Book Name:Jannat ki Tayyari

اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’ میں نے اُسے جِس چیز کا حکم دیا ہے اگر یہ اُس پر عمل کرے تو جنت میں داخل ہوگا۔‘‘ حضرتِ سَیِّدُ نا ابوہُرَیْرَہ  رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  سے رِوَایت ہے کہ نبی ٔرحمت، شفیعِ اُمّت، تاجدارِ رسالت  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’جس میں تین خصلتیں ہوں گی، اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ  اُ س کا حساب آسانی سے لے گا اور اُسے اپنی رحمت سے جَنّت میں داخل فرمائے گا۔‘‘ صحا بۂ کرام ( عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   وہ خصلتیں کونسی ہیں ؟‘‘ فرمایا :  ’’جوتُمہیں مَحروم کرے اُسے عطا کرو اور جوتم سے تَعلّق توڑے تم اُس سے تعلقجوڑواور جو تم پر ظلم کرے اُسے مُعاف کردو ، جب تم یہ اعمال بجا لاؤ گے تو اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ  تمہیں جنت میں داخل فرمادے گا ۔‘‘

 (المستد رک ، کتا ب التفسیر ، باب ثلاث من کن فیہ۔۔۔الخ ، حدیث۳۹۶۸ ، ج۳، ص ۳۶۲)

مُفلسو اُن کی گلی میں جا پڑو

باغِ خلد اکرام ہو ہی جائے گا

   (حدائقِ بخشش از امامِ اہلسنّت علیہ رحمۃ ربّ العزت)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

بہن بیٹیوں کی پرورش

        حضرتِ سَیِّدُ ناابو سعید خُدْرِی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ   سے روایت ہے کہ سرورِ کائِنات، شَاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ’’ جِس کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں یا دوبیٹیاں یا دو بہنیں ہوں پھر وہ اُنکی اچھی طرح پرورِش کرے اور اُن کے معاملے میں اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   سے ڈرتارہے تو اس کیلئے جنت ہے ۔‘‘(جامع الترمذی ، کتاب البر والصلۃ ، حدیث ۱۹۲۳ ، ج ۳ ، ص ۳۶۷)

        ایک رِوایت میں ہے کہ’’ جس کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں اور وہ اُن کے ساتھ اچھاسُلوک کرے تو وہ جَنّت میں داخل ہوگا ۔‘‘

(جامع التر مذی ، کتاب البر و الصلۃ ، باب ماجاء فی النفقۃ ، حدیث ۱۹۱۹ ، ج ۳ ، ص ۳۶۶)

   ایک رِوایت میں ہے کہ’’ پھر وہ اُن کی اچھی تربیت کرے اور اُن کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے تو اُس کے لئے جَنّت ہے ۔‘‘

( ماخوذ  از جامع الترمذی، کتاب البر والصلۃ ، باب ماجاء فی النفقۃ ۔۔۔ الخ، حدیث ۱۹۱۹ ، ج ۳ ، ص ۳۶۶)

باغِ  جنَّت  میں چلے جائیں گے بے پُوچھے ہم

وقف ہے ہم سے مساکین پہ دولت اُن کی

(ذ وقِ نعت از حسن رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

یَتیم کی کَفَالت

         حضرت ِسَیِّدُ نا جَابِر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ   سے رِوَایت ہے کہ صَاحبِ قُراٰن ،  مَحْبُوبِ رَحْمٰن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’ جس نے کسی یتیم یا    محتاج کی کَفالت کی اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ    اُسے اپنے عَرش کے سائے میں جگہ عطافرمائے گا اور جَنّت میں داخِل فرمائے گا ۔‘‘(مجمع الزوائد ، کتاب الجنائز ، باب تجھیز المیت۔۔۔الخ ، حدیث ۴۰۶۶ ، ج۳ ، ص۱۱۴)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

         حضرت ِسَیِّدُ نا سَہل بن سَعْدرَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے کہ سرکارِ نَامْدَار، بِاِذنِ پَروردگار، غیبوں پر خبردار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ     نے فرمایا : ’’ میں اور یتیم کی کَفَالَت کرنے والا جَنّت میں اِس طرح ہوں گے ۔‘‘پھر اپنی شہادت اور بیچ والی انگلی کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے اُن دونوں کو کھول دیا۔ (صحیح بخاری ، کتا ب الادب ، حدیث ۶۰۰۵ ، ج ۴ ص۱۰۲)

یہ بے کھٹکے گنہگاروں کا داخل  خُلْد میں ہونا

کرِشمہ ہے رسولُ اللہ  کی چشمِ کرامت کا

                                                                           (قَبالۂ بخشش از خلیفہ اعلیٰ حضرت جمیل الرحمن قادری رضوی علیہ ر حمۃ اللہ  القوی)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 مریض کی عِیادت

          حضرت ِسَیِّدُ ناابوہُرَیْرَہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  سے رِوَایَت ہے کہ نبیٔ کریم، رَئُ وفٌ  رَّحِیْم، مَحْبُوبِ رَبِّ عَظِیْم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایاکہ’’ جو کِسی مریض کی عِیادت کرتاہے یا  اللّٰہ    عَزَّ وَجَلَّ     کے لئے اپنے کِسی اسلامی بھائی سے ملنے جاتاہے تو ایک مُنادِی اُسے مخاطَب کرکے کہتاہے کہ’’ خوش ہو جا کیونکہ تیرا یہ چلنا مبارَک ہے اور تو نے جنت میں اپنا ٹھکانہ بنالیا ہے ۔‘‘

 (جامع التر مذی ، کتاب البر والصلۃ ، باب ماجاء فی زیارۃ الاخوان ،