Book Name:Saya e Arsh Kis Kis ko Milay ga?

          حضرت سیِّدُنا ابوذررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ نبی ٔمُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کافرمان عالیشان ہے  : ’’نماز جنازہ پڑھا کرو یہ  تمہیں غمگین کرے گا اور غمزدہ (بروزِ قیامت)عرش کے سائے میں ہوگا  ۔ ‘‘(المستدرک، کتاب الرقاق، باب ذ رالقبو رالخ، الحدیث۸۰۱۱، ج۵، ص۴۷۰ )

آٹھویں حد یثِ پاک

عادل بادشاہ کودھوکہ دینے کانقصان :

            امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایاکہ میں نے نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کوارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ عدل وانصاف اورعاجزی کرنے والابادشاہ زمین پر اللہ عَزَّوَجَلّ(کی رحمت )کاسایہ اور اس کانیزہ ہے پس جس نے بادشاہ کواپنے اور اللہ عَزَّوَجَلّکے بندوں کے متعلق نصیحت کی(یعنی فائدہ مندبات بتائی)  اللہ عَزَّوَجَلّ اس کا حشر اپنے سایۂ رحمت میں فرمائے گاجس دن اس کے سایۂ رحمت کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگااور جس نے بادشاہ کواپنے اور اللہ عَزَّوَجَلّکے بندوں کے بارے میں دھوکا دیا اللہ عَزَّوَجَلّاس کو قیامت کے دن رسوا کرے گا ۔ ‘‘(فضیلۃ العاد لین لابی نعیم اصبہانی، الحدیث۱۵، ص ۱۶)

نویں حد یثِ پاک

بچے کی موت پرصبرکااجر :

(۱)…امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے آپ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناموسیٰ بن عمران عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے بارگا ہِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ میں عرض کی  : ’’اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ !جوعورت اپنے بچے کے فوت ہونے پر صبر کرے اس کے لئے کیا جزاء ہے ؟‘‘اللہ عَزَّوَجَلّنے ارشاد فرمایا :  ’’میں اسے اپنے سایۂ رحمت میں اس دن جگہ دوں گا جس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ ‘‘(الترغیب فی فضائل الاعمال وثواب ذلک لا بن شاھین ، باب فضل من تبع الجنازۃ مختصرا، الحدیث۴۰۸، ج۱، ص۴۶۲)

(۲)…ایک روایت یوں ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق اور حضرت سیِّدُنا عمران بن حصین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے ارشادفرمایا : ’’حضرت موسیٰعَلَیْہِ السَّلَام نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کی : ’’اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ !جو عورت اپنے بچے کے فوت ہونے پر صبر کرے اس کی جزاء کیاہے ؟‘اللہ عَزَّوَجَلّنے ارشاد فرمایا : ’’میں اسے اپنے  عرش کے سائے میں رکھوں گا جس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ ‘‘(عمل الیوم و اللیلۃ لابن السنیی ، باب تعزیۃ اولیاء المیت ، الحدیث ۵۸۷، ص ۱۷۹)

(۳)…ایک روایت اس طرح ہے کہ حضرت سیِّدُنا حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا موسیٰعَلَیْہِ السَّلَام نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کی :  ’’اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ !جو عورت اپنے بچے کے فوت ہونے پر صبر کرے اس کے لئے کیا جزاء ہے ؟‘‘اللہ عَزَّوَجَلّنے ارشاد فرمایا : ’’میں اسے اپنے سایۂ رحمت میں اس دن جگہ دوں گا جس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ ‘‘

د سویں حد یثِ پاک

مخلوق پررحم کی فضیلت  :

             امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے منبر پرخطبہ دیتے ہوئے فرمایاکہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ورَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاکا فرمان ذیشان ہے  :  ’’جسے یہ پسند ہو کہ اللہ عَزَّوَجَلّ  اسے جہنم کی گرمی سے بچائے اور اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطافرمائے تووہ مسلمانوں پرسختی نہ کرے اوران کے ساتھ نرمی سے پیش آئے ۔  ‘‘(کنز العمال، کتاب الاخلاق ، الحدیث ۵۹۸۲، ج۳، ص ۶۹)

امام ابن حجر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الاَ   کْبر کے چنداشعار :

          حضرت شیخ الاسلام عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ السَّلَام نے آگے بیان کرنے کی عام اجازت دیتے ہوئے چند اشعار کہے ہیں  :

 



Total Pages: 67

Go To