوپاری جانوروں کے دانت دِکھاتے ہوئے بھی دھوکا دہی سے کام لیتے ہیں ۔ اگرچہ سب بیوپاری دھوکے باز نہیں ہوتے مگر لوگ اِیماندار بیوپاریوں پر بھی اِس لیے اِعتماد نہیں کرتے کہ دودھ کا جَلا چھاچھ پُھونک پُھونک کر پیتا ہے ۔ اگر بیوپاری باشرع اور نیک آدمی ہے اور وہ کہتا ہے کہ جانور کی عمر پوری ہے ، گاہک کو اس پر اِعتماد ہے کہ وہ جانور کی عمر بتانے میں جھوٹ نہیں بول رہا تو اس صورت میں اگر گاہک نے اُس سے جانور خرید کر قربانی کر لی تو اس کی قربانی ہو جائے گی اگرچہ دانت نہ نکلے ہوں ۔ بہتر یہ ہے کہ قربانی کا جانور چاہے وہ گائے ہو یا بکرا چار دانت کا ہونا چاہیے ، بکرا اگر چار دانت کا ہو تو اس کا گوشت عمدہ ہوتا ہے مگر ہمارے یہاں دو دانت کی رَسم چل پڑی ہے ۔ جانور خَریدنے والے بھی دو دَانت کا مُطالبہ کرتے ہیں اور بیوپاری بھی دو دَانت کی صَدائیں لگاتے ہیں ۔ بسااوقات جانور آٹھ دانت (یعنی بڑی عمر) کا ہوتا ہے مگر بیوپاری خَریدار کو صِرف دو دانت نُمایاں طورپر دِکھاتے ہیں اور بقیہ دانت اپنی اُنگلیوں سے چھپا لیتے ہیں اور پھر فوراً جانور کا مُنہ بند کر دیتے ہیں ۔ رہی بات یہ کہ جس جانور کے کم عمری کی وجہ سے دانت نہیں نکلے ہوتے لوگ اسے آدھی قیمت میں خَرید لیتے ہیں تو یہ آدھی قیمت پر خَریدنے والے شاید گوشت فروش ہوتے ہوں گے جو ایسے جانوروں کو قربانی کے لیے نہیں بلکہ ذَبح کر کے ان کا گوشت بیچنے کے لیے خرید لیتے ہوں گے ۔

 جانور دو دانت کا ہے یا زیادہ کا ، یہ پہچان کیسے ہو؟

سُوال : جانور دو دانت کا ہے یا زیادہ کا ، اس کی پہچان کیسے کی جا سکتی ہے ؟

جواب : جانور دو دانت کا ہے یا زیادہ کا ، اس کی پہچان یہ ہے کہ جو دانت اچھی طرح نہیں نکلے ہوتے وہ سارے چھوٹے سے ایک لائن میں سفیدی کی طرح نظر آتے ہیں اور جو دانت نکل چکے ہوتے ہیں وہ اس سفیدی سے تھوڑا ہٹ کر اُبھری ہوئی جگہ سے نکلتے ہیں اور چوڑے ہوتے ہیں اور اُن پر کچھ پیلاہٹ سی ہوتی ہے ۔ اگر جانور آٹھ دانت کا بالکل ضعیف ہے تو اُس کے آٹھوں دانت ایک ہی لائن میں نظر آئیں گے اور اُن پر پیلاہٹ بھی دِکھائی دے گی ۔ بہرحال جانور کے دانتوں کی پہچان ہر ایک نہیں کر سکتا لہٰذا جانور خریدتے وقت تجربہ کار آدمی کا ساتھ ہونا بہت مُفید ہے ۔

