Book Name:Saya e Arsh Kis Kis ko Milay ga?

          شیخ الاسلام نے اس بارے میں مزید اشعار کہے ہیں :  

وَزِدْسَبْعَۃً : اِظْلَالُ غَازٍوَعَوْنُہٗ                                                                                                                                 وَاِنْظَارُذِیْ عُسْرٍوَتَخْفِیْفُ حِمَلِہٖ

وَحَامِیُ غُزَاۃٍ حِیْنَ وَلَّوْاوَعَوْنُ                                                                                                   ذِیْ غَرَامَۃِحَقٍّ مَعَ مُکَاتِبِ اَھْلِہٖ

ترجمہ : (۱)…سایۂ عرش پانے والے مزیدسات افرادیہ ہیں  ۱؎ غازی پر سایہ کرنے والا۲؎ اس کا مددگار۳؎ قرضدار کو مہلت دینے والایا۴؎  اس کابوجھ کم کرنے والا۔

(۲)…۵؎ غازیوں کی حمایت کرنے والا جب لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں ۶؎تاوان کی ادائیگی میں مستحق کامدد گاراور۷؎   اپنے مکاتب غلام سے تعاون کرنے والا ۔

 فرمانِ مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم : ’’ اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَاذَنْبَ لَہُ یعنی گناہ سے توبہ کرنے والاایساہے جیساکہ اس نے گناہ کیاہی نہیں۔ ‘‘  (سنن ابن ماجۃ ، حدیث۴۲۵۰ ، ص۲۷۳۵)

سایۂ عرش پانے والے چودہ اشخاص کابیان

          یہاں پرعرش کاسایہ پانے والے ان چودہ اشخاص کاذکرکیاجاتاہے جن کو شیخ الاسلام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے بیان کیاہے اوران چودہ اشخاص والی احادیث میں کچھ ضعف ہے ۔ اوریہ دس احادیث کریمہ ہیں۔

پہلی حد یثِ پاک

بھوکے کوکھاناکھلانے کاصلہ :

          حضرت سیِّدُناجابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نُبوت ، مَخْزنِ جودوسخاوت ، پیکرِعظمت و شرافت ، مَحبوبِ رَبُّ العزت ، محسنِ انسانیت عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمان عالیشان ہے : ’’تین خصلتیں جس شخص میں ہوں گی اللہ عَزَّوَجَلَّ اُسے اپنے عرش کا سایہ عطا فرمائے گا ، (۱)دشواری کے وقت وضو کرنا (۲)اندھیرے میں مسجدوں کی طرف چلنااور(۳)بھوکے کو کھانا کھلانا۔ ‘‘

(الترغیب الترھیب  ، کتاب الصدقات  ،  الحدیث ۱۴۱۷ ، ج۱ ،  ص ۴۴۸)

          مکارم الاخلاق میں حضرت سیِّدُنا جابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے اسی سند کے ساتھ مرفوعاً روایت ہے کہ’’ جس نے بھوکے کو کھانا کھلایا یہاں تک کہ وہ سیر ہوگیا اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطافرمائے گا۔ ‘‘ (مکارم الاخلاق  ،  باب فضل اطعام الطعام  ، الحدیث ۱۶۴ ،  ص ۳۷۳)

 دوسری حدیثِ پاک

          حضرت سیِّدُنا اَنَس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ اللہ کے مَحبوب ، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکافرمانِ ذیشان ہے : ’’سچاتاجر قیامت کے دن عرش کے سائے میں ہوگا۔ ‘‘

(الترغیب والترھیب  ، کتاب البیوع وغیرھا  ، الحدیث  : ۲۷۶۹ ،  ج۲ ،  ص ۳۷۳)

حضرت قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی مرسل احادیث :

(۱)…حضرت سیِّدُنا قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ایک مرسل حدیث مروی ہے ، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہفرماتے ہیں : ’’ ہم یہ حدیث بیان کیاکرتے تھے کہ سچ بولنے والا امانت دار تاجر (سایۂ عرش پانے والے)سات افرادکے ساتھ قیامت کے دن عرش کے سائے میں ہو گا۔ ‘‘

( تفسیر طبری  ،  سورۃ النسآء تحت الایۃ (۲۹)یأیھا الذین امنوا لاتا کلوا اموالکم بینکم الایۃ ، الحدیث۹۱۴۵ ، ج۴ ،  ص ۳۴)

(۲)…حضرت سیِّدُنا قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضرت  سیِّدُنا  سلمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ارشادفرمایا : ’’سچا امانتدار تاجرقیامت کے دن (سایۂ عرش پانے والے)سات افراد کے ساتھ عرش کے سائے میں ہو گا۔ ‘‘  (شعب الایمان  ،  باب فی مقاربۃ وموادۃ اھل الدین ، الحدیث ۹۰۲۹ ، ج۶ ،  ص۴۹۴)

حدیثِ پاک کے شواہد ([1])

 



[1]    شَوَاہِدیہ جمع ہے شَاہِدکی ، اصطلاحِ اصولِ حدیث میں اگر دوحدیثیں ایک صحابی سے مروی ہوں تودوسری کوپہلی کا ’’مُتَابِع‘‘اور اگر دو حدیثیں دو صحابیوں سے مروی ہوں تو دوسری کوپہلی کا’’شَاہِد‘‘ کہتے ہیں ، نیز اگروہ دونوں حدیثیں ’’لفظ ومعنٰی ‘‘ میں موافق ہوں تو دوسری کو’’مِثْلُہٗ‘‘  اوراگرصرف ’’معنٰی ‘‘میں موافق ہوں تودوسری کو ’’نَحْوُہٗ ‘‘کہتے ہیں۔ ‘‘

(مقدمۃ المشکوٰۃالمصابیح للشیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ رحمۃ اللہ القوی ، ص۵)

 

 



Total Pages: 67

Go To