Book Name:Bareilly Say Madina

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                               صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

قُطبِ مدینہ کی گواہی

          اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّ  وَجَلَّ امامِ اہلسنّت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ زبردست عاشِقِ رسول تھے۔ ان پر آقائے مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا خُصُوصی کرم تھا۔ بریلی شریف سے مدینہ منّورہ زَادَھَا اللہ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً کی حاضِری کا ایک اور ایمان افروز واقِعہ مُلاحَظہ ہو۔چُنانچِہ ساکِنِ مدینہ الحاج محمد عارِف ضِیائی رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کا بیان ہے کہ ایک بار حُضور قُطبِ مدینہ سیِّدی ومُرشِدی و مولائی ضِیاء ُ الدِّین احمد قادِری رضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ القَوِی نے مجھ سے اِرشاد فرمایا: یہ اُن دنوں کی بات ہے جب اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ بقیدِ حیات تھے، میں ایک بار سرکار ِ نامدار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مزار فائضُ الاَنوار پر حاضر ہوا۔ صلوٰۃ و سلام عَرْض کرنے کے بعد  ’’ بابُ السّلام ‘‘  پہنچا،  وہاں سے اچانک میری نظر سُنہری جالیوں کی طرف چلی گئی تو کیا دیکھتا ہوں کہ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ شَہَنشاہِ رِسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مُواجَھَہ  شریف کے سامنے دَست بَستہ حاضر ہیں۔ مجھے بڑا تعجب ہوا کہ سرکارِ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ مدینۂ طیِبّہ زَادَھَا اللہ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً حاضِر ہوئے ہیں اور مجھے معلوم تک نہیں۔ چُنانچِہ میں وہاں سے مُواجَھَہ شریف پر حاضِر ہوا تو اعلیٰ حضرترَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ مجھے نظر نہیں آئے،  میں وہاں سے پھر  ’’  بابُ السّلام ‘‘ کی طرف آیا اور جب سُنہری جالیوں کی طرف دیکھا تو اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ مُواجھَہ شریف میں حاضِر تھے،  لہٰذا میں پھر سُنہری جالیوں کے رُوبرو حاضِر ہوا تو اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ غائب تھے۔ تیسری بار بھی اِسی طرح ہوا۔ میں سمجھ گیا کہ یہ محبوب و مُحِب کا مُعاملہ ہے،  مجھے اِس میں مُخِل نہیں ہونا چاہیے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔

      اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

   اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّ  وَجَلَّ سگِ مدینہ عُفِیَ عَنْہُ  کے مُرشِدِ کریم قطبِ مدینہ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کی بھی گواہی حاصل ہوگئی کہ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ باطِنی طور پر مدینۃُ المُرشِدبریلی شریف سے مدینۃُ الرّسُول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  حاضِر ہوئے تھے۔

غمِ مُصطفٰے جس کے سینے میں ہے      گَوکہیں بھی رہے وہ مدینے میں ہے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                       صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مفتیٔ اعظم ھِند بریلی سے مدینہ

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  آپ نے دیکھا ؟ سُنّیوں کے امام اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ  پر ہمارے پیارے آقا،  میٹھے میٹھے مصطَفٰے صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کس قَدر مہربان تھے کہ بِغیر کسی ظاہِری سُواری کے بریلی شریف سے مدینۂ مُنّورہ زَادَھَا اللہ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً  بُلالیا کرتے تھے۔ اعلیٰ حضرت تو اعلیٰ حضرت ،  آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کے شہزادے پر بھی کچھ کم کرم نہیں تھا۔ چُنانچِہ تاجدارِ اہلسنّت ، شہزادۂ اعلیٰ حضرت،  حُضور مُفتیٔ اعظم ہند مولانا مصطَفٰے رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ المَنّان کے ایک مُرید و ذِمّہ دارِ دعوت ِ اسلامی نے مجھے تاجپور شریف  ( ناگپور ،  ہند )   سے ایک مکتوب کی فوٹو کاپی اِرسال کی اُس میں ایک مُبلِّغ دعوتِ اسلامی کی کچھ اِس طرح کی تحریر بھی تھی: ۱۴۰۹ھ میں میرے والِدَین،  بڑے بھائی جان اور بھابی صاحِبہ کو حج کی سعادت نصیب ہوئی،  ان حضرات نے مدینۂ مُنوَّرہ زَادَھَا اللہ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً  میں دو بے حد ایمان افروز مَناظِر ملاحَظہ کئے:{۱}والدِ محترم نے روضۂ انور کے قریب یہ رُوح پرور منظر دیکھا کہ سرکارِ مفتی ٔ اعظم ہند مولانا مصطَفٰے رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرحمٰن حسبِ معمول سرِ اقدس پر عِمامہ شریف کا تاج سجائے،  چاند سا چِہرہ چمکاتے اپنے مخصوص مَدَنی قافِلے کے ہمراہ تشریف فرما ہیں !  بڑی حَیرانی ہوئی کہ حُضور مفتی اعظم ہند رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کو وِصال کیے ہوئے تقریباً آٹھ سال گزر چکے ہیں یہاں کیسے جلوہ نُمائی فرمارہے ہیں !  حیرت و مَسرَّت کے ملے جُلے جذبات کے ساتھ اپنے بڑے بیٹے  ( یعنی میرے بڑے بھائی)  کو یہ خبر دینے  ڈھونڈنے نکلے،  جب بڑے بیٹے سے ملاقات ہوئی تو پتا چلا وہ بھی والِد صاحب کو ڈھونڈ رہے تھے، کیونکہ اُنہوں نے بھی یہ منظر دیکھ لیا تھا،  چُنانچہ اب دونوں دوبارہ اُسی مَقام پر آئے تو سرکارِ مفتی ٔ اعظم ہند رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ مع مَدَنی قافِلہ



Total Pages: 8

Go To