Book Name:Saya e Arsh Kis Kis ko Milay ga?

٭…احادیث کی تخریج اصل ماخذسے کرنے کی کوشش کی گئی ہے اورباقی حوالہ جات میں جوکتب دستیاب ہوسکیں ان سے تخریج کی گئی ہے۔

 ٭… مشکل الفاظ کے معانی ومطالب بریکٹ میں لکھ دئیے گئے ہیں اوربعض الفاظ پر اعراب لگائے گئے ہیں۔

٭…جہاں ’’اصول حدیث ‘‘کی اصطلاحات ہیں ان کی حاشیہ میں وضاحت کردی گئی ہے۔

٭…علاماتِ ترقیم (رُمُوزِاوقاف)کاخاص خیال رکھا گیاہے ۔

٭…مطالعہ کرنے والے غیرعالِم اسلامی بھائیوں کی دلچسپی برقراررکھنے کے لئے احادیث کریمہ کی اسنادذکرنہیں کی گئیں۔

        الغرض!یہ کتاب آپ تک پہنچانے کے لئے ’’ دعوتِ اسلامی‘‘ کے مدنی اسلامی بھائیوں نے مسلسل کوشش کی ہے۔ اگر اس ترجمہ میں کوئی خوبیاں ہیں تو اللہعَزَّوَجَلَّ  کی عطا ، میٹھے میٹھے مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عنایتوں اورعلماء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی بالخصوص شیخ طریقت اَمیرِاہلسنت حضرت علامہ مولانامحمدالیاس عطارقادری مدظلہ العالی کی برکتوں کا نتیجہ ہے اوراگر اس میں کوئی خامی ہو تو ہماری نادانستہ کوتاہی کی وجہ سے ہے۔

          اس کتاب کامطالعہ کر نے والے اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں سے گزارش ہے کہ اسے نہ صرف خود پڑھیں بلکہ دوسروں کوبھی اس کے پڑھنے کا ذہن دے کرنیکی کی دعوت عام کرنے کا ثواب کمائیں نْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ !اس کی برکت سے آپ کودین ودنیاکی نعمتیں حاصل ہوں گی ۔ اللہ عزوجل سے دعاہے کہ ہمیں ’’اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش‘‘ کرنے کے لئے مدنی اِنعامات پرعمل اور مدنی قافلوں میں سفرکرنے کی توفیق عطا فرمائے اوردعوت اسلامی کی تمام مجالس بشمول مجلس المدینۃ العلمیۃکودن پچیسویں رات چھبیسویں ترقی عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

شعبہ تراجِم کتب (مجلس المدینۃ العلمیۃ)

 سرکارِمدینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’آدمی کا اپنے والدین کو گالیاں دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ ‘‘ عرض کی گئی : ’’کیا کوئی شخص اپنے والدین کو بھی گالیاں دے سکتاہے؟‘‘ تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ہاں! جب آدمی کسی شخص کے والدین کو گالیاں دیتا ہے تو وہ جواب میں اس کے والدین کو گالیاں دیتاہے۔ ‘‘ (صحیح مسلم ، کتاب الایمان ، با ب الکبائرواکبرھا ، الحدیث : ۲۶۳ ، ص۶۹۳)

تعارُفِ مُصنّف

 نام ونسب :

          لقب : جلال الدین ، کنیت : ابو الفضل ، نام ونسب : عبد الرحمن بن ابو بکر بن محمد بن ابو بکر بن عثمان بن محمد بن خضر بن ایوب بن محمد بن ہمام ، اورنسبت : خُضَیْرِی مصری سیوطی شافعی رحمہم اللہ تعالیٰ

 ولاد تِ باسعادت :

           آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۸۴۹ ہجری دریائے نیل کے کنارے قدیم قصبہ سُیُوْط میں پیدا ہوئے ، اسی نسبت سے آپ کو سیوطی کہا جاتاہے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِابھی پانچ برس کے تھے کہ والدِگرامی قدس سرہ السامی انتقال فرماگئے ۔

 تعلیم وتربیت :

             امام جلال الدین سیوطی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ صرف نامور مصنف ، بلند پایہ مفسر ، محد ث ، فَقیہ ، ادیب ، شاعر ، مؤرّخ اورماہر لغت ہی نہ تھے بلکہ اپنے زمانے کے مجدِّدبھی تھے ۔ آپ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا حافظہ نہایت قوی تھا ، آٹھ برس کی عمرمیں قرآن مجیدحفظ کرلیاپھردیگر علوم وفنون کے حصول میں مصروف ہوگئے ، علمِ حدیث میں بدرالمحدثین علامہ بدرالدین عینی  حنفی علیہ رحمۃ اللہ الغنی ، حافظ سخاوی  علیہ رحمۃ اللہ الکافی اور دیگرجلیل القدر محدثین رحمہم اللہ تعالیٰ سے استفادہ کیا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے تصوف اور سلوک کی منازل مشہور صوفی بزرگ شیخ کمال الدین محمد بن محمد مصری شافعی علیہ رحمۃاللہ الوافی کے زیر سایہ طے کیں اورانہی کے

دستِ مبارک سے خرقۂ تصوف پہنا او ر خَلقِ خدا کو فیض یاب کیا۔

          آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکو۸۷۱ہـ میں جَامِعَہ شَیْخُوْنِیَہ میں شیخ الحدیث کا منصب ملا ، اسی جامعہ میں درس وتدریس کے دوران قاضی عیاض رَحْمَۃُ اللہِ



Total Pages: 67

Go To