Book Name:Saya e Arsh Kis Kis ko Milay ga?

(موطاامام مالک ، کتاب الشعرباب ماجاء فی المتحابین فی اللہ ، الحدیث ۱۸۲۵ ، ج۲ ، ص۴۳۸)

(۲)…حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُارشادفرماتے ہیں کہ میں نے سرکارِ والا تَبار ، شفیعِ روزِ شُمار ، دو عالَم کے مالک و مختار باذنِ پروردگارعَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو فرماتے ہوئے سنا کہ’’اللہعَزَّوَجَلَّ کے لئے آپس میں محبت کرنے  والے نورکے منبروں پرعرش کے سائے میں ہوں گے اس دن کے جب عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔ ‘‘

(المسند للامام احمد بن حنبل ، حدیث معا ذ بن جبل ، الحدیث۲۲۱۲۵ ، ج۸ ، ص۲۴۶)

(۳)…حضرت سیِّدُنا عرباض بن ساریہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نُبوت ، مَخْزنِ جودوسخاوت ، پیکرِعظمت و شرافت ، مَحبوبِ رَبُّ العزت عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ارشادفرماتے ہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتا ہے : ’’میرے عزت و جلال کی وجہ سے آپس میں محبت رکھنے والے اس دن میرے عرش کے سایہ میں ہوں گے جس دن میرے عرش کے سایہ کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ ‘‘ 

(المسند للامام احمد بن حنبل ، مسند الشامین ، الحدیث۱۷۱۵۸ ، ج۶ ، ص۸۶)

(۴)…حضرت سیِّدُنا ابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کے مَحبوب ، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکوارشاد فرماتے ہوئے سناکہ ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خاطر آپس میں محبت کرنے والے نور کے منبروں پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عرش کے سائے میں ہوں گے جس دن اس  کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔ تمام لوگ اس دن خوفزدہ ہوں گے لیکن ان پر کوئی خوف نہ ہوگا۔ ‘‘

  (المعجم الاوسط  ،  من اسمہ احمد الحدیث ۱۳۲۸ ، ج۱ ، ص۳۶۴)

باہم محبت کرنے والوں پرعرش کا سایہ :

          یہاں پروہ احادیث مبارکہ بیان کی جاتی ہیں جن میں عرش کاسایہ پانے والوں کا اشارتاً ذکرموجودہے۔

(۱)…حضرت سیِّدُناابومالک اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حُسنِ اَخلاق کے پیکر ، نبیوں کے تاجور ، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :   ’’بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ایسے بندے بھی ہیں جونہ انبیاء علیہم السلام ہیں اورنہ شہداء لیکن انبیاء کرامعلیہم السلام اور شہدائے عظام ان کے مقام ومرتبہ اوراللہ عَزَّوَجَلَّ  سے ان کے قرب پر رشک کریں گے۔ ‘‘ایک اعرابی نے عرض کی : ’’ یارسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم !یہ کون لوگ ہوں گے؟‘‘حضورنبی ٔکریم ، رء ُوف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’یہ مختلف شہروں کے لوگ ہوں گے ان کے درمیان کوئی خونی رشتہ نہ ہوگامگر وہ ایک دوسرے سے صرف رضائے الٰہیعَزَّوَجَلَّکی خاطر محبت کرتے اور تعلق رکھتے ہوں گے ۔ بروزِقیامت اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کے لئے اپنے (عرش کے) سامنے نور کے منبر رکھنے کاحکم فرمائے گا۔ اور ان کاحساب بھی اُنہی منبروں پرفرمائے گا۔ لوگ توخوفزدہ ہوں گے لیکن وہ بے خوف ہوں گے۔ ‘‘ (المعجم الکبیر ، الحدیث ۳۴۳۳ ، ج۳ ،  ص۲۹۰بتغیر)

(۲)…حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب سینہ ، با عثِ نُزولِ سکینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ  کے بعض مقرب بندے قیامت کے دن عرش کے دائیں جانب بیٹھے ہوں گے اور  عرشِ الٰہی  عَزَّوَجَلَّ کی دونو ں جانبیں سیدھی ہی ہیں۔ وہ بندے نور کے منبروں پر ہوں گے اوران کے چہرے نورانی ہوں گے وہ نہ تو انبیاء علیہم السلام ہوں گے نہ شہداء اور نہ ہی صدیقین۔ ‘‘ عرض کی گئی : ’’یارسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ! وہ کون لوگ ہوں گے؟‘‘ نبی ٔکریم ، ر ء وف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’وہ لوگ جواللہعَزَّوَجَلَّ  کے لئے آپس میں محبت کرتے ہیں۔ ‘‘   (المرجع السابق ، الحدیث ۱۲۶۸۶ ، ج۱۲ ، ص۱۰۴)

(۳)…حضرت سیِّدُنا ابوامامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ اللہ کے پیارے حبیب ، حبیبِ لبیبعَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّکے بعض بندے ایسے ہیں کہ وہ انہیں قیامت کے دن نور کے منبروں پر بٹھائے گا ، نوران کے چہروں کوچھپالے گا حتّٰی کہ لوگ حساب سے فارغ ہوجائیں گے ۔ ‘‘   (المرجع السابق ، الحدیث۷۵۲۷ ، ج۸ ،  ص ۱۱۲)

 



Total Pages: 67

Go To