Book Name:Saya e Arsh Kis Kis ko Milay ga?

          یہاں پرماقبل میں بیان کردہ سایۂ عرش پانے والے اشخاص کے علاوہ دیگر سات افرادکے بارے میں شیخ الاسلام امام ابن حجرعلیہ رحمۃاللہ الاکبرکی بیان کردہ چار احادیث مبارکہ بیان کی جاتی ہیں۔

 پہلی حدیث پاک

تنگدست مقروض کو مہلت دینے کی فضیلت :

          حضرت سیِّدُنااَبُوالْیُسْررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار ، ہم بے کسوں کے مددگار ، شفیعِ روزِ شُمار ، دو عالَم کے مالک و مختار ، حبیبِ پروردگار عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکافرمانِ خوشگوار ہے : ’’جس نے کسی تنگدست مقروض کو مہلت دی یا اس کا(کچھ حصہ) قرض معاف کردیا ، اللہ تبارک و تعالیٰ اس کو اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گااس دن جب عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ گا ۔ ‘ ‘

(جامع الترمذی  ، کتاب البیوع  ،  باب ماجاء فی انظارالخ  ،  الحدیث ۱۳۰۶ ، ص۱۷۸۳)

           امام طبرانی علیہ رحمۃاللہ الوالی نے’’ المعجم الکبیر ‘‘میں یہ حدیث پاک ان الفاظ کے ساتھ روایت فرمائی ہے کہ’’ بے شک قیامت کے دن سب سے پہلے لوگوں میں عرش کا سایہ اس شخص کو نصیب ہو گاجس نے کسی قرضدار کو مہلت دی یااس پرقرض کوصدقہ کر دیا۔ ‘‘

(المعجم الکبیر ، الحدیث ۳۷۷ ، ج۱۹ ، ص ۱۶۷)

حدیث ِ پاک کی شرح :

          اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ سب سے پہلے اس شخص ( یعنی جس نے قرض  دارکومہلت دی یاقرض معاف کردیا)کوعرش کا سایہ ملے گا۔ اسی مضمون کی احادیث مبارکہ حضرت سیِّدُناابوقتادہ ، حضرت سیِّدُناابوہریرہ ، حضرت سیِّدُناعثمان ، حضرت سیِّدُنا شدادبن اوس ، حضرت سیِّدُناکعب بن مالک ، حضرت سیِّدَتُناعائشہ ، حضرت سیِّدُناابودرداء اور حضرت سیِّدُنااسعد بن زرارہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اجمعین سے بھی مروی ہیں۔ چنانچہ ،

حدیثِ سیِّدُنا ابوقتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ:

           حضرت سیِّدُناابوقتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نُبوت ، مَخْزنِ جودوسخاوت ، پیکرِعظمت و شرافت ، مَحبوبِ رَبُّ العزت عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سنا : ’’جس نے کسی قرضدارکو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کردیاتو قیامت کے دن وہ عرش کے سائے میں ہو گا۔ ‘‘ (مسند احمد حنبل  ،  حدیث ابی قتادۃ الانصاری  ،  الحدیث ۲۲۶۲۲ ، ج۸ ،  ص ۳۶۷)

حدیثِ سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ:

          حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کے مَحبوب ، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکویہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’جس نے تنگدست کو مہلت دی یا اس کاقرض معاف کر دیا تو اللہ تعالیٰ اس دن اسے اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا جس دن اس کے علاوہ کو ئی سایہ نہ ہوگا ۔ ‘‘

(جامع الترمذی  ، کتاب البیوع  ،  باب فی انظار المعسر الخ  ، الحدیث ۱۳۰۶  ،  ص ۱۷۸۳)

حدیثِ سیِّدُنا عثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ:

          امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے حُسنِ اَخلاق کے پیکر ، نبیوں کے تاجور ، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکویہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ’’ جس دن عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگااس دن اللہ عَزَّوَجَلَّ اس شخص کو اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا جس نے قرضدار کو مہلت دی یاقرض کی ادائیگی کے ذمّہ دارکوچھوڑدیا۔ ‘‘

(المسند للامام احمد بن حنبل ، مسند عثمان بن عفان ، الحدیث۵۳۲ ، ج۱ ، ص۱۵۸)

حدیثِ سیِّدُناشداد بن اوس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما :

 



Total Pages: 67

Go To