Book Name:Saya e Arsh Kis Kis ko Milay ga?

جودوسخاوت، پیکرِعظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو فرماتے ہوئے سنا : ’’جس نے کسی قرضدارکو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کردیاتو قیامت کے دن وہ عرش کے سائے میں ہو گا ۔  ‘‘ (مسند احمد حنبل ، حدیث ابی قتادۃ الانصاری ، الحدیث ۲۲۶۲۲، ج۸، ص ۳۶۷)

حدیثِ سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ :

          حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کویہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’جس نے تنگدست کو مہلت دی یا اس کاقرض معاف کر دیا تو اللہ تَعَالٰی اس دن اسے اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا جس دن اس کے علاوہ کو ئی سایہ نہ ہوگا  ۔ ‘‘ (جامع الترمذی ، کتاب البیوع ، باب فی انظار المعسر الخ ، الحدیث ۱۳۰۶ ، ص ۱۷۸۳)

حدیثِ سیِّدُنا عثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ :

          امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں نے حُسنِ اَخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کویہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ’’ جس دن عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگااس دن اللہ عَزَّوَجَلَّ اس شخص کو اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا جس نے قرضدار کو مہلت دی یاقرض کی ادائیگی کے ذمّہ دارکوچھوڑدیا ۔ ‘‘ (المسند للامام احمد بن حنبل، مسند عثمان بن عفان، الحدیث۵۳۲، ج۱، ص۱۵۸)

حدیثِ سیِّدُناشداد بن اوس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا :

          حضرت سیِّدُنا شدادبن اوس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے والدسے روایت کرتے ہیں ، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو ارشادفرماتے ہوئے سنا :  ’’جس نے کسی تنگدست مقروض کو مہلت دی یا اس پرمالِ قرض کوصدقہ کردیا، اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن اس کو اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا ۔ ‘‘ (مجمع الزوائد، کتاب البیوع، باب فی من فرج عن معسرالخ ، الحدیث۶۶۷۱، ج۴، ص۲۴۱)

 حدیث ِسیِّدُنا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ :

          حضرت سیِّدُنا جابربن عبداللہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ ، با عثِ نُزولِ سکینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمانِ ذیشان ہے : ’’جس شخص کو یہ پسندہوکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  اُسے قیامت کی مشکلات سے نجات عطافرماکراپنے عرش کے سائے میں جگہ دے تو اسے چاہئے کہ وہ تنگدست مقروض کو مہلت دے ۔ ‘‘(المعجم الاوسط ، الحدیث ۴۵۹۲، ج۳، ص ۲۸۰)

حدیثِ سیِّدَتُناعائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا :

          اُم المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاسے مروی ہے کہ حضورنبی ٔکریم، رء ُوف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمانِ عالیشان ہے : ’’جس نے کسی تنگدست قرضدارکو مہلت دی اللہ تَعَالٰی اسے قیامت کے دن عرش کے سائے میں رکھے گا ۔ ‘‘(مجمع الزوائد ، کتاب البیوع ، باب فی من فرج عن معسرا ۔ ۔ ۔ الخ ، الحدیث ۶۶۷۴، ج۴، ص ۲۴۱)

حدیثِ کعب بن عجرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ :

          حضرت سیِّدُنا کعب بن عجرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے حبیب ، حبیبِ لبیبعَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمانِ ذیشان ہے  : ’’جس نے کسی تنگدست کو مہلت دی یا اس پر آسانی کی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا



Total Pages: 67

Go To