Book Name:Saya e Arsh Kis Kis ko Milay ga?

فرمائے گا جس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ ‘‘(المعجم الکبیر ، الحدیث ۲۱۴، ج۱۹ ، ص ۱۰۶)

حدیثِ ابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ :

          حضرت سیِّدُنا ابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضورنبی ٔپاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کافرمان عالی وقارہے  : ’’جس نے کسی تنگدست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کردیا اللہ تَعَالٰی اسے قیامت کے دن اپنے عرش کے سائے میں رکھے گا ۔ ‘‘ (المجعم الکبیر ، الحدیث ۳۷۲، ج۱۹، ص ۱۶۵)

حدیثِ اسعدبن زرارہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ :

          حضرت سیِّدُنا اسعد بن زرارہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں کہ نبی ٔمُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ  تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کافرمان ذیشان ہے  : ’’جسے یہ پسندہوکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ا سے اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطافرمائے جس دن اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گاتو اسے چاہئے کہ  تنگدست کو مہلت دے یا اس کاقرض معاف کر دے ۔ ‘‘ (الترغیب والترھیب ، کتاب الصدقات ، الحدیث ۱۳۵۸، ج۱، ص ۴۳۱)

دوسری حد یثِ پاک

مجاہدین کی مددکرنے پرانعام  :

          حضرت سیِّدُناعبداللہ  بن سہل بن حنیف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَااپنے والد سے  روایت کرتے ہیں کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’جس نے راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ کے مجاہد یا تنگدست مقروض یا مکاتب غلام ([1]) کی آزادی میں اس کی مدد کی، اللہ عَزَّوَجَلَّاسے اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطافرمائے گاجس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ ‘‘(المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث رجل یسمی طلحۃ ونعیم بن مسعود، الحدیث ۱۵۹۸۷، ج۵، ص۴۱۳)

تیسری حد یثِ پاک

غازی کے سرپرسایہ کرنے کی فضیلت :

           امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’جو کسی غازی کے سرپرسایہ کرے گا اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن اسے اپنیعرش کے ساے میں رکھے گا  ۔ ‘‘( المسند للامام احمد بن حنبل ، الحدیث ۱۲۶، ج۱ ، ص ۵۳)

چوتھی حدیثِ  پاک

اپنی قوم کی حمایت میں تلواراٹھانا :

          حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمانِ عالیشان ہے : ’’سات افراد اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عرش کے سائے میں ہوں گے جس دن اس کے علاوہ کو ئی سایہ نہ ہوگا(۱) وہ شخص جو اللہ عَزَّوَجَلَّ  کا ذکر کرے اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے (۲)وہ شخص جس کا دل مساجدسے شدید محبت کے سبب انہی میں لگا رہے (۳)وہ شخص جو کسی بندے سے محض اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خاطر محبت رکھتا ہے (۴)وہ حکمران جواپنی رعایا میں عدل و انصاف کرتاہے (۵)وہ شخص جو اپنے دائیں ہاتھ سے اس طرح صدقہ کرے کہ بائیں ہاتھ کوخبرنہ ہو (۶)وہ شخص جس پر کوئی  مال و جمال والی عورت خود کو گناہ کے لئے پیش کرے لیکن وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے جلا ل کی



[1]    صدرالشریعہ، بدرالطریقہ مفتی محمدامجدعلی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ  القوی مکاتب غلام کے بارے میں  فرماتے ہیں  : ’’آقااپنے غلام سے مال کی ایک مقدارمقررکرکے یہ کہہ دے کہ اتنااداکردے توآزادہے اورغلام اسے قبول بھی کرلے اب یہ مکاتب ہوگیاجب کُل اداکردے گاآزادہوجائے گااورجب تک اس میں سے کچھ بھی باقی ہے غلام ہی ہے  ۔ ‘‘ (بہارِشریعت، ج۱، حصہ ۹، ص۹)



Total Pages: 67

Go To