Book Name:Jannat ki Tayyari

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی رِضا کے لئے مُلاقات

            حضرت ِ ِسَیِّدُ نااَنَس  رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  سے رِوایت ہے کہ مَکّی مدَنی آقا، میٹھے میٹھے مصطفیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایاکہ’’ کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ تم میں سے کون جَنّت میں جائے گا ؟‘‘ہم نے عرض کیا :  ’’یارسول اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ضرور بتائیے ۔‘‘فرمایاکہ’’ نبی جَنّت میں جائے گا، صِدّیق جَنّت میں جائے گا اور وہ شخص بھی جَنّت میں جائے گا جومحض اللّٰہ    عَزَّ وَجَلَّ    کی رِضا کے لئے اپنے کسی بھائی سے ملنے شَہر کے مُضافات میں جائے ۔ ‘‘  (المعجم الاوسط ، حدیث ۱۷۴۳ ، ج۱ ، ص ۴۷۲)

فہرست کُھلی جس دم جنَّت میں پہنچنے کی

پہلے ہی نِکل آیا نمبر تیری اُمت کا

(قَبالۂ بخشش از خلیفہ اعلیٰ حضرت جمیل الرحمن قادری رضوی علیہ ر حمۃ اللہ  القوی)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

        کس قدر سعادت مند ہیں وہ اسلامی بھائی جو اطراف گاؤں میں مدنی قافلہ، بیان، مدنی دورہ برائے نیکی کی دعوت، مدنی مشورہ اور بین الاقوامی یا صوبائی اجتماع کی دعوت وغیرہ کیلئے سفر اختیار کرتے ہیں نیزاپنے حلقے و عَلاقے وغیرہ میں 12مدنی کاموں میں شریک ہو کر انفرادی کوشِش کرتے رہتے ہیں ، شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   ارشاد فرماتے ہیں :  مدنی انعام نمبر22 : کیا آج آپ نے کم از کم دو اسلامی بھائیوں کو  اِنفرادی کوشش کے ذریعے مدنی قافلے و مدنی انعامات اور دیگرمدنی کاموں کی ترغیب دِلائی؟مدنی انعام نمبر52 : کیا آپ نے اِس ہفتے اجتماع کے فوراً بعد خود آگے بڑھ کر انفرادی کوشش کرتے ہوئے نئے نئے اسلامی بھائیوں سے مُلاقات کا شرف حاصل کر کے ان کا نام، پتا اور فون نمبر حاصل کیا ؟ (کم از کم چار سے ملاقات اور کم از کم ایک کا پتا وغیرہ ضرور لیں پھر اِن سے رابطہ بھی رکھیں ) مدنی انعام نمبر61 :  کیا اِس ماہ آپ کی انفرادی کوشش سے کم از کم ایک اسلامی بھائی نے مدنی قافلے میں سفرکیا ؟اور کم از کم ایک نے مدنی انعامات کا رسالہ جمع کروایا؟

        آئیے فیضانِ سنّت (جلد اوّل تخریج شدہ)کے با ب’’ فیضانِ بسم اللّٰہ‘‘ ص ۲۹ سے انفرادی کوشش کی بہار ملاحظہ فرمائیے چنانچہ شیخِ طریقت، امیر ِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  لکھتے ہیں :  

ڈرائیور پر اِنفرادی کوشش

        ایک عاشقِ رسول نے مجھے تحریر دی تھی اُس کا خلاصہ اپنے انداز و الفاظ میں عرض کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔دعوتِ اسلامی کے مدنی مرکز فیضانِ مدینہ (باب المدینہ کراچی)میں جمعرات کو ہونے والے ہفتہ وار سُنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کے لئے مختلف عَلاقوں سے بھر کر آئی ہوئی مخصوص بسیں واپسی کے انتظار میں جہاں کھڑی ہوتی ہیں وہا ں سے گُزرا تو کیا دیکھتاہوں کہ ایک خالی بس میں گانے بج رہے ہیں اور ڈرائیور بیٹھ کر چَرَس کے کش لگا رہا ہے ۔میں نے جا کر ڈرائیو ر سے محَبّت بھرے انداز میں مُلاقات کی، اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ    مُلاقات کی برکات فورًا ظاہر ہوئیں اور اُس نے خود بخود گانے بند کر دئیے اور چَرَس والی سگرٹ بھی بُجھا دی، میں نے مُسکرا کر سُنتّوں بھرے بیان کی کیسٹ’’قبر کی پہلی رات ‘‘اُس کو پیش کی ۔ اُس نے اُسی وقت ٹیپ ریکارڈر میں لگا دی، میں بھی ساتھ بیٹھ کر سُننے لگا کہ دوسروں کو بیان سُنانے کا مُفید طریقہ یہی ہے کہ خود بھی ساتھ میں سُنے ۔الحمد للّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ  اُس نے بہت اچھا اثرلیا۔گھبرا کرگُناہوں سے توبہ کی اور بس سے نکل کر میرے ساتھ اجتماع میں آ کر بیٹھ گیا۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حَاجَت رَوَائی

