Book Name:Saya e Arsh Kis Kis ko Milay ga?

            (۱)شعبۂ کتُبِ اعلیٰحضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ             (۲)شعبۂ درسی کُتُب  

            (۳)شعبۂ تراجمِ کتب                                        (۴)شعبۂ تفتیشِ کُتُب

            (۵)شعبۂ اصلاحی کُتُب                                   (۶)شعبہ تخریج

            ’’ا لمدینۃ العلمیۃ‘‘کی اوّلین ترجیح سرکارِ اعلٰیحضرت اِمامِ اَہلسنّت، عظیم البَرَکت، عظیمُ المرتبت، پروانۂ شمعِ رِسالت، مُجَدِّدِ دین و مِلَّت، حامیٔ

سنّت ، ماحی بِدعت، عالِمِ شَرِیعَت، پیرِ طریقت، باعثِ خَیْر و بَرَکت، حضرتِ علاّمہ مولیٰنا الحاج الحافِظ القاری الشّاہ امام اَحمد رَضا خان عَلیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کی گِراں مایہ تصانیف کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق حتَّی الْوُسعَ سَہْل اُسلُوب میں پیش کرنا ہے ۔ تمام اسلامی بھائی اور اسلامی بہنیں اِس عِلمی ، تحقیقی اور اشاعتی مدنی کام میں ہر ممکن تعاون فرمائیں اورمجلس کی طرف سے شائع ہونے والی کُتُب کا خود بھی مطالَعہ فرمائیں اور دوسروں کو بھی اِس کی ترغیب دلائیں  ۔

اللہ عَزَّ وَجَلَّ ''دعوتِ اسلامی'' کی تمام مجالس بَشُمُول''المد ینۃ العلمیۃ'' کو دن گیارہویں اور رات بارہویں ترقّی عطا فرمائے اور ہمارے ہر عملِ خیر کو زیورِ اخلاص سے آراستہ فرماکر دونو ں جہاں کی بھلائی کا سبب بنائے ۔ ہمیں زیرِ گنبدِ خضرأ شہادت، جنّت البقیع میں مدفن اور جنّت الفردوس میں جگہ نصیب فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

             رمضان المبارک ۱۴۲۵ھ

پہلے اسے پڑھ لیجئے !

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

          عقل انسانی کو حیرت زدہ کردینے والا عرشِ عظیم بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہے جو بغیر ستونوں کے قائم ہے اور اس کی قدرت کا عظیم شاہکار ہے  ۔ اورمخلوقِ خداوندی میں سب سے بڑا ہے جیسا کہ مفسِّرِ قرآن امام ابوعبداللہ  محمدبن احمدانصاری قرطبی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی  فرماتے ہیں  :  ’’عرش، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مخلوقات میں سب سے بڑ اہے ۔ ‘‘(الجامع لاحکام القرآن ، سورۃ الاعراف، تحت الآیۃ۵۴، ج۴، ص۱۵۹)

          علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں  :  ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عرش کی حقیقت کو کوئی  نہیں جانتاہم صرف اس کانام جانتے ہیں ۔ ‘‘ اور اس پر اس حدیث سے استدلال کیا، چنانچہ امام بیہقی اپنی سند کے ساتھ روایت فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا ابو ذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اللہ کے محبوب، دانائے غیوب عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہو کرعرض کی  : ’’یارسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ! آپ پر سب سے عظیم آیت کون سی نازل ہوئی؟‘‘توحضورنبیٔ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’آیت الکرسی ۔ ‘‘پھر ارشاد فرمایا : ’’اے ابوذر! ساتوں آسمان کرسی کے مقابلے میں ایسے ہیں جیسے کسی بیابان میں  لوہے کا چھلّا پڑا ہواور عرش کرسی کے مقابلے میں ایسا ہے جیسے بیابان زمین لوہے کے چھلّے کے مقابل ہے ۔  ‘‘(الاسماء والصفات للبیھقی، مصنف ابن ابی شیبہ بحوالہ مفردات الفاظ القرآن، ص۵۵۸)

اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے مطیع وفرماں بردار خاص بندوں کواپنے عظیم عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا جس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہو گا ۔  انسان دنیا میں اپنے اہل وعیال کی خاطردکھ درد اورتکالیف برداشت کرتا ہے ان کے لئے بڑے بڑے گناہ کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتامگرقیامت کے دن’’ نفسی نفسی ‘‘کا عالم ہوگا اور وہ ان سب سے دور بھاگ رہا ہوگا ۔  جیسا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتاہے  :

یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ(۳۴) وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ(۳۵) وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ(۳۶)(پ۳۰، عبس :  ۳۴تا ۳۶ )

ترجمۂ کنز الایمان : اس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی اورماں اورباپ اورجورو اور بیٹوں سے ۔

            نیزاس وقت کیا حال ہوگاجب سورج ایک یا دوکمان کے فاصلے پر رہ کر آگ برسا رہا ہوگا ہر ایک پسینے سے شرابور ہورہاہوگا ، عرش الٰہی عَزَّوَجَلَّکے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہو گاہر ایک سائے کی تلاش میں مارا مارا پھر تا ہوگا مگر عرش کاسایہ تو انہی خوش نصیبوں کو ملے گا جنہوں نے دنیامیں اپنے رب عَزَّوَجَلَّکوراضی کیا ہوگا ،



Total Pages: 67

Go To