Book Name:Saya e Arsh Kis Kis ko Milay ga?

 

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

 اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الْعَظِیْمِ الَّذِیْ لَاظِلَّ اِلَّاظِلَّہٗ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ

عَلٰی مُحَمَّدِنِالَّذِیْ عَلَامَقَامُہٗ وَرَفَعَ مَحَلُّہٗ

          تمام تعریفیں عظمت والے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں کہ بروزِقیامت جس کے سایۂ رحمت کے سواکوئی سایہ نہ ہوگااور درود و سلام ہوحضرت سیِّدُنا محمدمصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم پر جن کا مقام بلند اور مرتبہ اونچا ہے۔

 اَمَّا بَعْدُ!

          مشہور حدیث پاک میں سات ایسے خوش نصیبوں کا ذکرہے جنہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے عرشِ عظیم کا سایہ عطا فرمائے گا اورانہی سات خوش نصیبوں کا ذکر شیخ ابو شامہ نے بھی اپنے دو اشعار میں کیا ہے ۔

           طویل عرصہ مشائخ اس بارے میں بحث و تمحیص کرتے رہے کہ کیا ان سات کے علاوہ کسی آٹھویں شخص کو بھی عرشِ عظیم کا سایہ نصیب ہو گا یا نہیں ؟شیخ الاسلام ابوالفضل امام ابن حجر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہنے ان سات افرادپر ان لوگوں کا اضافہ فرمایا جن کاذکر احادیث صحاح میں آیا ہے ۔ اور ان کو اپنے دو اشعار میں جمع کردیا پھر مزید تلاش کی تواَب سات کے بجائے دُگنے (یعنی چودہ )ہوگئے۔ اوران کوچاراشعار میں جمع کیا ہے۔

          (حضرت مصنف علامہ سیوطی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں )’’عرش کا سایہ پانے والوں کے بارے میں میرے پاس ان سے بھی زیادہ احادیث ہیں جو کہ دیگر اعمال وخصائل کے بارے میں ہیں ، اور ان سب افرادکاذکر میں نے اس کتاب میں جمع کردیا ہے۔ جس میں اس(باب )کے اصول اوربنیادی باتوں کو بیان کیا ہے ، صرف ترغیب ہی نہیں دلائی بلکہ تمام احادیث کے ساتھ ان کے تمام شواہد تصریحاً یا اشارتاً ذکرکردئیے ہیں اور اس کا نام ’’ تَمْہِیْدُ الْفَرْشِ فِی الْخِصَالِ الْمُوْجِبَۃِ لِظِلِّ الْعَرْشِ(یعنی سایۂ عرش کامستحق بنانے والے اعمال کے لئے راہ کوہموارکرنا) رکھاہے۔ میں اللہ تعالیٰ ہی سے بھلائی کی توفیق اور سیدھے راستہ پر چلنے کاسوال کرتا ہوں۔ ‘‘

سایۂ عرش پانے والے پہلے سات اشخاص

(۱)…حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ اورحضرت سیِّدُناابو سعیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما روایت کرتے ہیں کہ حضورنبی ٔپاک ، صاحبِ لَوْلاک ، سیّاحِ اَفلاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمان عالیشان ہے : ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ سات اشخاص کواپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گاجس دن اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا (۱)عادل حکمران (۲)وہ نوجوان جس کی جوانی عبادتِ الٰہی میں گزری (۳)وہ شخص جس کا دل مسجد سے نکلتے وقت مسجدمیں لگارہے حتی کہ واپس لوٹ آئے (۴)وہ دو شخص جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے محبت کرتے ہوئے جمع ہوئے اور محبت کرتے ہوئے جدا ہوگئے (۵)وہ شخص جوخلوت میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرتا ہو اوراس کی آنکھوں سے  آنسو بہہ نکلیں (۶) وہ شخص جسے کوئی مال و جمال والی عورت گناہ کیلئے بلائے اور وہ کہے کہ’’ میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتا ہوں۔ ‘‘ (۷)وہ شخص جواس طرح چھپا کر صدقہ دے  کہ اس کے بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہو کہ دائیں نے کیا صدقہ کیا ۔ ‘‘

(صحیح مسلم ،  کتاب الزکاۃ ، باب فضل اخفاء الصدقۃ ، الحدیث۲۳۸۰ ،  ص۸۴۰بتقدمٍ وتاخرٍ)

 (۲)…حضرت سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُروایت کرتے ہیں کہ دو جہاں کے تاجْوَر ، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’سات اشخاص اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عرش کے سایہ میں ہوں گے ۔ (۱) وہ شخص جو خلوت میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرے اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑیں (۲) وہ شخص جس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت میں اپنی جوانی گزاری (۳)وہ شخص جس کادل مسجدوں سے محبت کی وجہ سے انہی میں لگا رہے(۴) وہ شخص جو اپنے دائیں ہاتھ سے اس طرح چھپا کرصدقہ کرے کہ بائیں کو خبر نہ ہو (۵)وہ دوشخص جو باہم ملتے ہیں تو ان میں سے ہر ایک دوسرے سے کہتا ہے : ’’ میں تجھ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے محبت کرتا ہوں۔ ‘‘ اوراسی پرقائم رہیں (۶) وہ شخص جس کے پاس مال وجمال والی کوئی عورت بھیجی گئی جواسے اپنی طرف( گناہ کی) دعوت دے تو وہ کہے : ’’ میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتا ہوں ‘‘ اور(۷) عادل حکمران ۔ ‘‘ (شعب الایمان ، فصل فی ادامۃ ذکراللہ  ، الحدیث۵۴۹ ،  ج۱ ، ص۴۰۵)

 



Total Pages: 67

Go To