Book Name:Saya e Arsh Kis Kis ko Milay ga?

تَعَالٰی عَلَیْہِ کی کتاب ’’اَلشِّفَائُ بِتَعْرِیْفِ حُقُوْقِ الْمُصْطَفٰی‘‘آپ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے حلقہ درس میں مکمل ختم ہوئی۔

تقویٰ وپرہیزگاری :

           آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِتقویٰ وتزکیہ کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے ، اکثر اوقات یا د الٰہی عَزَّوَجَلَّمیں مستغرق رہتے ، نمازِ تہجد با قاعدگی سے ادا فرمایا کرتے تھے ، اگرکبھی رہ جاتی تو اتنے پر یشان ہوتے کہ بیمار پڑجاتے ۔

حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے لقب عطافرما یا :

        علوم حدیث میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی ذات سے مسلمانانِ عالم نے بڑا فیض حاصل کیا ، علمِ حدیث میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکو بارگاہِ رسالت  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے شیخ الحدیث کا لقب عطا ہوا ۔ چنانچہ ،

          آپ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ خود فرماتے ہیں کہ ربیع الاول ۹۰۴ھـ جمعرات کی شب میں نے خواب میں دیکھا کہ میں دربارِ رسالت علی صاحبھاالصلوۃ والسلام  میں حاضر ہو ں ، میں نے آپ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حدیث پاک کے بارے میں اپنی ایک تالیف کاتذکرہ کرتے ہوئے عرض کی : ’’اگراجازت مرحمت فرمائیں تواس میں سے کچھ پڑھ کرسناؤں ؟‘‘حضورِ اَکرم ، رسولِ محتشَم ، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’سناؤشیخ الحدیث!‘‘مجھے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا شیخ الحدیث کے الفاظ سے یادفرمانادنیاومافیہاسے اچھا معلوم ہوا۔ ‘‘ (جامع الاحادیث ، ج۱ ، ص۱۲)

75مرتبہ دیدارِمصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم:

          آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِبہت بڑے عاشقِ رسول  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمتھے ، اوراس کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکو 75مرتبہ حالتِ بیداری میں حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی زیارت نصیب ہوئی۔

تصانیف :

          آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو اپنی ذہانت کی بنا پر دولاکھ احادیث یادتھیں۔ علمِ حدیث میں دو سوسے زائد کتابیں تصنیف کیں۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِجلیل القدر مفسِّر بھی تھے ۔ تفسیربالماثور میں ’’الدرالمنثور‘‘ اور لغت میں ’’جلالین‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی قرآن فہمی کا واضح ثبوت ہے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ تصنیف وتالیف کے میدان میں اپنی مثال آپ تھے ، کثرتِ تالیفات میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکو نہایت بلند مقام حاصل ہے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی تصانیف وتالیفات پانچ سو سے زائد ہیں۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی چند مشہور کتابوں کے نام یہ ہیں :

          (۱)اَلدُّ رُّ الْمَنْثُوْرُ فِی التَّفْسِیْرِ بِالْمَاثُوْر(۲)اَلْاِتْقَانُ فِیْ عُلُوْمِ الْقُرْاٰن (۳)جَمْعُ الْجَوَامِع اَوِالْجَامِعُ الْکَبِیْر(۴)اَلْجَامِعُ الصَّغِیْر(۵)تَدْرِیْبُ الرَّاوِی فِیْ تَقْرِیْبِ النَّوَوِی (۶)طَبَقَاتُ الْحُفَّاظ(۷)اَلَّلاٰئِی الْمَصْنُوْعَۃُ فِی الْاَحَادِیْثِ الْمَوْضُوْعَۃ(۸)قُوْتُ الْمُغْتَذِی عَلی جَامِعِ التِّرْمِذِی(۹)تَفْسِیْرُ الْجَلَالَیْن  (۱۰)لُبَابُ الْمَنْقُوْل فِیْ اَسْبَابِ النَّزُوْل (۱۱)اَلدُّرَرُالْکَامِنَۃ فِیْ اَعْیَانِ الْمِئَۃِ الثَّامِنَۃ (۱۲)اَلْحَاوِیْ لِلْفَتَاوٰی۔

وفات :

           ۹۰۶ ہجری میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِاپنے گھر’’ رَوْضَۃُ الْمِقْیَاس‘‘ میں خلوت نشین ہوگئے ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا دل دُنیا اور اہل دنیا سے اُکتاگیا ، ہمہ تن یادِ الٰہی عَزَّوَجَلَّمیں مشغول رہنے لگے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکاوصال۱۹جمادی الاولیٰ ۹۱۱ھ میں ہوا۔ اس طرح آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے۶۲سال کی عمرپائی۔

{اللہعَزَّوَجَلَّ  کی اُن پر رحمت ہو۔ ۔ ا ور۔ ۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو }         اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

دعوتِ اسلامی کے سنتوں کی تربیت کے مدنی قافلوںمیں سفراورروزانہ فکرمدینہ کے ذریعے مدنی انعامات کارسالہ پرکرکے ہرمدنی (اسلامی) ماہ کے ابتدائی دس دن کے اندراندراپنے یہاں کے(دعوت اسلامی کے) ذمہ دارکوجمع کروانے کامعمول بنالیجئے ان شاء اللہ عزوجل اس کی برکت سے پابندسنت بننے ، گناہوں سے نفرت کرنے اورایمان کی حفاظت کے لئے کڑہنے کاذہن بنے گا۔



Total Pages: 67

Go To