Book Name:Saya e Arsh Kis Kis ko Milay ga?

 

کے بارے میں واضح وصریح ہیں ۔ چنانچہ،

(۱)…حضرت سیِّدُنا عبد اللہ  بن عمروبن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ نبی ٔ کریم ، رء وف رحیم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمانِ بشارت نشان ہے : ’’ انصاف کرنے والے بادشاہ بروز ِقیامت اللہ عَزَّوَجَلَّ کے قرب میں عرش کے دائیں جانب نور کے منبروں پر ہوں گے اور یہ وہ ہوں گے جواپنی رعایا اور اہل و عیال کے درمیان فیصلہ کرتے وقت عدل وانصاف سے کام لیتے تھے ۔ ‘‘

(صحیح مسلم ، کتاب الامارۃ ، باب فضیلۃ الامیر العادل ۔ ۔ ۔  الخ ، الحدیث ۴۷۲۱، ص۱۰۰۵)

(۲)… نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمان ذیشان ہے  : ’’عادل حکمران بروزِقیامت اللہ عَزَّوَجَلَّ کا سب سے زیادہ محبوب اور سب سے زیادہ اس کے قرب میں ہو گا ۔ ‘‘

اللہ عَزَّوَجَلَّ  کے لئے محبت کرنے والوں کے فضائل  :

          اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضاکے لئے آپس میں محبت کرنے والوں کے بارے میں مستقل احادیث مبارکہ بھی مروی ہیں اوران کے علاوہ دیگر بھی ہیں ، یہاں پر  حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ، حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ، حضرت سیِّدُناعرباض بن ساریہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اورحضرت سیِّدُنا ابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی مستقل احادیث مبارکہ بیان کی جاتی ہیں ۔ چنانچہ،

(۱)…حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال، رسولِ بے مثال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  بروزِ قیامت ارشاد فرمائے گا : ’’وہ لوگ کہاں ہیں جو صرف میری عزت و جلال کی وجہ سے باہم محبت رکھتے تھے آج قیامت کے دن جبکہ میرے عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ، میں انہیں اپنے عرش کے سائے میں جگہ دوں گا ۔ ‘‘(موطاامام مالک، کتاب الشعرباب ماجاء فی المتحابین فی اللہ، الحدیث ۱۸۲۵، ج۲، ص۴۳۸)

(۲)…حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ارشادفرماتے ہیں کہ میں نے سرکارِ والا تَبار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باذنِ پروردگارعَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو فرماتے ہوئے سنا کہ’’اللہعَزَّوَجَلَّ کے لئے آپس میں محبت کرنے  والے نورکے منبروں پرعرش کے سائے میں ہوں گے اس دن کے جب عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔  ‘‘

(المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث معا ذ بن جبل، الحدیث۲۲۱۲۵، ج۸، ص۲۴۶)

(۳)…حضرت سیِّدُنا عرباض بن ساریہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِعظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ارشادفرماتے ہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتا ہے :  ’’میرے عزت و جلال کی وجہ سے آپس میں محبت رکھنے والے اس دن میرے عرش کے سایہ میں ہوں گے جس دن میرے عرش کے سایہ کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا  ۔ ‘‘(المسند للامام احمد بن حنبل، مسند الشامین، الحدیث۱۷۱۵۸، ج۶، ص۸۶)

(۴)…حضرت سیِّدُنا ابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کوارشاد فرماتے ہوئے سناکہ ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خاطر آپس میں محبت کرنے والے نور کے منبروں پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عرش کے سائے میں ہوں گے جس دن اس  کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ تمام لوگ اس دن خوفزدہ ہوں گے لیکن ان پر کوئی خوف نہ ہوگا ۔ ‘‘(المعجم الاوسط ، من اسمہ احمد الحدیث ۱۳۲۸، ج۱، ص۳۶۴)

باہم محبت کرنے والوں پرعرش کا سایہ :

          یہاں پروہ احادیث مبارکہ بیان کی جاتی ہیں جن میں عرش کاسایہ پانے والوں کا اشارتاً ذکرموجودہے ۔

 



Total Pages: 67

Go To