              حضرت ِ ِ ِسَیِّدُ نَااَنَس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ   سے روایت ہے کہ محمدِ مَدَنی، رَسُولِ عَرَبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے فرمایاکہ’’ جو اپنے کسی اسلامی بھائی کی حاجت روائی کے لئے چلتاہے اللّٰہ    عَزَّ وَجَلَّ     اُس کے اپنی جگہ واپس آنے تک اُس کے ہر قدم پراُس کے لئے70 نیکیاں لکھتاہے اور اُس کے70 گناہوں کو مِٹا دیتاہے ۔ پھر اگر اُس کے ہاتھو ں وہ حاجت پوری ہوگئی تو وہ اپنے گُناہوں سے ایسے نِکل جاتاہے جیسے اُس دن تھا، جس دن اُس کی ماں نے اُسے جَنا تھا اور اگر اِس دوران اُس کا اِنتقال ہوگیا تو وہ بغیر حِساب جَنّت میں داخِل ہوگا ۔‘‘

(التر غیب والترھیب ، کتاب البر والصلۃ ، باب الترغیب فی قضاء حوائج المسلمین ۔۔الخ ، حدیث ۱۳ ، ج ۳ ، ص ۲۶۴)

ہر وقت جہاں سے کہ اُنہیں دیکھ سکوں میں

جَنّـت میں مجھے ایسی جگہ پیارے خُدا دے

(مناجاتِ عطاریہ ازامیر اہلسنت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  )

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

مُسلمان کے دل میں خوشی داخل کرنا  [1]؎

            حضرتِ سَیِّدُ نا جَعْفَربن محمد اپنے دادا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے رِوایت کرتے ہیں کہ شاہِ خُوشْ خِصَال، مَحْبُوبِ رَبِّ ذُوالْجلالصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایاکہ’’ جو شخص کسی مؤمن کے دِل میں خوشی داخل کرتاہے اللّٰہ    عَزَّ وَجَلَّ     اُس خوشی سے ایک فرشتہ پیدا فرماتاہے جو اللّٰہ    عَزَّ وَجَلَّ     کی عبادت اور تَوحِید میں مصروف رہتا ہے۔ جب وہ بند ہ اپنی قبر میں چلا جاتاہے تو وہ فرشتہ اس کے پاس آکر پوچھتاہے : ’’کیا تو مجھے نہیں پہچانتا؟ ‘‘وہ کہتا ہے کہ’’ تو کون ہے ؟‘‘ تو وہ  فرشتہ کہتاہے کہ ’’میں وہ خوشی ہو ں جسے تو نے فُلاں کے دِل میں داخل کیا تھا ، آج میں تیری وَحشت میں تجھے اُنس پہنچاؤں گا اور سوالات کے جوابات میں ثابِت قَدَم رکھوں گا اور تجھے روزِ قیامت کے مَناظِر دِکھاؤں گا اور تیرے لئے تیرے رَبّ   عَزَّ وَجَلَّ   کی بارگاہ میں سِفَارِش کروں گا اور تجھے جنت میں تیرا ٹھکانادِکھاؤں گا۔‘‘(التر غیب والترھیب ، کتاب البر والصلۃ ، باب التر غیب فی قضاء حوائج المسلین ، حدیث ۲۳ ، ج ۳ ، ص ۲۶۶)

 



1      اس موضو ع پر شیخِ طریقت ، امیر ِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے کیسٹ بیان ’’ دِل خوش کرنے کے فضائل‘‘ اور’’مشکل ُکشائی کی فضیلت‘‘مکتبۃ المدینہ کی کسی بھی شاخ سے ہدیۃً حاصل کرکے سُنیں ، بے حد فائدہ حاصل ہو گا۔اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ



Total Pages: 31

Go To