Book Name:Badshah ki Sarri Hoi Laash

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

یہ مضمون غیبت کی تباہ کاریاں “ صفحہ 163 تا 178 سے لیا گیا ہے

بادشاہ کی سڑی ہوئی لاش!

دُعائے عطار : یا اللہ پاک!جو کوئی 17صفحات کا رسالہ “ بادشاہ کی سڑی ہوئی لاش “ پڑھ یا سُن لے ، اُس کے سارے گناہ مُعاف فرما اوراُسے اپنا مقبول بندہ بناکر بے حساب مغفرت سے نوازدے۔

 آمین بجاہ النبی الامین  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  

دُرود شریف کی فضیلت

حضرت علامہ مَجدُالدّین فیروز آبادی  رحمۃُ اللہ علیہ  سے منقول ہے : جب کسی مجلس میں (یعنی لوگوں میں)بیٹھواورکہو : بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ وَصَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد تو اللہ پاک تم پر ایک فِرِشتہ مقرّر فرمادے گا جو تم کو غیبت سے بازرکھے گا۔ اور جب مجلس سے اُٹھو تو کہو : بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ وَصَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد تو فِرِشتہ لوگوں کو تمہاری غیبت کرنے سے بازرکھے گا ۔

(القول البدیع ، ص278)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب                                                         صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد

غیبت نیکیوں کو جَلا دیتی ہے

آہ!ہمارے مُعاشَرے کی بربادی ! افسوس صد کروڑ افسوس !غیبت کرنے اور سننے کی عادت نے ہر طرف تباہی مچا رکھی ہے۔ منقول ہے : آگ بھی خشک لکڑیوں کو اتنی جلدی نہیں جلاتی جتنی جلدی غیبت بندے کی نیکیوں کوجلا کر رکھ دیتی ہے۔ (احیاءالعلوم ، 3 / 183)

میری نیکیاں کہاں گئیں؟

اے عاشقانِ رسول!غیبت کی تباہ کاریوں میں سے یہ بھی ہے کہ اِس کی وجہ سے نیکیاں ضائِع ہو جاتی ہیں جیسا کہ اللہ پاک کی عطا سے غیب کی خبریں دینے والے پیارے پیارے آقا  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم   نے ارشاد فرمایا : بے شک قیامت کے روزانسان کے پاس اس کا کُھلا ہو انامۂ اعمال لایا جائے گا ، وہ کہے گا : میں نے جو فُلاں فُلاں نیکیاں کی تھیں وہ کہاں گئیں؟ کہا جائے گا : تُو نے جو غیبتیں کی تھیں اس وجہ سے مٹا دی گئی ہیں۔  (الترغیب والترہیب ، 3 / 332 ، حدیث : 30 )

قِیامت میں ایک ایک لفظ کا حساب ہو گا

پیارے پیارےاِسلامی بھائیو!آہ!بروزِ قِیامت ایک ایک لفظ کا حساب ہو گا ۔ غور کیجئے !اس فانی دُنیا میں “ عمرِ عزیزکے چار دن “  گزارنے کے بعدہمیں اندھیری قَبْر میں اُتار دیا جائے گااور پھر اس کی وَحشَت آمیز تنہائیوں میں نہ جانے کتنا عرصہ ہمارا قِیام ہوگا ۔ پھر جب عرصۂ مَحشَر میں حساب و کتاب کیلئے حاضِری ہو گی تو اپنا ہرہر عمل اپنے نامۂ اعمال میں لکھا ہوا دِکھائی دے گا جیسا کہ قرآنِ مجید ، فرقانِ حمید کے پارہ 30 سورۃُ الزِّلزال آیت نمبر 6تا8میں ارشاد ہوتا ہے :

یَوْمَىٕذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا ﳔ لِّیُرَوْا اَعْمَالَهُمْؕ(۶) فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ(۷) وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠(۸)

ترجَمۂ کنز الایمان : اس دن لوگ اپنے رب کی طرف پھریں گے کئی راہ ہوکر تاکہ اپنا کیا دکھائے جائیں تو جو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا اور جو ایک ذرّہ بھر برائی کرے اسے دیکھے گا ۔

آہ!اللہ قدیرکی خُفیہ تدبیر ہمارے بارے میں کیا ہے کچھ نہیں معلوم ، آیا بارگاہِ ربُّ العزّت سے پروانۂ مغفِرت جاری ہوگا یا(مَعاذَ اللہ) دُخولِ جہنَّم کا حکم ملے گااس کا کچھ نہیں پتا ۔ (نَسْئَلُ الْعَافِیَةَ یعنی ہم عَافیت کا سُوال کرتے ہیں)

گر تُوناراض ہوا میری ہلاکت ہوگی!          ہائے! میں نارِ جہنّم میں جلوں گا یارب

عَفْوکر اور سدا کے لئے راضی ہو جا                               گر کرم کردے تو جنَّت میں رہوں گا یارب

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب                                  صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد

تُوبُوا اِلَی اللہ! اَسْتَغْفِرُاللہ

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب                                  صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد

جس کی غیبت کی جائے وہ فائدے میں

جب آپ کو معلوم ہو کہ میری غیبت کی گئی ہے تو سِیخ پا ہونے(یعنی غصّے میں آ جانے) کے بجائے صبر و تحمل سے کام لیجئے اور یوں بھی نقصان اُسی کا ہوتا ہے جس نے غیبت کی ، جس کی غیبت کی گئی وہ توفائدے ہی میں رہتا ہے چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا ابو اُمامہ  رضی اللہ عنہ   فرماتے ہیں : بندے کو قِیامت کے دن جب اس کا نامۂ اعمال دیا جائے گا تو وہ اُس میں ایسی نیکیاں دیکھے گا جو اِس نے نہ کی ہوں گی ، عرض کرے گا : اے میرے رب!یہ میرے  لیے کہاں سے آگئیں ؟ کہا جائے گا : یہ وہ نیکیاں ہیں جو لوگوں نے تمہاری غیبت کی تھی۔

   (تنبیہ المغترین ، ص192)

 



Total Pages: 6

Go To