Book Name:Saya e Arsh Kis Kis ko Milay ga?

اپنے دنیوی سکون کوقربان کرکے رب کریم عَزَّوَجَلَّکی رضا وخوشنودی چاہی ہو گی ۔  

            زیرِ نظر رسالہ’’ تَمْھِیْدُ الْفَرْشِ فِی الْخِصَالِ الْمُوْجِبَۃِ لِظِلِّ الْعَرْش‘‘ (یعنی  سایۂ عرش کامستحق بنانے والے اعمال کے لئے راہ کوہموارکرنا)میں اما م جلا ل الدین سیوطی علیہ رحمۃ اللہ  القوی نے احادیث مبارکہ کی روشنی میں دلائل سے ثابت کیاہے کہ 70سے زائد اقسام کے خوش نصیب عرش الٰہیعَزَّوَجَلَّ کا سایہ پائیں گے ۔ اسی اہمیت کے پیش نظرتبلیغِ قرآن وسنت کی عالمگیرغیرسیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کی مجلس المدینۃ العلمیہ کے ’’شعبہ تراجم ِ کتب‘‘ نے اس کا اردوترجمہ، بنام ’’سایۂ عرش کس کس کوملے گا؟‘‘ پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ اسلامی بھائی ا وراسلامی بہنیں اس سے استفادہ کرسکیں ۔

 ترجمہ کرتے ہوئے درج ذیل امور کاخیال رکھا گیا ہے  :

٭… ترجمہ کے لئے ’’ مکتبۃ مشکاۃ الاسلامیۃ  بیروت‘‘کانسخہ استعمال کیا گیاہے ۔

٭…ترجمہ سلیس اوربامحاورہ کیا گیا ہے تاکہ کم پڑھے لکھے اسلامی بھائی بھی اچھی طرح استفادہ کر سکیں ۔

٭…آیات کاترجمہ اِمام اہلِ سنت، مجدّ ِ دِدین وملت الشاہ اِمام احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن  کے شہرہ آفاق ترجمۂ قرآن’’کنزالایمان‘‘سے لیا گیاہے ۔

٭…احادیث کی تخریج اصل ماخذسے کرنے کی کوشش کی گئی ہے اورباقی حوالہ جات میں جوکتب دستیاب ہوسکیں ان سے تخریج کی گئی ہے ۔

 ٭… مشکل الفاظ کے معانی ومطالب بریکٹ میں لکھ دئیے گئے ہیں اوربعض الفاظ پر اعراب لگائے گئے ہیں ۔

٭…جہاں ’’اصول حدیث ‘‘کی اصطلاحات ہیں ان کی حاشیہ میں وضاحت کردی گئی ہے ۔

٭…علاماتِ ترقیم (رُمُوزِاوقاف)کاخاص خیال رکھا گیاہے  ۔

٭…مطالعہ کرنے والے غیرعالِم اسلامی بھائیوں کی دلچسپی برقراررکھنے کے لئے احادیث کریمہ کی اسنادذکرنہیں کی گئیں ۔

        الغرض!یہ کتاب آپ تک پہنچانے کے لئے ’’ دعوتِ اسلامی‘‘ کے مدنی اسلامی بھائیوں نے مسلسل کوشش کی ہے ۔ اگر اس ترجمہ میں کوئی خوبیاں ہیں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی عطا ، میٹھے میٹھے مصطفٰی جناب احمد مجتبیٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی عنایتوں اورعلماء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی بالخصوص شیخ طریقت اَمیرِاہلسنت حضرت علامہ مولانامحمدالیاس عطارقادری مدظلہ العالی

 

 کی برکتوں کا نتیجہ ہے اوراگر اس میں کوئی خامی ہو تو ہماری نادانستہ کوتاہی کی وجہ سے ہے ۔

          اس کتاب کامطالعہ کر نے والے اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں سے گزارش ہے کہ اسے نہ صرف خود پڑھیں بلکہ دوسروں کوبھی اس کے پڑھنے کا ذہن دے کرنیکی کی دعوت عام کرنے کا ثواب کمائیں نْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ !اس کی برکت سے آپ کودین ودنیاکی نعمتیں حاصل ہوں گی  ۔ اللہ  عزوجل سے دعاہے کہ ہمیں ’’اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش‘‘ کرنے کے لئے مدنی اِنعامات پرعمل اور مدنی قافلوں میں سفرکرنے کی توفیق عطا فرمائے اوردعوت اسلامی کی تمام مجالس بشمول مجلس المدینۃ العلمیۃکودن پچیسویں رات چھبیسویں ترقی عطا فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

شعبہ تراجِم کتب (مجلس المدینۃ العلمیۃ)

 سرکارِمدینہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا  : ’’آدمی کا اپنے والدین کو گالیاں دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے ۔ ‘‘ عرض کی گئی  : ’’کیا کوئی شخص اپنے والدین کو بھی گالیاں دے سکتاہے ؟‘‘ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’ہاں! جب آدمی کسی شخص کے والدین کو گالیاں دیتا ہے تو وہ جواب میں اس کے والدین کو گالیاں دیتاہے ۔ ‘‘(صحیح مسلم، کتاب الایمان ، با ب الکبائرواکبرھا، الحدیث : ۲۶۳، ص۶۹۳)

تعارُفِ مُصنّف

 نام ونسب :

          لقب :  جلال الدین ، کنیت : ابو الفضل ، نام ونسب : عبد الرحمن بن ابو بکر بن محمد بن ابو بکر بن عثمان بن محمد بن خضر بن ایوب بن محمد بن ہمام ، اورنسبت : خُضَیْرِی مصری سیوطی شافعی رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی

 



Total Pages: 67

Go To