Book Name:Saya e Arsh Kis Kis ko Milay ga?

صاحب  جُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ورَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاہمارے پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا : ’’میں نے گذشتہ رات ایک عجیب خواب دیکھا ہے ۔ ‘‘ (اس حدیث میں یہ بھی ہے ) ’’میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا وہ اپنے چہرے کو آگ کے شعلوں سے بچانے کی کوشش کررہا تھاپس اس کا صدقہ آیااور اس کے سر پرسایہ  اور چہرے کے لئے ستر(یعنی رکاوٹ) بن گیا ۔ ‘‘(مجمع الزوائد ، کتاب التعبیر ، الحدیث ۱۱۷۴۶، ج۷، ص ۳۷۱)

          حضرت مصنف(علامہ جلال الدین سیوطی شافعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی  )فرماتے ہیں کہ ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عرش کا سایہ پانے والوں کے متعلق مجھے حضرت ابواسحاق نے حضرت ابوالہدی بن ابوشامہ رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی کے حوالے سے خبردی ، حضرت ابوالہدی رحمۃ اللہ  تعالیٰ فرماتے ہیں کہ’’ میرے والدحضرت ابوشامہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی نے یہ اشعارکہے  :

وَقالَ النَبِیُّ المُصْطَفٰی اِنَّ سَبْعَۃً                                                                                                                         یُظِلُّہُمُ اللہُ الْعَظیمُ بِـظِـلِّـہِ

مُحِبٌّ عَـفِـیْفٌنَاشِیٌ مُـتَـصَـدِّقٌ                                                                                                                                 وَباکٍ مُصَلٍّ وَالاِمَامُ بِعَـدْلِـہِ

ترجمہ : (۱)… رسولِ مجتبیٰ، نبی مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’بے شک سات قسم کے افراد کو اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا ۔

 (۲)…۱؎   اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے محبت کرنے والا ،  ۲؎  پاکدامن شخص(یعنی جوخوفِ خدا عَزَّوَجَلَّکے باعث دعوتِ گناہ چھوڑدے )،  ۳؎  وہ نوجوان جو عبادتِ الٰہی میں پروان چڑھا ہو،  ۴؎  چھپا کرصدقہ کرنے والا،  ۵؎   اللہعَزَّ وَ جَلَّ کا ذکر کرتے ہوئے رونے ولا،  ۶؎  نماز پڑھنے والااور  ۷؎  عادل حکمران ۔ ‘ ‘

سایۂ عرش پانے والے دیگر سات اشخاص

          یہاں پرماقبل میں بیان کردہ سایۂ عرش پانے والے اشخاص کے علاوہ دیگر سات افرادکے بارے میں شیخ الاسلام امام ابن حجرعلیہ رحمۃاللہ  الاکبرکی بیان کردہ چار احادیث مبارکہ بیان کی جاتی ہیں ۔

 پہلی حدیث پاک

تنگدست مقروض کو مہلت دینے کی فضیلت  :

          حضرت سیِّدُنااَبُوالْیُسْررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگار عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمانِ خوشگوار ہے :  ’’جس نے کسی تنگدست مقروض کو مہلت دی یا اس کا(کچھ حصہ) قرض معاف کردیا، اللہ تبارک و تعالیٰ اس کو اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گااس دن جب عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ گا ۔ ‘‘(جامع الترمذی ، کتاب البیوع ، باب ماجاء فی انظارالخ ، الحدیث ۱۳۰۶، ص۱۷۸۳)

           امام طبرانی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی نے ’’ المعجم الکبیر ‘‘میں یہ حدیث پاک ان الفاظ کے ساتھ روایت فرمائی ہے کہ’’ بے شک قیامت کے دن سب سے پہلے لوگوں میں عرش کا سایہ اس شخص کو نصیب ہو گاجس نے کسی قرضدار کو مہلت دی یااس پرقرض کوصدقہ کر دیا ۔  ‘‘ (المعجم الکبیر، الحدیث ۳۷۷، ج۱۹، ص ۱۶۷)

حدیث ِ پاک کی شرح  :

          اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ سب سے پہلے اس شخص ( یعنی جس نے قرض دارکومہلت دی یاقرض معاف کردیا)کوعرش کا سایہ ملے گا ۔ اسی مضمون کی احادیث مبارکہ حضرت سیِّدُناابوقتادہ، حضرت سیِّدُناابوہریرہ، حضرت سیِّدُناعثمان، حضرت سیِّدُنا شدادبن اوس، حضرت سیِّدُناکعب بن مالک، حضرت سیِّدَتُناعائشہ، حضرت سیِّدُناابودرداء اور حضرت سیِّدُنااسعد بن زرارہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہم اجمعین سے بھی مروی ہیں ۔ چنانچہ،

حدیثِ سیِّدُنا ابوقتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ :

           حضرت سیِّدُناابوقتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں نے تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ



Total Pages: 67

Go To