Book Name:Saya e Arsh Kis Kis ko Milay ga?

(۴)…حضرت سیِّدُنا ابوایوب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی ٔپاک ، صاحبِ لَوْلاک ، سیّاحِ اَفلاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے ارشادفرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خاطر آپس میں محبت رکھنے والے قیامت کے دن عرش کے اردگرد یاقوت کی کرسیوں پر ہوں گے۔ ‘‘  

  (المرجع السابق ، الحدیث۳۹۷۳ ، ج۴ ، ص۱۵۰)

(۵)… حضرت سیِّدُناابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی ٔ مُکَرَّم ، نُورِ مُجسَّم ، رسولِ اَکرم ، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کافرمانِ معظم ہے : ’’اللہ  عَزَّوَجَلَّکے لئے آپس میں محبت رکھنے والے دوبندوں کے لئے کرسیاں رکھی جائیں گی جن پران کوبٹھایا جائے گایہاں تک کہ (لوگوں کا)حسا ب و کتاب ہو جائے۔ ‘‘ (الجامع الصغیر ، الحدیث ۷۸۶۸ ، ص۴۸۱)

(۶)…حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر ، تمام نبیوں کے سَرْوَر ، دو جہاں کے تاجْوَر ، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکافرمانِ عالیشان ہے : ’’کچھ بندے ایسے ہیں جونہ تو انبیاء ہیں اورنہ شہداء لیکن بروز قیامت ان کے لئے نور کے منبر بچھائے جائیں گے اور وہ ’’اَلْفَزَعُ الْاَکْبَر‘‘(یعنی بڑی گھبراہٹ) سے امن میں ہوں گے۔ ‘‘ ایک شخص نے عرض کی : ’’یارسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!  وہ کون لوگ ہوں گے؟‘‘رحمتِ عالم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا : ’’قبائل کے وہ غریب الوطن لوگ جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضاکی خاطرباہم محبت کرتے ہیں۔ ‘‘ (المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۳۵۸ ،  ج۲۰ ،  ص۱۶۸)

          خوفِ خدا  عَزَّوَجَلّکے سبب  دعوتِ گناہ ترک کرنے والے کی حدیث جو حضرت  سیِّدُنا ابوامامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے وہ آگے آئے گی۔

صدقہ کرنے والوں پر عرش کا سایہ :

 (۱)…حضرت سیِّدُنا عقبہ بن عامر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ دلنشین ہے : ’’بندہ اپنے صَدَقے کے سائے میں ہوگا یہاں تک کہ لوگوں کا فیصلہ ہو جائے۔ ‘‘

(المسندللامام احمدبن حنبل ، حدیث عقبۃ بن عامر الجھنی ، الحدیث۱۷۳۳۵ ، ج۶ص۱۲۶ مفہوماً)

(۲)…حضرت سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن سمرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ شہنشاہِ خوش خِصال ، پیکرِ حُسن وجمال ، دافِعِ رنج و مَلال ، صاحب  ِجُودو نوال ، رسولِ بے مثال ، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ورَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاہمارے پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا : ’’میں نے گذشتہ رات ایک عجیب خواب دیکھا ہے۔ ‘‘ (اس حدیث میں یہ بھی ہے) ’’میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا وہ اپنے چہرے کو آگ کے شعلوں سے بچانے کی کوشش کررہا تھاپس اس کا صدقہ آیااور اس کے سر پرسایہ  اور چہرے کے لئے ستر(یعنی رکاوٹ) بن گیا۔‘‘  

(مجمع الزوائد  ، کتاب التعبیر  ، الحدیث ۱۱۷۴۶ ،  ج۷ ،  ص ۳۷۱)

          حضرت مصنف(علامہ جلال الدین سیوطی شافعی علیہ رحمۃاللہ القوی )فرماتے ہیں کہ ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عرش کا سایہ پانے والوں کے متعلق مجھے حضرت ابواسحاق نے حضرت ابوالہدی بن ابوشامہ رحمہم اللہ تعالیٰ کے حوالے سے خبردی ، حضرت ابوالہدی رحمۃ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ’’ میرے والدحضرت ابوشامہ رحمۃ اللہ تعالیٰ  نے یہ اشعارکہے :

وَقالَ النَبِیُّ المُصْطَفٰی اِنَّ سَبْعَۃً                                                                                                                         یُظِلُّہُمُ اللہ الْعَظیمُ بِـظِـلِّـہِ

مُحِبٌّ عَـفِـیْفٌنَاشِیٌ مُـتَـصَـدِّقٌ                                                                                                                                 وَباکٍ مُصَلٍّ وَالاِمَامُ بِعَـدْلِـہِ

ترجمہ : (۱)… رسولِ مجتبیٰ ، نبی مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’بے شک سات قسم کے افراد کو اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا۔

 (۲)…۱؎   اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے محبت کرنے والا ،  ۲؎  پاکدامن شخص(یعنی جوخوفِ خدا عَزَّوَجَلَّکے باعث دعوتِ گناہ چھوڑدے ) ،  ۳؎  وہ نوجوان جو عبادتِ الٰہی میں پروان چڑھا ہو ،  ۴؎  چھپا کرصدقہ کرنے والا ،  ۵؎   اللہعَزَّ وَ جَلَّ کا ذکر کرتے ہوئے رونے ولا ،  ۶؎  نماز پڑھنے والااور  ۷؎  عادل حکمران۔ ‘‘

سایۂ عرش پانے والے دیگر سات اشخاص

 



Total Pages: 67

Go To