Book Name:Saya e Arsh Kis Kis ko Milay ga?

شہادت ، جنّت البقیع میں مدفن اور جنّت الفردوس میں جگہ نصیب فرمائے ۔  آمین بجاہ النبی الامین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

             رمضان المبارک ۱۴۲۵ھ

پہلے اسے پڑھ لیجئے!

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

          عقل انسانی کو حیرت زدہ کردینے والا عرشِ عظیم بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہے جو بغیر ستونوں کے قائم ہے اور اس کی قدرت کا عظیم شاہکار ہے ۔ اورمخلوقِ خداوندی میں سب سے بڑا ہے جیسا کہ مفسِّرِ قرآن امام ابوعبداللہ محمدبن احمدانصاری قرطبی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں : ’’ عرش ، اللہعَزَّوَجَلَّ کی مخلوقات میں سب سے بڑ اہے۔ ‘‘ (الجامع لاحکام القرآن  ، سورۃ الاعراف ، تحت الآیۃ۵۴ ، ج۴ ، ص۱۵۹)

          علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عرش کی حقیقت کو کوئی  نہیں جانتاہم صرف اس کانام جانتے ہیں۔ ‘‘ اور اس پر اس حدیث سے استدلال کیا ، چنانچہ امام بیہقی اپنی سند کے ساتھ روایت فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا ابو ذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اللہ کے محبوب ، دانائے غیوب عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہو کرعرض کی : ’’یارسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! آپ پر سب سے عظیم آیت کون سی نازل ہوئی؟‘‘توحضورنبیٔ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’آیت الکرسی۔ ‘‘پھر ارشاد فرمایا : ’’اے ابوذر! سات آسمان کرسی کے مقابلہ میں ایک انگوٹھی کی طرح ہیں جوکسی جنگلی زمین میں پڑی ہو اورعرش کی کرسی پر فضیلت اس طرح ہے جیسے جنگلی زمین کی فضیلت اس انگوٹھی پرہے۔ ‘‘

 (الاسماء والصفات للبیھقی ،  مصنف ابن ابی شیبہ بحوالہ مفردات الفاظ القرآن ، ص۵۵۸)

اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے مطیع وفرماں بردار خاص بندوں کواپنے عظیم عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا جس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہو گا۔ انسان دنیا میں اپنے اہل وعیال کی خاطردکھ درد اورتکالیف برداشت کرتا ہے ان کے لئے بڑے بڑے گناہ کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتامگرقیامت کے دن’’ نفسی نفسی ‘‘کا عالم ہوگا اور وہ ان سب سے دور بھاگ رہا ہوگا۔ جیسا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتاہے :

یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ(۳۴) وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ(۳۵) وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ(۳۶) (پ۳۰ ، عبس :  ۳۴تا ۳۶ )

ترجمۂ کنز الایمان : اس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی اورماں اورباپ اورجورو اور بیٹوں سے۔

          نیزاس وقت کیا حال ہوگاجب سورج ایک یا دوکمان کے فاصلے پر رہ کر آگ برسا رہا ہوگا ہر ایک پسینے سے شرابور ہورہاہوگا ، عرش الٰہی عَزَّوَجَلَّکے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہو گاہر ایک سائے کی تلاش میں مارا مارا پھر تا ہوگا مگر عرش کاسایہ تو انہی خوش نصیبوں کو ملے گا جنہوں نے دنیامیں اپنے رب عَزَّوَجَلَّکوراضی کیا ہوگا ، اپنے دنیوی سکون کوقربان کرکے رب کریم عَزَّوَجَلَّکی رضا وخوشنودی چاہی ہو گی۔

          زیرِ نظر رسالہ’’ تَمْھِیْدُ الْفَرْشِ فِی الْخِصَالِ الْمُوْجِبَۃِ لِظِلِّ الْعَرْش‘‘ (یعنی  سایۂ عرش کامستحق بنانے والے اعمال کے لئے راہ کوہموارکرنا)میں اما م جلا ل الدین سیوطی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے احادیث مبارکہ کی روشنی میں دلائل سے ثابت کیاہے کہ 70سے زائد اقسام کے خوش نصیب عرش الٰہیعَزَّوَجَلَّ کا سایہ پائیں گے۔ اسی اہمیت کے پیش نظرتبلیغِ قرآن وسنت کی عالمگیرغیرسیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کی مجلس المدینۃ العلمیہ کے ’’شعبہ تراجم ِ کتب‘‘ نے اس کا اردوترجمہ ، بنام ’’سایۂ عرش کس کس کوملے گا؟‘‘ پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ اسلامی بھائی ا وراسلامی بہنیں اس سے استفادہ کرسکیں۔

                                                 ترجمہ کرتے ہوئے درج ذیل امور کاخیال رکھا گیا ہے :

٭… ترجمہ کے لئے’’ مکتبۃ مشکاۃ الاسلامیۃ  بیروت‘‘کانسخہ استعمال کیا گیاہے۔

٭…ترجمہ سلیس اوربامحاورہ کیا گیا ہے تاکہ کم پڑھے لکھے اسلامی بھائی بھی اچھی طرح استفادہ کر سکیں۔

٭…آیات کاترجمہ اِمام اہلِ سنت ، مجدّ ِ دِدین وملت الشاہ اِمام احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن  کے شہرہ آفاق ترجمۂ قرآن’’کنزالایمان‘‘سے لیا گیاہے۔

 



Total Pages: 67

Go To