Book Name:Saya e Arsh Kis Kis ko Milay ga?

          ’’الترغیب و الترہیب ‘‘میں اس حدیث کے شواہد موجود ہیں۔ چنانچہ ،

(۱)…حضرت سیِّدُنا ابوسعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ’’ سچاامانت دار تاجر قیامت کے دن انبیاء علیہم السلام ، صدیقین اورشہداء کے ساتھ ہوگا۔ ‘‘( جامع الترمذی  ،  ابواب البیوع  ،  باب ماجاء فی التجار۔ ۔ ۔ ۔ الخ ، الحدیث۱۲۰۹ ،  ص۱۷۷۲)

(۲)…حضرت سیِّدُنا ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے مروی ہے کہ’’ سچاامانت دار مسلمان تاجر قیامت کے دن شہداء کے ساتھ ہوگا۔ ‘‘

( سنن ابن ماجہ ، ابواب التجارات ،  باب الحث علی المکاسب  ،  الحدیث ۲۱۳۹ ،  ص ۲۶۰۵)

 تیسری حد یثِ پاک

ناسمجھ کے ساتھ تعاون کی فضیلت :

          حضرت سیِّدُناجابربن عبداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حُسنِ اَخلاق کے پیکر ، نبیوں کے تاجور ، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کویہ فرماتے ہوئے سناہے : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن اس شخص کو اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطافرمائے گا جس نے تنگدست کو مہلت دی یاکسی ناسمجھ کے ساتھ تعاون کیا۔ ‘‘

(المعجم الاوسط  ، من اسمہ محمود  ،  الحدیث۷۹۲۰ ،  ج۶ ،  ص۴۰)

چوتھی حد یثِ پاک

بیوہ ویتیم کی کفالت کاثواب :

          حضرت سیِّدُناجابربن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ ، صاحبِ معطر پسینہ ، باعثِ نُزولِ سکینہ ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمانِ رحمت نشان ہے : ’’جس نے کسی یتیم یا بیوہ ([1])  کی کفالت کی اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے  قیامت کے دن اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطافرمائے گا۔ ‘‘   (المعجم الاوسط  ،  الحدیث ۹۲۹۲ ،  ج۶ ،  ص۴۲۹ ، بدون’’یوم القیامۃ‘‘)

            حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب سینہ ، با عثِ نُزولِ سکینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ حضرت داؤد علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بارگاہِ ربُّ العزت میں عرض کی : ’’اے میرے اللہ عَزَّوَجَلَّ !جو بندہ تیری رضا کے لئے کسی بیوہ یایتیم کی پرورش کرے تو اس کے لئے کیا جزا ہے ؟‘‘ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشادفرمایا : ’’ میں اسے اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرماؤں گا جس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔ ‘‘ 

 (المسند الفردو س  ،  الحدیث ۴۵۵۹ ،  ج۲ ، ص۱۴۷بدون’’ارملۃ‘‘)

صفوان کی مِٹی کاصحیفہ :

 



[1]    خیال رہے کہ غیرمحرم بیوہ کی کفالت اوراُسے پناہ دینے میں اس بات کی احتیاط ضروری ہے کہ بے پردگی نہ ہوکیونکہ آج کل لوگ منہ بولے باپ ، بھائی اوربیٹے وغیرہ بن جاتے ہیں اورخوب بے پردگی ہوتی ہے اور یوں اپنانامۂ اعمال گناہوں سے سیاہ کرتے رہتے ہیں ، چنانچہ شیخ طریقت ، امیراہلسنت حضرت علامہ مولینا محمد الیاس عطارقادری رَضوی دام ظلہ منہ بولے رشتوں کے بارے میں ایک سوال کاجواب دیتے ہوئے ارشادفرماتے ہیں کہ ’’اِن (یعنی منہ بولے باپ ، بھائی اور بیٹے وغیرہ)سے بھی پردہ ہے کہ کسی کو باپ ، بھائی یامنہ بولا بیٹا بنالینے سے وہ حقیقی باپ ، بھائی اور بیٹا نہیں بن جاتا ۔ ان سے تونِکاح بھی دُرُست ہے۔ ہمارے مُعاشَرے میں منہ بولے رشتّوں کا رَواج عام ہے کوئی مرد کسی کو’’ ماں ‘‘ بنا ئے ہوئے ہے ، کوئی لڑکی کسی کو ’’بھائی‘‘ بنا بیٹھی ہے تو کسی خاتون نے کسی کو ’’ بیٹا‘‘ بنا لیا ہے ، کوئی کسی جوان لڑکی کا مُنہ بولا چچا ہے تو کوئی مُنہ بولا باپ اور پھر بے پردگیوں ، بے تکلُّفیوں اور مخلوط دعوتوں کے گناہ و پاپ کا وہ سیلاب ہے کہ الْاَمان وَ الْحَفِیظ۔

            صِنْفِ مُخالِف کے ساتھ منہ بولے رشتے قائم کرنے والوں اوروالیوں کو اللہ عزوجل سے ڈرتے رہنا چاہئے۔ یقینا شیطان پہلے سے بول کر وار نہیں کرتا۔ حدیثِ پاک میں آتا ہے ، ’’ دنیا اور عورَتوں سے بچو کیونکہ بنی اسرائیل میں سب سے پہلا فِتنہ عورَتوں کی وجہ سے اُٹھا۔ ‘‘       (صحیح مسلم   ص۱۴۶۵ حدیث۲۷۴۲  )

 

 



Total Pages: 67

Go To