Book Name:Saya e Arsh Kis Kis ko Milay ga?

جنت میں ٹھہراؤں گا اوراپنے ( عرش کے ) سائے میں اس دن جگہ دوں گاجس دن میرے (عرش کے )سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ ‘‘ (حلیۃ الاولیاء ، الحدیث ۷۷۱۷، ج۶، ص ۳۸)

(۴)… حضرت سیِّدُناابوعمران الجونی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   فرماتے ہیں  : ’’حضرت سیِّدُنا داؤد عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کی : ’’جو تیری رضا کے لئے کسی یتیم یا بیوہ کوسہارادے اس کی جزاء کیا ہے ؟‘‘اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشادفرمایا :  ’’اس کی جزاء یہ ہے کہ میں اسے اپنے عرش کے سائے میں اس دن جگہ دوں گا جس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ ‘‘ (الزہدلابن المبارک، باب توبۃ داؤدوذکرالانبیاء علیہم السلام، الحدیث۴۷۷، ص۱۶۴)

(۵)…حضرت سیِّدُناجَعْدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ خبرپہنچی ہے کہ حضرت سیِّدُنا داؤد عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی : ’’جو تیری رضا چاہتے ہوئے کسی یتیم یا بیوہ کوسہارادے اس کی کیا جزاء ہے ؟‘‘اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا : ’’اس کی جزاء یہ ہے کہ میں اسے اپنے عرش کے سائے میں جگہ دوں گا جس دن میرے عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ ‘‘ (کتاب الزھد للامام احمد بن حنبل، زہدداؤدعلیہ السلام، الحدیث :  ۳۶۳، ص ۱۰۵)

پا نچویں حد یثِ پاک

خوش اخلاق ، جوارِرحمت میں ہوگا :

            حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ اللہعَزَّوَجَلَّ  کے حبیب ، حبیب لبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّنے حضرت  ابراہیم خلیل اللہ عَلَیْہِ السَّلَام  کی طرف وحی فرمائی کہ اے میرے خلیل !حُسنِ اخلاق سے پیش آؤ خواہ کفار ہی کیوں نہ ہوں   ([1]) ، نیکوں میں داخل ہوجاؤگے اور بے شک میں نے یہ بات لکھ دی ہے کہ جس نے اپنے اخلاق کوستھراکیا مَیں اُسے اپنے عرش کے سائے میں جگہ دوں گا، اوراسے حظیرۃ القدس (یعنی جنت)سے سیراب کروں گا اور اپنے جوارِ رحمت کا قرب عطا فرماؤں گا ۔ ‘‘(المعجم الاوسط ، الحدیث ۶۵۰۶، ج۵، ص ۳۷)

چھٹی حد یثِ پاک

سب سے پہلے سایۂ عرش پانے والے :

          اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاسے مروی ہے ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہافرماتی ہیں کہ حضورنبی ٔپاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہم سے استفسارفرمایا :  ’’کیا تم جانتے ہو قیامت کے دن سب سے پہلے کن لوگوں کو عرش کا سایہ نصیب ہو گا؟ ‘‘صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہم اجمعین نے عرض کی : ’’ اللہُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ یعنیاللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم بہتر جانتے ہیں ۔ ‘‘ارشادفرمایا : ’’وہ لوگ جن کے سامنے حق پیش کیاجاتاہے تو  اس کو قبول کرتے ہیں ، جب ان سے سوال کیاجاتاہے توعطا کرتے ہیں اورلوگوں کے حق میں فیصلے اس طرح کرتے ہیں جیسا اپنے حق میں فیصلہ کرتے ہیں ۔ ‘‘( المسند للامام احمد بن حنبل، مسند السیدۃ عائشۃ رضی اللہ عنہا ، الحدیث ۲۴۴۳۳، ج۹، ص ۳۳۶)

سا تویں حد یثِ پاک

نمازِجنازہ پڑھاکرو :

 



[1]    کفارکے ساتھ حسنِ سلوک ، کفراورکفرپرمددواعانت کے علاوہ دیگرمعاملات میں ہوسکتا ہے مثلاًمشرک پڑوسی کے ساتھ حق پڑوس کی ادائیگی اورکافرباپ کی غیرکفریہ معاملات میں اطاعت وغیرہ، وگرنہ کفارسے موالات (یعنی میل جول )ناجائزوحرام ہے ، چنانچہ، سیدی اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمدرضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن ارشادفرماتے ہیں  : ’’قرآن عظیم نے بکثرت آیتوں میں تمام کفارسے موالات(یعنی میل جول، باہمی اتحاد، آپس کی دوستی)قطعاًحرام فرمائی، مجوس(آگ کے پجاری) ہوں خواہ یہودونصار یٰ (یہودی وعیسائی)ہوں ، خواہ ہُنُود(ہندو)اورسب سے بدترمُرتدانِ عُنُود(دینِ حق سے بغاوت کرنے والے مرتدین )(فتاوی رضویہ، ج۱۵، ص۲۷۳)، ہاں ! دنیوی معاملات مثلاًخریدوفروخت وغیرہ(اپنی شرائط کے ساتھ) جس سے دین پرضرر(نقصان)نہ ہو مرتدین کے علاوہ کسی سے ممنوع نہیں (فتاوی رضویہ، ج۲۴، ص۳۳۱مُلَخَّصًا )مزیدتفصیل کے لئے فتاوی رضویہ شریف کے مذکورہ مقامات کامطالعہ فرمائیے ۔



Total Pages: 67

Go To