Book Name:Lohe Ko Gunahgar Kehna Kaisa

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط

 “ لوہے “ کو گناہ گار کہنا کیسا؟ ([1])

شیطان لاکھ سُستی دِلائے یہ رِسالہ(۱۲صَفحات) مکمل پڑھ لیجیے اِنْ  شَآءَ اللّٰہ  معلومات کا اَنمول خزانہ  ہاتھ آئے  گا۔

دُرُود شریف کی فضیلت

               حضرتِ سَیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فرماتے ہیں : اللہکریم کے پیارے نبی صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم پر دُرُود پاک پڑھنا گناہوں کو اِس قدر جلد مِٹاتا ہے کہ پانی بھی آگ کو اتنی جلدی نہیں بجھاتا اور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم   پرسَلام بھیجنا گردنیں (یعنی غُلام) آزاد کرنے سے اَفضل ہے۔ ([2])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                                                                               صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

 “ لوہے “ کو گناہ گار کہنا کیسا؟

سُوال : “ لوہے “ کی ایک قسم ہے جسے “ گناہ گار لوہا “ کہا جاتا ہے ، کیونکہ نہ وہ جلتا ہے اور نہ ہی پِگھلتا ہے ، نیز اس کی کٹنگ بھی مشکل سے ہوتی ہے ، یہ ارشاد فرمائیے کہ کیا “ لوہے “ کو گناہ گار کہہ سکتے ہیں؟

جواب : میں نے آج پہلی بار یہ بات سنی ہے ، ہوسکتا ہے کہ اسے گناہ گار اس لئے کہا جاتا ہو کہ جس طرح کسی بڑے گناہ گار کو جتنی بھی نصیحت کرلی جائے وہ راہِ راست پر نہیں آتا ، اسی طرح اس “ لوہے “ کو جتنا جَلا لیا جائے یہ نہیں پِگھلتا۔ یا شاید اس لئے گناہ گار کہتے ہوں کہ اس کی قیمت کم ہو۔ بہرحال!  “ لوہے “ کو گناہ گار کہنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے ، کیونکہ یہاں شرعی گناہ گار مراد نہیں ہے جس طرح انسان گناہ گار ہوتا ہے۔  


 

 



[1]    یہ رِسالہ ۲۱ جُمادَی الْاُخْرٰی ۱۴۴۱  ھ بمطابق 15فروری 2020 کو عالمی مَدَنی مَرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہونے والے مَدَنی مذاکرے کا تحریری گلدستہ ہے ، جسے اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَۃ کے شعبہ  ’’ملفوظاتِ امیرِ اَہلِ سُنّت‘‘نے مُرتَّب کیا ہے۔ (شعبہ ملفوظاتِ امیرِ اَہلِ سُنّت)

[2]     تاریخ بغداد ، باب الجیم ، جعفر بن عیسیٰ ، ۷ / ۱۷۲ ، رقم : ۳۷۰۶۔



Total Pages: 13

Go To