Book Name:Jannat ki Tayyari

ترجمۂ کنز الایمان : اور جو اللہ  اور اُس کے رسول کا حکم مانے تو اُسے اُن کا ساتھ ملے گاجن پر اللہ  نے فضل کیایعنی انبیاء اور صدیق اور شہیداور نیک لوگ اور یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں ۔

        صدر الافاضل حضرت مولانا سیدمحمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃاللہ  الھادی (اَلْمُتَوَفّٰی۱۳۶۷ھ) اس آیت کا شان نزول بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

        حضرتِ ثوبان رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  سیّدِ عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    کے ساتھ کمال محبّت رکھتے تھے جُدائی کی تاب نہ تھی ایک روز اس قدر غمگین اور رنجیدہ حاضر ہوئے کہ چہرہ کا رنگ بدل گیاتھا تو حضور نے فرمایا :  آج رنگ کیوں بدلاہوا ہے؟ عرض کیا :  نہ مجھے کوئی بیماری ہے نہ درد بَجُز اس کے کہ جب حضور سامنے نہیں ہوتے تو انتہا درجہ کی وحشت و پریشانی ہوجاتی ہے جب آخر ت کو یاد کرتا ہوں تو یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ وہاں میں کس طرح دیدار پاسکوں گا آپ اعلی ترین مقام میں ہوں گے مجھے اللّٰہ  تَعَالٰی نے اپنے کرم سے جنت بھی دی تو اس مقام عالی تک رسائی کہاں ؟ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور انہیں تسکین دی گئی کہ باوجود فرق منازل کے فرمانبرداروں کو باریابی اور معیت کی نعمت سے سرفراز فرمایا جائے گا ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

            حضرت سیدنا اَنَس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں ، مالکِ خلد و کوثر، شاہِ بحر و بر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : مَنْ اَحَبَّنِیْ کَانَ مَعِیَ فِی الْجَنَّۃِ یعنی مجھ سے محبت کرنے والا جَنّتمیں میرے ساتھ ہو گا۔(الشفاء ج۲ص۲۰)

پڑوسی خُلد میں عطاؔر کو اپنا بنا لیجے

جہاں ہیں اتنے احساں اور احساں یا رسول اللہ

(امیر اہلسنت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  ، ص ۳۰)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

       شِفاء شریف، جلد2، صفحہ24 پر ہے کہ جو شخص جس سے محبت رکھتا ہے وہ اُسی کی موافقت (مُ۔وا۔فَ۔قَت)یعنی مُطابَقت کرتا ہے ورنہ وہ اُس کی محبت میں صادِق یعنی سچانہیں ۔ لہٰذا پیارے آقا، بزمِ جَنّت کے دُولہا، میٹھے میٹھے مصطفی  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی محبت میں وہ سچا ہے جس پر اِس کی علامتیں ظاہر ہوں ۔ اس کی پہلی علامت قرآن نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی پیروی بیان کی ۔ چنانچہ پارہ۳ سورہ اٰلِ عمران ، آیت۳۱ میں ارشاد ہوتا ہے :

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱)

ترجمۂ کنز الایمان : اے محبوب تم فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ  کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ اللہ  تمہیں دوست رکھے گا اورتمہارے گُناہ بخش دے گا اور اللہ  بخشنے والا مہربان ہے۔

اُسی احمد رضا کا واسطہ جو میرے مُرشِد ہیں

عطا کر دو مجھے اپنی محبت یا رسو ل اللہ

(ارمغانِ مدینہ از امیر اہلسنت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  ، ص ۵۴)

  مَحبتِ صحابہ(عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان)

          حضرت سَیِّدُنَا حذیفہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ رسولِ اکرم ، نورِ مجسّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا کہ میرے بعد حضرت ابوبکر و عمر  رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ ما کی پیروی کرو۔ اور مزید روایت میں ہے کہ میرے صحابہ  رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ م ستاروں کی مِثل ہیں ۔ان میں سے جس کی بھی پیروی کروگے تم راہ یاب ہوجاؤگے ۔

        سرکارِ نامدار، دو جہاں کے تاجدار، محبوبِ ربِّ غفّار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایاکہ جس نے میرے صحابہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ م کے بارے میں میری نصیحت کی حفاظت کی تو میں بروزِ قیامت اسکا محافظ ہوں گا اور فرمایا وہ میرے پاس حوضِ کو ثر پر آئے گا۔(شِفا ء شریف، ج ۲ ، ص ۵۵)

صدیق و عمر دونوں بھیجیں گے غلاموں کو

جس وقت کُھلے گا دَرمولیٰ تیری جنَّت کا

(قَبالۂ بخشش از خلیفہ اعلیٰ حضرت جمیل الرحمن قادری رضوی علیہ ر حمۃ القوی)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

عِلمِ دین

             حضرت سَیِّدُنا ابواُمَامَہ  رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ    فرماتے ہیں کہنُور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایاکہ’’ قِیامت کے دن عالِم اور عِبادت گُزار کواُٹھایا جائے گا تو عابِد سے کہا جائے گا کہ جَنّت میں داخل ہوجاؤ جبکہ عالِم سے کہا جائے گا کہ جب تک لوگوں کی شفاعت نہ کرلو ٹھہرے رہو۔‘‘

(الترغیب و الترہیب ، کتاب العلم ، الترغیب فی العلم، حدیث ۳۴ ، ج ۱، ص ۵۷)

کَل نارِ جہنّم سے حَسَنؔ امن و اماں ہو

اس مالکِ فِردوس پہ صَدْقے ہوں جو ہم آج

(ذوقِ نعت از حسن رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن)

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   فضائلِ علماء کے پیشِ نظراِن کی خدمت کی ترغیب دِلاتے ہوئے مدنی انعام نمبر62 میں فرماتے ہیں : کیا آپ نے اس ماہ کسی



Total Pages: 31

Go To