Book Name:Kaam Ki Batain

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

کام کی باتیں

دُعائے عطار : یا اللہ پاک!جو کوئی 17صفحات کا رِسالہ’’کام کی باتیں‘‘پڑھ یا سُن  لے اُس کے دُنیا وآخرت کے کام بنادے اوراُسےاپنے پیارے پیارے آخری نبی  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  کی شفاعت سے جنّتُ الفردوس  میں بلا حساب داخلہ نصیب فرما۔ اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ۔

دُرود شریف کی فضیلت

اللہ پاک کےآخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  نے اِرشادفرمایا : جس نے مجھ پر سو مرتبہ دُرُودِ پاک پڑھا اللہ پاک اُس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھ دیتا ہےکہ یہ نفاق اور جہنم کی آگ سے آزاد ہے اور اُسے بروزِ قیامت شہدا کے ساتھ رکھے گا۔                                  (معجم اوسط ، 5 / 252 ، حدیث : 7235)

صَلُّوا  عَلَی الْحَبِیب                                                    صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد

49انتہائی کار آمدمَدَنی پھول

                             (1)رات کو دروازہ بند کرتے وقت گھر کے اندر اچھی طرح دیکھ بھال کر لیجئے کہ کوئی اجنبی یا کتا ، بلی اندر تو نہیں رہ گیا یہ عادت ڈال لینے سے اِن شاءَ اللہ! گھرمیں کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ (2) گھراورگھرکےتمام سامانوں کو صاف ستھرارکھئےاورہرچیز کو اس کی جگہ پر رکھئے۔ (3) سب گھروالے آپس میں طےکر لیں کہ فُلاں چیز فُلاں جگہ پر رہے گی پھر سب گھر والے اس کے پابند ہو جائیں کہ جب اس چیز کو وہاں سے اُٹھائیں تو استعمال کر کے پھر اسی جگہ رکھ دیں تاکہ ہر آدمی کو بغیر پوچھے اور بلا ڈھونڈے وہ مل جایا کرے اورضرورت کے  وقت تلاش کرنےکی حاجت نہ پڑے۔ (4)گھر کےتمام برتنوں کو دھو ، مانجھ کر کسی الماری یا طاق پر الٹا کر کے رکھ دیجئے اور پھر دوبارہ اس برتن کو استعمال کرنا ہو تو پھر اس برتن کو بغیر دھوئے استعمال مت کیجئے۔ (5)کوئی جُوٹھا برتن یا غذا یا دوا لگا ہوا برتن ہرگز ہرگز نہ رکھ دیا کریں ، جُوٹھے یا غذاؤں اور دواؤں سے آلودہ برتنوں میں جراثیم پیدا ہوتے ہیں اور طرح طرح کی بیماریوں کے پیدا ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ (6)اندھیرے میں بلا دیکھے ہر گز ہرگز پانی نہ پئیں نہ کھانا کھائیں ۔ (7)گھر یا آنگن کے راستہ میں چار پائی یا کرسی یا کوئی برتن یا کوئی سامان مت ڈال دیا کریں ایسا کرنے سے بعض دفعہ روز کی عادت کے مطابق بے کھٹکے چلے آنے والے کو ٹھوکر ضرور لگتی ہے اور بعض مرتبہ تو سخت چوٹیں بھی لگ جاتی ہیں ۔ (8) صُراحی (Pitcher) کے منہ یا لوٹے کی ٹونٹی سے منہ لگا کر ہر گز کبھی پانی نہ پئیں کیونکہ اولاً  تو  یہ خلافِ تہذیب ہے دوسرا یہ خطرہ ہے کہ صُراحی یا ٹُونٹی میں کوئی کیڑا مکوڑا چھپا ہو اور وہ پانی کے ساتھ  پیٹ میں چلا جائے۔ (9)ہفتہ یا دس دنوں میں ایک دن گھر کی مکمل صفائی کے لیے مقرر کرلیجئے اس دن پورے مکان کی صفائی کر لیجئے۔ (10)دن رات بیٹھے رہنا یا پلنگ پر سوئے یا لیٹے رہنا تندرستی کے لیے بے حد نقصان دہ ہے۔ اسلامی بھائیوں کو صاف اورکھلی ہوا میں کچھ چل پھر لینا اور اسلامی بہنوں کو کچھ محنت کا کام ہاتھ سےکر لیناتندرستی کےلیے بہت ضَروری ہے۔ (11)جس جگہ چند آدمی بیٹھے ہوں اس جگہ بیٹھ کر نہ تُھوکیں نہ کھنکھار نکالیں نہ ناک صاف کریں کہ خلافِ تہذیب بھی ہے اور دوسروں کے لیےگھن پیدا کرنے والی چیز ہے۔ (12)دامن یا آنچل یا آستین سے ناک صاف نہ کریں نہ ہاتھ منہ ان چیزوں سے پونچھیں کیونکہ یہ گندگی ہے اور تہذیب کے خلاف بھی۔ (13) جوتی اور کپڑا یا بستر استعمال سے پہلے جھاڑ لیا کریں ممکن ہےکوئی مُوذِی جانور بیٹھا ہو جو بے خبری میں آپ کو ڈس لے۔ (14)چھوٹے بچوں کو کھلاتے بہلاتے کبھی ہرگز ہرگز اُچھال اُچھال کر نہ کھِلائیں خدا نخواستہ ہاتھ سے چھوٹ گیا تو بچے کی جان خطرہ میں پڑ جائے گی۔ (15)بیچ دروازہ میں نہ بیٹھا کریں سب آنے جانے والوں کو تکلیف ہوگی اور خود آپ بھی تکلیف اٹھائیں گے۔ (16)اگر پوشیدہ جگہوں میں کسی کے پھوڑا پھنسی(Rashes and Pimples)  یا دَردو وَرم ہو تو اُس سے یہ مت پوچھئے کہ کہاں ہے؟ اس سے خواہ مخواہ اُس کو شرمندگی ہوگی۔ (17) بَیْت ُالخلاء یا غسل خانہ سے کمر بند یا تہبند یا ساڑھی باندھتے ہوئے باہر نہ نکلیں بلکہ اندر ہی سے باندھ کر باہر نکلیں ۔ (18)جب آپ سے کوئی شخص کوئی بات پوچھے تو پہلے اس کا جواب دیجئے اس کے بعد ہی دوسرا کام کیجئے۔ (19)جو بات کسی سے کہیں یا کسی کا جواب دیں تو صاف صاف بولیں اور اتنی آواز سے بولیں کہ سامنے والا اچھی طرح سن اور سمجھ لے۔ (20)اگر کسی کے بارے میں کوئی پوشیدہ بات کسی سے کہنی ہو اور وہ شخص اس مجلس میں موجود ہوتوآنکھ یا ہاتھ سے بار بار اس کی طرف اشارہ مت کیجئے کہ ناحق اس شخص کو طرح طرح کے شُبُہات ہوں گے۔ (21)کسی کو کوئی چیز دینی ہو تو اپنے ہاتھ سے اس کے ہاتھ میں دیجئے یا برتن میں رکھ کر اس کے سامنے پیش کیجئے ، دور سے پھینک کر کوئی چیز کسی کو مت دیجئے کہ شاید اس کے ہاتھ میں نہ پہنچ سکے اور زمین پر گر کر ٹوٹ پھوٹ جائے یا خراب ہو جائے۔ (22)اگر کسی کو پنکھا کریں تو اس کا خیال رکھیں کہ اس کے سر یا چہرہ یا بدن کے کسی حصہ میں پنکھا لگنے نہ پائے اور پنکھے کو اتنے زور سے بھی نہ جھلا کریں کہ خودآپ یا دوسرے پریشان ہوجائیں ۔ (23)میلے کپڑے جو دھوبی کے یہاں جانے والے ہوں ان کو گھر میں اِدھر اُدھر پڑے یا بکھرے ہوئے زمین پر نہ رہنے دیں بلکہ مکان کے کسی کونے میں لکڑی کا ایک معمولی بکس رکھ لیجئے اور سب میلے کپڑوں کو اُسی میں جمع کرتے رہئے۔

(24)اپنے اُونی کپڑوں کو کبھی کبھی دھوپ میں سکھا لیا کریں اور کتابوں کو بھی تاکہ کیڑے مکوڑے کپڑوں اور کتابوں کو کاٹ کر خراب نہ کر سکیں ۔ (25)جہاں کوئی آدمی بیٹھا ہو وہاں گَردو غبار والی چیزوں کو نہ جھاڑیں ۔ (26)کسی دُکھ یا پریشانی یا غم اور بیماری وغیرہ کی خبروں کو ہرگز اس وقت تک نہیں کہنا چاہیے جب تک کہ اس کی خوب اچھّی طرح تحقیق نہ ہو جائے۔



Total Pages: 5

Go To