Book Name:Saya e Arsh Kis Kis ko Milay ga?

گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمانِ رحمت نشان ہے :  ’’جس نے کسی یتیم یا بیوہ  ([1]) کی کفالت کی اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے  قیامت کے دن اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطافرمائے گا ۔ ‘‘(المعجم الاوسط ، الحدیث ۹۲۹۲، ج۶، ص۴۲۹، بدون’’یوم القیامۃ‘‘)

          حضرت سیِّدُنا عبداللہ  بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب سینہ ، با عثِ نُزولِ سکینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’ حضرت داؤد علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بارگاہِ ربُّ العزت میں عرض کی : ’’اے میرے اللہ عَزَّوَجَلَّ !جو بندہ تیری رضا کے لئے کسی بیوہ یایتیم کی پرورش کرے تو اس کے لئے کیا جزا ہے ؟‘‘ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشادفرمایا : ’’ میں اسے اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرماؤں گا جس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ ‘‘(المسند الفردو س ، الحدیث ۴۵۵۹، ج۲، ص۱۴۷بدون’’ارملۃ‘‘)

 

صفوان کی مِٹی کاصحیفہ :

            امام عبدالرزاق علیہ رحمۃاللہ  الرزاق نے اپنی جامع میں روایت کی کہ اُمیہ بن صفوان کہتے ہیں کہ’’ صفوان کی مٹی میں ایک بندھا ہوا صحیفہ پایاگیا جس میں یہ (لکھاہوا)تھا کہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم خلیل اللہ  عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کی : ’’ اے میرے پروردگارعَزَّوَجَلَّ!جو شخص تیری رضاکے لئے کسی (محتاج)  بیوہ کودرست کرے اس کی جزاء کیا ہے ؟‘‘اللہ ربُّ العزت نے ارشادفرمایا : ــ ’’بیوہ کا درست کرناکیاہے ؟‘‘آپعَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی  : ’’وہ شخص اُسے پناہ دے ۔ ‘‘ تو اللہعَزَّوَجَلَّنے ارشادفرمایا : ’’میں اسے اپنے سایۂ رحمت میں جگہ دوں گا اور اسے اپنی جنت میں داخل کروں گا ۔ ‘‘(المصنف للامام عبدالرزاق، الحدیث ۶۰۷۳، ج۳، ص ۴۹۶)

 حد یثِ پاک کے پا نچ شواہد

            حضرت شیخ الاسلام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   فرماتے ہیں کہ اس حدیث کے بارے میں ایک عمدہ شاہدہے جسے امام طبرانی نے ’’الدعاء ‘‘میں روایت کیاہے ۔ اور انہوں نے آنے والی دو شاہداحادیث کے علاوہ کوئی شاہد حدیث بیان نہیں کی لیکن مَیں (یعنی حضرت مصنف رحمۃاللہ  تعالیٰ علیہ) کہتا ہوں کہ اس کے دیگر شواہد بھی موجودہیں ۔  چنانچہ،

(۱)…حضرت سیِّدُنا اَنَس بن ما لک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضور نبی ٔکریم، رء ُوف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ارشادفرماتے ہیں کہ’’ اللہعَزَّوَجَلَّ نے حضرت موسیٰ علیہ االسلامسے ارشادفرمایا : ’’اگر تم چاہتے ہو کہ اُس دن میرے عرش کے سایہ میں رہو جس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا توپھر یتیم کے ساتھ رحم دل باپ اور بیوہ کے  ساتھ اتنہائی مہربان شوہر کی طرح پیش آؤ  ۔ ‘‘(حلیۃ الاولیاء، الحدیث ۴۵۲۴، ج۳، ص ۴۲۹)

(۲)…حضرت وہب بن منبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا داؤد عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے بارگاہِ ربُّ العزّت میں عرض کی  : ’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !جو تیری رضا کے لئے کسی یتیم یا بیوہ کوپناہ دے تواس کی جزاء کیاہے ؟‘‘اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشادفرمایا : ’’میں اُسے اپنے عرش کے سائے میں اس دن جگہ دوں گا جس دن اُس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ ‘‘ (حلیۃ الاولیاء، الحدیث۴۷۰۸، ج۴، ص۴۸)

(۳)…حضرت سیِّدُنا کعب الاحباررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناموسیٰعَلَیْہِ السَّلَام  نے عرض کی  : ’’ اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ جو کسی یتیم کوپناہ دے حتی کہ وہ یتیم مستغنی ہوجائے یا کسی محتاج بیوہ کی کفالت کرے اس کی جزاء کیا ہے ؟ ‘‘ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا : ’’میں اُسے اپنی



[1]    خیال رہے کہ غیرمحرم بیوہ کی کفالت اوراُسے پناہ دینے میں اس بات کی احتیاط ضروری ہے کہ بے پردگی نہ ہوکیونکہ آج کل لوگ منہ بولے باپ ، بھائی اوربیٹے وغیرہ بن جاتے ہیں اورخوب بے پردگی ہوتی ہے اور یوں اپنانامۂ اعمال گناہوں سے سیاہ کرتے رہتے ہیں ، چنانچہ شیخ طریقت، امیراہلسنت حضرت علامہ مولینا محمد الیاس عطارقادری رَضوی دام ظلہ منہ بولے رشتوں کے بارے میں ایک سوال کاجواب دیتے ہوئے ارشادفرماتے ہیں کہ ’’اِن (یعنی منہ بولے باپ، بھائی اور بیٹے وغیرہ)سے بھی پردہ ہے کہ کسی کو باپ، بھائی یامنہ بولا بیٹا بنالینے سے وہ حقیقی باپ، بھائی اور بیٹا نہیں بن جاتا  ۔ ان سے تونِکاح بھی دُرُست ہے ۔ ہمارے مُعاشَرے میں منہ بولے رشتّوں کا رَواج عام ہے کوئی مرد کسی کو’’ ماں ‘‘ بنا ئے ہوئے ہے ، کوئی لڑکی کسی کو ’’بھائی‘‘ بنا بیٹھی ہے تو کسی خاتون نے کسی کو ’’ بیٹا‘‘ بنا لیا ہے ، کوئی کسی جوان لڑکی کا مُنہ بولا چچا ہے تو کوئی مُنہ بولا باپ اور پھر بے پردگیوں ، بے تکلُّفیوں اور مخلوط دعوتوں کے گناہ و پاپ کا وہ سیلاب ہے کہ الْاَمان وَ الْحَفِیظ ۔ صِنْفِ مُخالِف کے ساتھ منہ بولے رشتے قائم کرنے والوں اوروالیوں کو اللہ عزوجل سے ڈرتے رہنا چاہئے ۔  یقینا شیطان پہلے سے بول کر وار نہیں کرتا ۔  حدیثِ پاک میں آتا ہے ، ’’ دنیا اور عورَتوں سے بچو کیونکہ بنی اسرائیل میں سب سے پہلا فِتنہ عورَتوں کی وجہ سے اُٹھا ۔ ‘‘       (صحیح مسلم   ص۱۴۶۵ حدیث۲۷۴۲  )



Total Pages: 67

Go To