Book Name:Saya e Arsh Kis Kis ko Milay ga?

            (۱)اَلدُّ رُّ الْمَنْثُوْرُ فِی التَّفْسِیْرِ بِالْمَاثُوْر(۲)اَلْاِتْقَانُ فِیْ عُلُوْمِ الْقُرْاٰن (۳)جَمْعُ الْجَوَامِع اَوِالْجَامِعُ الْکَبِیْر(۴)اَلْجَامِعُ الصَّغِیْر(۵)تَدْرِیْبُ الرَّاوِی فِیْ تَقْرِیْبِ النَّوَاوِی (۶)طَبَقَاتُ الْحُفَّاظ(۷)اَلَّلائِی الْمَصْنُوْعَۃُ فِی الْاَحَادِیْثِ الْمَوْضُوْعَۃ(۸)قُوْتُ الْمُغْتَذِی عَلٰی جَامِعِ التِّرْمِذِی(۹)تَفْسِیْرُ الْجَلَالَیْن  (۱۰)لُبَابُ الْنَقُوْل فِیْ اَسْبَابِ النُّزُوْل (۱۱)اَلاَکلِیْلُ فیِ اِسْتِنْبَاطِ الْتَنْزِْل(۱۲)اَلْحَاوِیْ لِلْفَتَاوٰی ۔

وفات  :

           ۹۰۶ ہجری میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   اپنے گھر’’ رَوْضَۃُ الْمِقْیَاس‘‘ میں خلوت نشین ہوگئے ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   کا دل دُنیا اور اہل دنیا سے اُکتاگیا ، ہمہ تن یادِ الٰہی عَزَّوَجَلَّمیں مشغول رہنے لگے  ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کاوصال۱۹جمادی الاولیٰ ۹۱۱ھ میں ہوا ۔ اس طرح آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   نے ۶۲سال کی عمرپائی ۔

{اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی اُن پر رحمت ہو ۔  ۔ ا ور ۔ ۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو }

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

 عوتِ اسلامی کے سنتوں کی تربیت کے مدنی قافلوںمیں سفراورروزانہ فکرمدینہ کے ذریعے مدنی انعامات کارسالہ پرکرکے ہرمدنی (اسلامی) ماہ کے ابتدائی دس دن کے اندراندراپنے یہاں کے (دعوت اسلامی کے ) ذمہ دارکوجمع کروانے کامعمول بنالیجئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی برکت سے پابندسنت بننے ، گناہوں سے نفرت کرنے اورایمان کی حفاظت کے لئے کڑہنے کاذہن بنے گا ۔

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم

 اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الْعَظِیْمِ الَّذِیْ لَاظِلَّ اِلَّاظِلَّہٗ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی مُحَمَّدِنِالَّذِیْ عَلَامَقَامُہٗ وَرَفَعَ مَحَلُّہٗ

          تمام تعریفیں عظمت والے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں کہ بروزِقیامت جس کے سایۂ رحمت کے سواکوئی سایہ نہ ہوگااور درود و سلام ہوحضرت سیِّدُنا محمدمصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم پر جن کا مقام بلند اور مرتبہ اونچا ہے ۔

 اَمَّا بَعْدُ!

          مشہور حدیث پاک میں سات ایسے خوش نصیبوں کا ذکرہے جنہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے عرشِ عظیم کا سایہ عطا فرمائے گا اورانہی سات خوش نصیبوں کا ذکر شیخ ابو شامہ نے بھی اپنے دو اشعار میں کیا ہے  ۔

           طویل عرصہ مشائخ اس بارے میں بحث و تمحیص کرتے رہے کہ کیا ان سات کے علاوہ کسی آٹھویں شخص کو بھی عرشِ عظیم کا سایہ نصیب ہو گا یا نہیں ؟شیخ الاسلام ابوالفضل امام ابن حجر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ان سات افرادپر ان لوگوں کا اضافہ فرمایا جن کاذکر احادیث صحاح میں آیا ہے  ۔ اور ان کو اپنے دو اشعار میں جمع کردیا پھر مزید تلاش کی تواَب سات کے بجائے دُگنے (یعنی چودہ )ہوگئے ۔ اوران کوچاراشعار میں جمع کیا ہے ۔

          (حضرت مصنف علامہ سیوطی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی  فرماتے ہیں )’’عرش کا سایہ پانے والوں کے بارے میں میرے پاس ان سے بھی زیادہ احادیث ہیں جو کہ دیگر اعمال وخصائل کے بارے میں ہیں ، اور ان سب افرادکاذکر میں نے اس کتاب میں جمع کردیا ہے ۔  جس میں اس(باب )کے اصول اوربنیادی باتوں کو بیان کیا ہے ، صرف ترغیب ہی نہیں دلائی بلکہ تمام احادیث کے ساتھ ان کے تمام شواہد تصریحاً یا اشارتاً ذکرکردئیے ہیں اور اس کا نام ’’تَمْہِیْدُ الْفَرْشِ فِی الْخِصَالِ الْمُوْجِبَۃِ لِظِلِّ الْعَرْشِ(یعنی سایۂ عرش کامستحق بنانے والے اعمال کے لئے راہ کوہموارکرنا) رکھاہے ۔  میں اللہ تَعَالٰی ہی سے بھلائی کی توفیق اور سیدھے راستہ پر چلنے کاسوال کرتا ہوں ۔ ‘‘

سایۂ عرش پانے والے پہلے سات اشخاص

(۱)…حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ اورحضرت سیِّدُناابو سعیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاروایت کرتے ہیں کہ حضورنبی ٔپاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمان عالیشان ہے  : ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ سات اشخاص کواپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گاجس دن اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عرش کے



Total Pages: 67

Go To