Book Name:Seerat e Mustafa صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلّم

کیاحضرت شیر خدا نے تلوار کے اس وار کو اپنی ڈھال پر روکا، یہ وار اتنا سخت تھا کہ تلوار ڈھال اور عمامہ کو کاٹتی ہوئی پیشانی پر لگی گو بہت گہرا زخم نہیں لگامگر پھر بھی زندگی بھریہ طغریٰ آپ کی پیشانی پر یادگار بن کر رہ گیاحضرت علی شیر خدا رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے تڑپ کر للکارا کہ اے عمرو! سنبھل جااب میری باری ہے یہ کہہ کر اسد اﷲ الغالبکرم اللہ  تَعَالٰی وجہہ الکریمنے ذوالفقار کا ایسا جچا تلا ہاتھ مارا کہ تلوار دشمن کے شانے کو کاٹتی ہوئی کمر سے پار ہو گئی اور وہ تلملا کر زمین پر گرااور دم زدن میں مر کر فی النار ہو گیااور میدان کارزار زبان حال سے پکار اٹھا کہ   ؎

شاہِ مرداں ،  شیرِ یزداں  قوتِ  پرورد گار

لَا فَتٰی   اِلَّا عَلِی   لَا سَیْفَ   اِلَّا ذُوالْفِقَار

            حضرت علی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے اس کو قتل کیااور منہ پھیر کر چل دیئے حضرت عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ اے علی!کرم اللہ  تَعَالٰیوجہہ الکریمآپ نے عمرو بن عبدود کی زرہ کیوں نہیں اتار لی ؟سارے عرب میں اس سے اچھی کوئی زرہ نہیں ہے آپ نے فرمایا کہ اے عمر!رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَذوالفقار کی مار سے وہ اس طرح بے قرار ہو کر زمین پر گرا کہ اس کی شرمگاہ کھل گئی اس لئے حیاء کی وجہ سے میں نے منہ پھیر لیا۔ ([1])    (زُرقانی ج۲ ص۱۱۴و۱۱۵)

نوفل کی لاش

            اس کے بعد نوفل غصہ میں بپھرا ہوا میدان میں نکلااور پکارنے لگا کہ میرے مقابلہ کے لئے کون آتا ہے؟ حضرت زبیر بن العوام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُاس پر بجلی کی طرح جھپٹے اور ایسی تلوار ماری کہ وہ دو ٹکڑے ہو گیا اور تلوار زین کو کاٹتی ہوئی گھوڑے کی کمر تک پہنچ گئی لوگوں نے کہا کہ اے زبیر!رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَتمہاری تلوار کی تو مثال نہیں مل سکتی آپ نے فرمایاکہ تلوار کیا چیز ہے؟ کلائی میں دم خم اور ضرب میں کمال چاہیے۔ ہبیرہ اور ضرار بھی بڑے طنطنہ سے آگے بڑھے مگر جب ذوالفقار کا وار دیکھا تو لرزہ براندام ہو کر فرار ہو گئے کفار کے باقی شہسوار بھی جو خندق کو پار کرکے آ گئے تھے وہ سب بھی بھاگ کھڑے ہوئے اور ابو جہل کا بیٹا عکرمہ تو اس قدر بدحواس ہو گیا کہ اپنا نیزہ پھینک کر بھاگا اور خندق کے پار جا کر اس کو قرار آیا۔([2]) (زرقانی جلد ۲ )

            بعض مؤرخین کا قول ہے کہ نوفل کو حضرت علی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے قتل کیااور بعض نے یہ کہا کہ نوفل حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپر حملہ کرنے کی غرض سے اپنے گھوڑے کو کودا کر خندق کو پار کرنا چاہتا تھا کہ خود ہی خندق میں گر پڑااور اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مر گیابہر حال کفار مکہ نے دس ہزار درہم میں اس کی لاش کو لینا چاہاتاکہ وہ اس کو اعزاز کے ساتھ دفن کریں حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے رقم لینے سے انکار فرما دیا اور ارشاد فرمایا کہ ہم کو اس لاش سے کوئی غرض نہیں مشرکین اس کو لے جائیں اور دفن کریں ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔([3]) (زرقانی جلد۲ ص۱۱۴)

            اس دن کاحملہ بہت ہی سخت تھادن بھرلڑائی جاری رہی اوردونوں طرف سے تیراندازی اورپتھربازی کاسلسلہ برابرجاری رہااورکسی مجاہدکااپنی جگہ سے ہٹنانا ممکن تھا، خالد بن ولید نے اپنی فوج کے ساتھ ایک جگہ سے خندق کو پار کر لیا اور بالکل ہی ناگہاں حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے خیمہ اقدس پر حملہ آور ہو گیامگر حضرت اسید بن حضیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے اس کو دیکھ لیا اور دو سو مجاہدین کو ساتھ لے کر دوڑ پڑے اور خالد بن الولید کے دستہ کے ساتھ دست بدست کی لڑائی میں ٹکرا گئے اور خوب جم کر لڑے اس لئے کفار خیمہ اطہر تک نہ پہنچ سکے ۔ ([4])(زرقانی جلد۲ ص۱۱۷)   

اس گھمسان کی لڑائی میں حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی نماز عصر قضا ہو گئی۔ بخاری شریف کی روایت ہے کہ حضرت عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُجنگ خندق کے دن سورج غروب ہونے کے بعد کفار کو برا بھلا کہتے ہوئے بارگاہ ِرسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمیں نماز عصر نہیں پڑھ سکا ۔تو حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ میں نے بھی ابھی تک نماز عصر نہیں پڑھی ہے پھر آپ نے وادی بطحان میں سورج غروب ہو جانے کے بعد نماز عصر قضا پڑھی پھر اس کے بعد نماز مغرب ادا فرمائی۔ اور کفار کے حق میں یہ دعا مانگی کہ

مَلَاَ اللہ   عَلَیْہِمْ بُیُوْتَھُمْ وَقُبُوْرَھُمْ نَارًا کَمَا شَغَلُوْنَا عَنِ الصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی حَتّٰی غَابَتِ الشَّمْسُ([5]) (بخاری ج۲ص۵۹۰)

اﷲ ان مشرکوں کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے ان لوگوں نے ہم کو نماز وسطیٰ سے روک دیایہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔

جنگ خندق کے دن حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے یہ دعا بھی فرمائی کہ :

 



[1]      المواھب اللدنیۃ و شرح الزرقانی، باب غزوۃ الخندق۔۔۔الخ، ج۳، ص۴۲ملخصاً

[2]      المواھب اللدنیۃ و شرح الزرقانی، باب غزوۃ الخندق۔۔۔الخ، ج۳، ص۴۳ملخصاً

3      المواھب اللدنیۃ و شرح الزرقانی، باب غزوۃ الخندق۔۔۔الخ، ج۳، ص۴۱، ۴۳ملتقطاً

شرح الزرقانی علی المواھب، باب غزوۃ الخندق۔۔۔الخ، ج۳، ص۴۷ملخصا     [4]

[5]      صحیح البخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ الخندق، الحدیث : ۴۱۱۱، ۴۱۱۲،     ج۳، ص۵۴



Total Pages: 295

Go To