Book Name:Saya e Arsh Kis Kis ko Milay ga?

سایۂ عرش پانے والے چارخوش نصیب :

          حضرت سیِّدُنا اَنس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہسے مروی ہے کہ نبی ٔمُکَرَّم ، نُورِ مُجسَّم ، رسولِ اَکرم ، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کاارشادخوشبودارہے : ’’چار اشخاص اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عرش کے سائے میں ہوں گے جس دن اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہو گا۔ (۱)وہ جوان جس نے اپنی جوانی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کے لئے وقف کر دی۔ (۲)وہ شخص جو اپنے دائیں ہاتھ سے اس طرح چھپا کر صدقہ کرے کہ بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہو(۳)وہ تاجر جو خرید و فروخت میں حق کامعاملہ کرتا ہواور(۴)وہ شخص جو لوگوں پر حاکم ہواور مرتے دم تک عدل وانصاف سے کام لے۔ ‘‘

          (الکامل فی ضعفاء الرجال  ،  ج۸ ،  الحدیث۲۰۲۴ ،  ص ۴۰۸)

حضرت سلمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کامکتوب :

          حضرت سَیِّدُناسلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہنے سَیِّدُنا ابوالدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہکی طرف خط لکھا کہ ’’ ان صفات کے حامل لوگ عرش کے سائے میں ہوں گے (۱)انصاف کرنے والا حکمران (۲) وہ مالدار جواپنے دائیں ہاتھ سے اس طرح صدقہ کرے کہ بائیں ہاتھ کو خبرنہ ہو(۳) وہ شخص جس کو حسب ومنصب والی عورت اپنی طرف دعوتِ(گناہ)دے اوروہ کہے کہ ’’میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتا ہوں جو تمام  جہانوں کاپالنے والا ہے ‘‘(۴)وہ شخص جس کی نشونمااس حال میں ہوئی کہ اس کی صحبت ، جوانی اورقوت اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پسنداوررضاوالے کاموں میں صرف ہوئی (۵)وہ شخص جس کا دل مساجد سے محبت کی وجہ سے انہی میں لگا رہتا ہے (۶) وہ شخص جس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کیا اوراس کے خوف سے اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے اور(۷) ایسے دو شخص جو باہم ملیں توان میں سے ایک دوسرے سے کہے : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !میں تم سے رضائے الہی عَزَّوَجَلَّ کی خاطرمحبت کرتا ہوں۔ ‘‘

(المصنف لابن ابی شیبۃ  ، کتاب الزھد  ،  الحدیث ۱۲ ،  ج۸ ،  ص ۱۷۹)

سایۂ عرش پانے والوں کاجُداجُدابیان

عادل حکمران پرعرش کاسایہ:

          عدل وانصاف سے کام لینے والے بادشاہ کے بار ے میں اشارتاًتوبہت سی احادیث مبارکہ ہیں نیزحضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے بھی حدیث مروی ہے جو عنقریب آئے گی ، یہاں پران احادیث مبارکہ کوبیان کیاجاتاہے جو عادل حکمران کے بارے میں واضح وصریح ہیں۔ چنانچہ ،

(۱)…حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہسے مروی ہے کہ نبی ٔ کریم ، رء وف رحیم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمانِ بشارت نشان ہے : ’’ انصاف کرنے والے بادشاہ بروز ِقیامت اللہ عَزَّوَجَلَّ کے قرب میں عرش کے دائیں جانب نور کے منبروں پر ہوں گے اور یہ وہ ہوں گے جواپنی رعایا اور اہل و عیال کے درمیان فیصلہ کرتے وقت عدل وانصاف سے کام لیتے تھے۔ ‘‘ (صحیح مسلم  ، کتاب الامارۃ  ، باب فضیلۃ الامیر العادل۔ ۔ ۔  الخ  ،  الحدیث ۴۷۲۱ ، ص۱۰۰۵)

(۲)… نور کے پیکر ، تمام نبیوں کے سَرْوَر ، دو جہاں کے تاجْوَر ، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمان ذیشان ہے : ’’عادل حکمران بروزِقیامت اللہ عَزَّوَجَلَّ کا سب سے زیادہ محبوب اور سب سے زیادہ اس کے قرب میں ہو گا۔ ‘‘

اللہ عَزَّوَجَلَّ  کے لئے محبت کرنے والوں کے فضائل :

          اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضاکے لئے آپس میں محبت کرنے والوں کے بارے میں مستقل احادیث مبارکہ بھی مروی ہیں اوران کے علاوہ دیگر بھی ہیں ، یہاں پر  حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ، حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ، حضرت سیِّدُناعرباض بن ساریہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاورحضرت سیِّدُنا ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہسے مروی مستقل احادیث مبارکہ بیان کی جاتی ہیں۔ چنانچہ ،

(۱)…حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہسے مروی ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال ، پیکرِ حُسن وجمال ، دافِعِ رنج و مَلال ، رسولِ بے مثال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  بروزِ قیامت ارشاد فرمائے گا : ’’وہ لوگ کہاں ہیں جو صرف میری عزت و جلال کی وجہ سے باہم محبت رکھتے تھے آج قیامت کے دن جبکہ میرے عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ، میں انہیں اپنے عرش کے سائے میں جگہ دوں گا۔ ‘‘

 



Total Pages: 67

Go To