Book Name:Jannat ki Tayyari

بھی ہے ‘‘۔

        اس کی گفتگو سننے کے بعد امیر ِقافلہ نے اسے مختصر طور پر’’مجلس خصوصی اسلامی بھائی‘‘کے بارے میں بتایا۔پھر شیخِ طریقت، امیر ِاہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کی دینِ اسلام کے لئے کی جانے والی عظیم خدمات کا تذکرہ کیا او ردعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول کا تعارف بھی کرایا۔پھر اس سے کہا کہ’’یہ نابینا اسلامی بھائی اُنہی دُنیا دار مسلمانوں (جنہیں دیکھ کر آپ اسلام قبول کرنے سے کترا رہے ہیں )کی اصلاح کے لئے مدنی قافلے میں سفر پر روانہ ہوئے ہیں ‘‘۔یہ بات سُن کر وہ اتنا متأثرہو ا کہ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گیا۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

مُسَلمانوں سے تکلیف دُور کرنا

    حضرتِ سَیِّدُنا اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں کہ راستے میں پڑا ہواایک درخت لوگوں کو تکلیف دیتاتھا ۔ایک شخص نے اُسے لوگوں کے راستے سے ہٹادیا تو مکی مدنی سلطان ، رحمت ِ عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایاکہ ’’ میں نے اُسے جَنّت میں اُس دَرَخْتْ کے سائے میں لیٹے ہوئے دیکھا ہے ۔‘‘   (مسند احمد بن حنبل ، مسند اَنس بن مالک ، حدیث ۱۲۵۷۲ ، ج۴ ، ص ۳۰۹)

جو داغِ عشقِ شہِ دِیں ہیں دِل پہ کھائے ہوئے

وہ گویا خُلْدِ بریں کی سَنَد ہیں پائے ہوئے

(قَبالۂ بخشش از خلیفہ اعلیٰ حضرت جمیل الرحمن قادری رضوی علیہ ر حمۃ اللہ  القوی)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

حَلَال کَمَانا اورکارِ ثواب میں خَرْچ کرنا

        اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْن حضرت ِ سَیِّدُنا عُمَر بن خَطَّاب  رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ   سے رِوَایت ہے کہ’’ دُنیامِیٹھی اورسَرسَبز ہے، جس نے اِس میں سے حَلَال طَرِیقہ سے کمایا اور اُسے کارِثواب میں خرچ کیا ، اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ    اُسے ثواب عطا فرمائے گا اور اپنی جَنّت میں داخل فرمائے گا اور جس نے حرام طریقہ سے کمایا اور اسے ناحق خرچ کیا،  اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ    اُس کے لئے ذِلّت و حقارت کے گھر کو حلال کردے گا اور اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   اور اُس کے رسول  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مال میں خیانت کرنے والے بہت سے لوگوں کے لئے قیامت کے دن جہنم ہوگی۔ اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ    پ ۱۵، سُوْرَۃُ بَنِیْ ٓاِسْرَآئِ یْل آیت ۹۷ کے آخری جُز میں ارشاد فرماتا ہے :           

كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِیْرًا(۹۷)

ترجمۂ کنزالایمان : جب کبھی بجھنے پر آئے گی ہم اسے اور بھڑکادیں گے۔‘‘

(شعب الا یمان ، باب فی قبض الید عن الاموال المحرمۃ حدیث ۵۵۲۷، ج ۴ ، ص ۳۹۶)

بِشارت ملے کاش! جنت کی فوراً

قیامت کے دن جُوں ہی عطارؔ آئے

(مغیلانِ مدینہ، از امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ )

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

قَرْض کے تقاضے  میں نَرْمی

        اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْنحضرت ِ سَیِّدُناعثمان بن عَفّا ن رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  سے رِوایت ہے کہ مَکِّی مَدَنِی سُلْطَان، رَحْمَتِ عَالمِیَّان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :  ’’اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   نے خرید وفروخت ، قَرْ ض اداکرنے اورقرض کامُطَالَبہ کرنے میں نَرمی کرنے والے ایک شخص کو جَنّت میں داخِل فرمادیا ۔‘‘ (سنن النسائی ، کتاب البیوع، باب حسن المعاملۃ والرفق ، ج۷، ص ۳۱۹

            رحمتِ کِردِگار   عَزَّ وَجَلَّ   کے اُمّید وار اور بہارِ جَنّت کے طلبگار اسلامی بھائیو!زہے نصیب!ہم قرض کے تقاضے میں نرمی اور ادائیگی میں جلدی کرنے والے بن جائیں ۔ عاشقِ اعلیٰ حضرت، امیر ِاہلسنّت حضرتِ علامہ ، مولانا محمد الیاس عطارؔ قادری رضوی ضیائی  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   مدنی انعام نمبر41 میں ارشادفرماتے ہیں :  آج آپ نے قرض ہونے کی صورت میں (با وجودِ استطاعت)قرض خواہ کی اجازت کے بغیر قرض کی ادائیگی میں تاخیر تو نہیں کی؟نیز کسی سے عاریتاً(عارضی طور پر اگر لی ہو تو)لی ہوئی چیز ضرورت پوری ہونے پر مقررہ مدت کے اندر واپس کر دی؟

اللہ  کی رحمت سے تو جَنّت ہی ملے گی

اے کاش! مَحَلّے میں جگہ اُن کے ِملی ہو

(ارمغانِ مدینہ، ازامیر اہلسنت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  )

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

زنا سے بچنا

  حضرت ِ سَیِّدُنا ابو ہُرَیْرَ ہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ   فرماتے ہیں کہ سرورِ کونَیْن، رَحْمَتِ دَارَیْن، رَاحتِ قلبِ بے چَیْن، نانائے حَسَنَیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  وَرَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  نے فرمایا :

 ’’ اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ     جِسے دو داڑھوں کے درمیان والی چیز (یعنی زبان) اور دو ٹانگو ں کے درمیان والی چیز (یعنی شرم گا ہ) کے شَر سے بچا لے وہ جَنّت میں داخل ہو گا۔‘‘

(ترمذی، کتاب الزھد ، باب حفظ اللسان ، حدیث ۲۴۱۷ ، ج۴ ، ص ۱۸۴)

        ایک رِوایت میں ہے کہ اے قریش کے جوانو! زِنامت کرنا کیونکہ جس کی جوانی بے داغ ہو گی وہ جنت میں داخل ہوگا۔(التر غیب والتر ھیب ، کتاب الحدو د ، باب من الزنا ، حدیث ۴۱ ، ج۳ ، ص ۱۹۴)

 



Total Pages: 31

Go To