Book Name:Mah e Ramzan Aur Ameer e Ahl e Sunnat

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْن ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم ط بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ط

ماہِ رمضان اور امیرِ اہلِ سنّت

دُعائےجانشینِ عطار : یا اللہ پاک!جو کوئی 27صفحات کا رسالہ ’’عاشقِ رَمضان‘‘پڑھ یا سُن لے اُسے عاشقِ رَمضان کے صدقے رَمضانُ المبارک کا حقیقی قدردان بنا کر فیضانِ رَمضا ن سے مالامال فرما اوررَمضانُ المبارک کو اُس کی بے حسا ب بخش کا ذریعہ بنا۔ اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم

دُرُود شریف کی فضیلت

                             فرمانِ مصطفےٰ  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم : جس کےپاس میرا ذِکر ہوا اور اُس نے مجھ پر دُرُودِ پاک نہ پڑھا اُس نے جنّت کا راستہ چھوڑ دیا۔ (معجم  کبیر ، 3 / 128 ، حدیث : 2887 )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                                                               صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

نوجوانوں کا اعتکاف

1399ہجری مطابق 1979ء کی بات ہےکہ’’نورمسجد‘‘      کاغذی بازار ، کراچی کے 29سالہ اِمام صاحب نے زندگی میں پہلی بار ماہِ رَمضانُ المبارک کےآخری عشرےکا ’’اعتکاف‘‘  کیا۔ مسجدمیں اِمام صاحب کے عِلاوہ اورکوئی معتکف نہ تھا۔ رات کو دوست احباب آجاتےتو رونق رہتی ، عموماًصبح امام صاحب مسجد میں اَکیلے ہوتے تھے ، چونکہ خیرخیرات کرنے والی میمن کمیونٹی کا علاقہ تھا ، بھیک مانگنےوالوں کی صداؤں  اور مدارس کے لئے چند ہ لینے والوں کے مائیک میں اعلانات کےسبب آرام میں رُکاوٹ ہوتی ، مسلسل بے آرامی کےسبب  وہ امام صاحب کو بخار ہوگیا  قریب تھا کہ امام صاحب دِلبرداشتہ ہو کر گھر تشریف لےجاتےاوراعتکاف توڑ دیتےمگر اللہ پاک کی رحمت یوں شامل ِ حال ہوئی کہ  حضرت مولاناقاری مصلح الدّین رحمۃ اللہ علیہتشریف لائے ، تسلی کاسامان ہوا اور امام صاحب نے اپنا دس دِن کا اعتکاف مکمل کرلیا۔ امام صاحب کے دِل پررمضانُ  المبارک کی محبت و عقیدت پہلے  ہی نقش تھی ، مزید برکت ملی اور آئندہ سال نہ صِرف دوبارہ اعتکاف کا ذہن بنا بلکہ دوسروں کو بھی اپنے ساتھ اعتکاف کرنے کے لئے تیار کرنے لگے چنانچہ امام صاحب  کی کوشش سےدوعاشقانِ رسول اعتکاف کے لئے تیار ہوگئے ،  امام صاحب کو تو اعتکاف کا مزہ آگیا ، وہ مزیداسلامی بھائیوں کو اعتکاف کے لئے تیار کرتے رہے’’اللہ پاک کسی کی محنت ضائع نہیں فرماتا‘‘ بالآخر1401ہجری مطابق 1981ء کو اُس مسجد کے اندرتقریباً28نوجوان اعتکاف کے لئے آگئے ، اور دُھوم پڑ گئی ، امام صاحب کا یہ عظیم الشان کام مشہور ہوگیا کہ نُور مسجد میں 28نوجوان دس دِن کا اعتکاف کررہے ہیں ، حالانکہ اِس سے قبل صورتحال یہ تھی کہ مساجد میں عام طور پر اِکّا دُکّا بڑی عمر کے صاحبان اعتکاف کرتےبلکہ کہیں کہیں تو کسی ایک آدھ بُزرگ(یعنی بڑی عمر کےشخص) کی مِنّت سماجت کرکے اُن کو اعتکاف میں  بِٹھایا جاتا اورمختلف گھروں سے سحری وافطاری میں کھانا وغیرہ بھیج دیاجاتا ، یقیناًاِس طرح کے حالات میں 28عاشقانِ رسول اوروہ بھی نوجوانوں کا ایک مسجد میں اعتکاف کے لئے جمع ہوجانا بڑے کمال کی  بات تھی ، امام صاحب نہایت شریف ، مخلص ، عبادت گزار ، دین ِ اسلام کی خاطر قربانی کا جذبہ رکھنے والےاللہ پاک کےنیک بندےتھے ، جن کی مسلسل نیکی کی دعوت سے دنیا بھر میں اِعتکاف کی دُھومیں مچ گئیں۔ (ماہنامہ فیضانِ مدینہ ، اگست 2017 ، ص38)

               پیارےاِسلامی بھائیو! آپ جانتے ہیں کہ وہ نیک صفت ، عاشقِ رمضان ، امام صاحب کون ہیں؟ وہ  شریعت و طریقت کے پابند ، بااخلاق وباکردار امیرِاہلِ سنت بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارقادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ  تھے۔ اللہ ربُّ العزَّت کی امیرِاہلِ سُنت پر رَحمت ہو اور اِن کےصَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔ اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم

مسلک کا تُو اِمام ہے اِلیاس قادری                تدبیر تیری تام ہے الیاس قادری

تنہا چلا تُو ساتھ تِرے ہو گیا جہاں                      میٹھا تیرا کلام ہے الیاس قادری

سنّت کی خوشبؤوں سے زمانہ مہک اُٹھا                     فیضان تیرا عام ہے الیاس قادری

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیْب !                                                                                            صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

پیارےاِسلامی بھائیو! ماہِ رمضان کےقربان جائیں ، اعتکاف تو رمضانُ المبارک کی صِرف ایک عبادت ہے ورنہ سارے کاسارا رمضانُ المبارک عبادتوں ، رحمتوں ، برکتوں  کی کان ہے ، اللہ پاک کا اپنے پیارے پیارےآخری نبی کی اُمت پریہ بہت بڑا احسان ہے کہ  اُس نے ماہِ رمضان  جیسا عظیم ُالشان ’’مہمان‘‘ عطا فرمایاہے۔ رمضانُ المبارک کی اہمیت  کے لئے تویہی ایک فرمانِ مصطفےٰ  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  کافی ہےکہ اگر بندوں کو معلوم ہوتا کہ رَمضان کیا ہےتو میری اُمت تمنا کرتی کہ کاش! پورا سال رَمضان ہی ہو۔

 (ابن خزیمہ ، 3 / 190 ، حدیث : 1886)

ہر گھڑی رحمت بھری ہے ہر طرف ہیں برکتیں

ماہِ رَمضاں رحمتوں اور برکتوں کی کان ہے

اے عاشقانِ رمضان!ماہِ رَمضان کے فیضان کے کیا کہنے ! اِس کی تو ہر گھڑی رَحمت بھری ہے ، رَمضانُ المبارَک میں ہر نیکی کا ثواب70 گنا یا اس سے بھی زیادہ ہے۔ (مراٰۃ المناجیح ، 3 /



Total Pages: 9

Go To