Book Name:Saya e Arsh Kis Kis ko Milay ga?

          حضرت سیِّدُنا شدادبن اوس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاپنے والدسے روایت کرتے ہیں ، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ ، صاحبِ معطر پسینہ ، باعثِ نُزولِ سکینہ ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو ارشادفرماتے ہوئے سنا : ’’جس نے کسی تنگدست مقروض کو مہلت دی یا اس پرمالِ قرض کوصدقہ کردیا ، اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن اس کو اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا۔ ‘‘ 

 (مجمع الزوائد ، کتاب البیوع ، باب فی من فرج عن معسرالخ  ، الحدیث۶۶۷۱ ، ج۴ ، ص۲۴۱)

 حدیث ِسیِّدُنا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ:

          حضرت سیِّدُنا جابربن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب سینہ ، با عثِ نُزولِ سکینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکافرمانِ ذیشان ہے : ’’جس شخص کو یہ پسندہوکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  اُسے قیامت کی مشکلات سے نجات عطافرماکراپنے عرش کے سائے میں جگہ دے تو اسے چاہئے کہ وہ تنگدست مقروض کو مہلت دے۔ ‘‘        (المعجم الاوسط  ،  الحدیث ۴۵۹۲ ، ج۳ ،  ص ۲۸۰)

حدیثِ سیِّدَتُناعائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا :

          اُم المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ہے کہ حضورنبی ٔکریم ، رء ُوف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکافرمانِ عالیشان ہے : ’’جس نے کسی تنگدست قرضدارکو مہلت دی اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن عرش کے سائے میں رکھے گا۔ ‘‘

(مجمع الزوائد  ، کتاب البیوع  ،  باب فی من فرج عن معسرا۔ ۔ ۔ الخ  ، الحدیث ۶۶۷۴ ،  ج۴ ،  ص ۲۴۱)

حدیثِ کعب بن عجرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ:

          حضرت سیِّدُنا کعب بن عجرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ اللہ کے حبیب ، حبیبِ لبیبعَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکافرمانِ ذیشان ہے : ’’جس نے کسی تنگدست کو مہلت دی یا اس پر آسانی کی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا جس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہو گا۔ ‘‘  (المعجم الکبیر  ، الحدیث ۲۱۴ ، ج۱۹  ،  ص ۱۰۶)

حدیثِ ابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ:

          حضرت سیِّدُنا ابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی ٔپاک ، صاحبِ لَوْلاک ، سیّاحِ اَفلاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کافرمان عالی وقارہے : ’’جس نے کسی تنگدست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کردیا اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اپنے عرش کے سائے میں رکھے گا۔ ‘‘

(المجعم الکبیر  ،  الحدیث ۳۷۲ ،  ج۱۹ ،  ص ۱۶۵)

حدیثِ اسعدبن زرارہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ:

          حضرت سیِّدُنا اسعد بن زرارہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ نبی ٔمُکَرَّم ، نُورِ مُجسَّم ، رسولِ اَکرم ، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمان ذیشان ہے : ’’جسے یہ پسندہوکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ا سے اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطافرمائے جس دن اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گاتو اسے چاہئے کہ  تنگدست کو مہلت دے یا اس کاقرض معاف کر دے۔ ‘‘  (الترغیب والترھیب  ، کتاب الصدقات  ،  الحدیث ۱۳۵۸ ، ج۱ ،  ص ۴۳۱)

دوسری حد یثِ پاک

مجاہدین کی مددکرنے پرانعام :

          حضرت سیِّدُناعبداللہ بن سہل بن حنیف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما اپنے والد سے  روایت کرتے ہیں کہ نور کے پیکر ، تمام نبیوں کے سَرْوَر ، دو جہاں کے تاجْوَر ، سلطانِ بَحرو بَر  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’جس نے راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ کے مجاہد یا تنگدست مقروض یا مکاتب غلام([1]) کی آزادی میں اس کی مدد کی



[1]    صدرالشریعہ ، بدرالطریقہ مفتی محمدامجدعلی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی مکاتب غلام کے بارے میں  فرماتے ہیں : ’’آقااپنے غلام سے مال کی ایک مقدارمقررکرکے یہ کہہ دے کہ اتنااداکردے توآزادہے اورغلام اسے قبول بھی کرلے اب یہ مکاتب ہوگیاجب کُل اداکردے گاآزادہوجائے گااورجب تک اس میں سے کچھ بھی باقی ہے غلام ہی ہے ۔ ‘‘         (بہارِشریعت ، ج۱ ، حصہ ۹ ، ص۹)

 



Total Pages: 67

Go To