Book Name:Saya e Arsh Kis Kis ko Milay ga?

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

’’ سایۂ عرش ہوعطایارب  !‘‘ کے ستَّرہ  حُرُوف کی نسبت سے اِس کتاب کو پڑھنے کی 17  نیّتیں

اَز : شیخ طریقت، امیراَہلسنت، بانی ٔدعوتِ اسلامی حضرت علامّہ

مولاناابوبلال محمدالیاس عطارقادری رَضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ

فرمانِ مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  :    نِیَّۃُ الْمُؤْمِنِ خَیْرٌ مِّنْ عَمَلِہٖ مسلمان کی نیّت اس کے عمل سے بہتر ہے ۔ (المعجم الکبیر للطبرانی ج۶ ص۱۸۵حدیث۵۹۴۲ )

 دو مَدَنی پھول :

 {۱} بِغیر اچّھی نیّت کے کسی بھی عملِ خیر کا ثواب نہیں ملتا ۔  

{۲}جتنی اچّھی نیّتیں زِیادہ، اُتنا ثواب بھی زِیادہ ۔  

            {۱}ہر بارحمد و {۲}صلوٰۃ اور{۳}تعوُّذو{۴}تَسمِیہ سے آغاز کروں گا(اسی صَفْحَہ پر اُوپر دی ہوئی دو عَرَبی عبارات پڑھ لینے سے چاروں نیّتوں پر عمل ہوجائے گا) {۵}رِضائے الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے لئے اس کتاب کا اوّل تا آخِر مطالَعہ کروں گا ۔  {۶} حتَّی الْوَسْعْ اِس کا باوُضُو اور {۷}قِبلہ رُو مُطالَعَہ کروں گا{۸} قرآنی آیات اور {۹}اَحادیثِ مبارَکہ کی زِیارت کروں گا {۱۰} جہاں جہاں ’’اللہ ‘‘کا نام پاک آئے گا وہاں عَزَّوَجَلَّ  اور{۱۱} جہاں جہاں ’’سرکار‘‘کا اِسْمِ مبارَک آئے گا وہاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور{۱۲} جہاں جہاں کسی صحابی کانام مبارک آئے گارَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ پڑھوں گا  {۱۳}اس کتاب کا مطالعہ شروع کرنے سے پہلے اس کے مؤلف کو ایصال ثواب کروں گا {۱۴}(اپنے ذاتی نسخے کے ) ’’یادداشت‘‘ والے صَفْحَہ پر ضَروری نِکات لکھوں گا {۱۵، ۱۶} اس حدیثِ پاک ’تَھَادَوْا تَحَابُّوْا‘‘ ایک دوسرے کو تحفہ دو آپس میں محبت بڑھے گی‘‘ {مؤطا امام مالک ج۲ص۴۰۷ حدیث ۱۷۳۱} پرعمل کی نیت سے (ایک یا حسبِ توفیق) یہ کتاب خریدکردوسروں کو تحفۃًدوں گا {۱۷}کتابت وغیرہ میں شَرْعی غلَطی ملی تو ناشرین کو تحریری طور پَر مُطَّلع کروں گا(ناشِرین وغیرہ کو کتا بوں کی اَغلاط صِرْف زبانی بتاناخاص مفید نہیں ہوتا)

اچھی اچھی نیّتوں سے متعلق رَہنمائی کیلئے ، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کا منفرِد    سنّتوں بھرا بیان ’’نیّت کا پھل‘‘اورنیتوں سے متعلق آپ کے مُرتّب کردہ  کارڈ  یا   پمفلٹ  مکتبۃ المدینہ  کی کسی بھی شاخ سے ھدیّۃًحاصِل فرمائیں ۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَیْطٰنِ الرَّجِیْمِ  ؕ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمِ 

 المد ینۃ العلمیۃ

از : شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانی ٔدعوتِ اسلامی حضرت علّامہ

 مولانا ابوبلال محمد الیاس عطاؔر قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ

            الحمد للّٰہ علٰی اِحْسَا نِہٖ وَ بِفَضْلِ رَسُوْلِہٖ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تبلیغِ قرآن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ’’دعوتِ اسلامی‘نیکی کی دعوت، اِحیائے سنّت اور اشاعتِ علمِ شریعت کو دنیا بھر میں عام کرنے کا عزمِ مُصمّم رکھتی ہے ، اِن تمام اُمور کو بحسنِ خوبی سر انجام دینے کے لئے متعدَّد مجالس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جن میں سے ایک مجلس ’’المد ینۃ العلمیۃ‘‘بھی ہے جو  دعوتِ اسلامی کے عُلماء و مُفتیانِ کرام کَثَّرَ ھُمُ اللہ  تعالٰی پر مشتمل ہے ، جس نے خالص علمی، تحقیقی او راشاعتی کام کا بیڑا اٹھایا ہے ۔  اس کے مندرجہ ذیل چھ شعبے ہیں  :

 



Total Pages: 67

Go To