بڑے جانوروں کو چھوٹی گاڑیوں میں گھسا کر لانا کیسا؟

سُوال : قربانی کے جانوروں کو منڈی سے خرید کر گھر لانے کے لیے گاڑیوں کی ضَرورت پڑتی ہے ، بعض لوگ پیسے بچانے کے لیے بڑے جانوروں کو بھی چھوٹی گاڑیوں میں زبردستی گھسا کر ، لِٹا کر اور رَسیوں سے باندھ کر لاتے ہیں جس کی وجہ سے جانوروں کو بہت تکلیف ہوتی ہے اور بسااوقات وہ شدید زخمی بھی ہو جاتے ہیں اس بارے میں کچھ مَدَنی پھول اِرشاد فرما دیجیے ۔

جواب : جس طرح اِنسان کو تکلىف دہ چىزوں سے اَذیت پہنچتی ہے اور وہ اپنے آپ کو ان سے بچانے کی کوشش کرتا ہے ظاہر ہے اِسی طرح جانوروں کو بھى تکلىف دہ چیزوں سے اَذیت ہوتى ہے ۔ چند پیسوں کی خاطِر اس طرح بڑے جانوروں کو چھوٹی گاڑیوں میں زبردستی گھسا کر ، لٹا کر اور رَسیوں سے باندھ کر لانا بِلاوجہ جانوروں کو اِیذا دینا اور اُن پر ظلم کرنا ہے ۔ جانور پر ظلم کرنا مسلمان پر ظلم کرنے سے بھى سخت تر ہے کىونکہ مسلمان تو مقابلہ کرے گا ، عدالت مىں جا کر کىس کر دے گا اس کے عِلاوہ اور بہت کچھ کرسکتا ہے۔ لىکن ىہ بے زبان جانور کس کے آگے فَرىاد کرے گا ۔ ([1])ىاد رَکھیے !مَظلوم جانور بلکہ مَظلوم کافر کى بھى بَددعا قبول ہوتى ہے ۔ جنہوں نے اىسا کىا ہے وہ توبہ کرىں اور آئندہ ہر گز اس طرح کے اَنداز اِختىار نہ کرىں ۔

کون سے دِن قربانی کرنا افضل ہے ؟

سُوال : عید کے کون سے دِن قربانی کرنا افضل ہے ؟

جواب : عید کے تینوں دِن قربانی کرنا جائز ہے اَلبتہ پہلے دِن قربانی کرنا افضل ہے۔ عید کے پہلے دِن عموماً قَصّاب زیادہ پیسے لیتے ہیں تو بعض لوگ تھوڑے سے پیسے بچانے کے لیے افضل عمل کو چھوڑ کر عید کے دوسرے یا تیسرے دن قربانی کرتے ہیں ۔ یوں چند پیسوں کی خاطراتنا مہنگا جانور لانے کے باوجود پہلے دِن قربانی کرنے کی فضیلت پانے سے خود کو محروم کر دیتے ہیں ۔ پہلے دِن قَصّاب کا زیادہ رَقم لینا اگرچہ نفس پر گِراں گزرتا ہے مگر ہمیں اپنا یوں ذہن بنانا چاہیے کہ جو نیک عمل نفس پر جتنا زیادہ گِراں گزرتا ہے اس کا ثواب بھی اتنا ہی زیادہ عطا کیا جاتا ہے ۔ (سفر حج کی احتیاطیں ، ص24)

                                                یاد رکھیے !عِیْدُ الْاَ ضحیٰ کے دِن جانور ذَبح کرنے سے افضل کوئی عمل نہیں ہے ۔ لہٰذا کوئی مجبوری نہ ہو تو پہلے دِن ہی قربانی کی جائے اگرچہ کچھ رَقم زیادہ خرچ ہو گی لیکن اس کو نقصان



[1]جانور پرظُلم کرنا ذِمّی کافر پر (اب دُنیا میں سب کافر حَربی ہیں ) ظلم کرنے سے زیادہ بُرا ہے اور ذِمّی پر ظلم کرنا مسلمان پر ظلم کرنے سے بھی بُرا ہے کیونکہ جانور کا مُعِین و مددگار اللہ پاک کے سِوا  کوئی نہیں ۔  (دُرِّمختار  ، کتاب الحظر و الاباحۃ ، 9 / 663)   



Total Pages: 6

Go To