Book Name:Jannat ki Tayyari

تقدیر میں لکھا ہو جنّت کا مزہ کرنا

(سامانِ بخشش از شہزادہ اعلیٰ حضرت مصطفی رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

دُرود شریف

          حضرت ِسَیِّدُ نا ابوسعید خُدْرِی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ   سے مروی ہے کہ حضورِ انور ،   شافِعِ مَحشر، مدینے کے تَاجْوَر، بِاِذنِ رَبِّ اکبرغَیبوں سے باخبر، محبوبِ دَاوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’جس مسلمان کے پاس صَدَقہ کرنے کو کچھ نہ ہو اُسے چاہیے کہ اپنی دُعا میں یہ کَلِمَات کہہ لیا کر ے :  اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُوْلِکَ وَصَلِّ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِترجمہ :  اے اللّٰہ!(  عَزَّ وَجَلَّ  ) اپنے بندے اور رسول حضرت محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  پر رحمت نازل فرما، مومنین ومومنات اور مسلمان مردو ں اور عورتوں پر رحمت نازل فرما۔‘‘کیونکہ یہ زکوٰۃ ہے اور مؤمن کبھی خَیر(بھلائی)سے شِکَم سیر نہیں ہوتا یہاں تک کہ جَنّت اُسکا ٹِھکانہ ہو تی ہے ۔‘‘(الاحسان بترتیب صحیح ابن حبا ن کتا ب الرقائق ، با ب الأدعیہ، رقم ۹۰۰ ، ج۲ ، ص ۱۳۰)

منتظرہیں جنتیں اُس کے لیے

وِرد ہے جس کا ثنائے مصطفٰے

(قَبالۂ بخشش از خلیفہ اعلیٰ حضرت جمیل الرحمن قادری رضوی علیہ ر حمۃ اللہ  القوی)

        الحمد للّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ  عاشقِ مہرِ رسالت، امیر ِاہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   اپنی تحریرات و بیانات اور انفرادی طور پر بھی درودِ پاک کی کثرت کرتے اور اِس کی ترغیب بھی دِلاتے رہتے  ہیں اورمدنی انعام نمبر5  میں ارشاد فرماتے ہیں : کیا آج آپ نے اپنے شجرہ کے کچھ نہ کچھ اوراد  اور کم از کم ۳۱۳ با ر درود شریف پڑھ لئے؟

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

خِدْمتِ وَالِدَ ین

            حضرت سَیِّدُ ناابوہُرَیْرَہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  سے رِوَایت ہے کہ سَرکارِ نامدار، دو عالَم کے مالِک و مختار، شَہنشاہِ اَبْرار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا :  ’’اُسکی ناک خاک آلود ہو ۔‘‘ عرض کیا گیا :  ’’یا رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کس کی؟‘‘ فرمایا :  ’’جو اپنے وَالِدَین یا اُن میں کسی ایک کو بُڑھاپے میں پائے اور (اُن کی خدمت کرکے) جَنّتمیں داخِل نہ ہوسکے ۔‘‘(صحیح مسلم، کتا ب البر والصلۃ ، باب رغم من ادرک ابویہ ، حدیث۶۵۱۰ ، ص ۱۱۲۶)

عفْو کر اور سدا کے لیے راضی ہو جا

گر کرم کر دے تو جنّت میں رہوں گا یا ربّ

(ارمغانِ مدینہ، ازامیر اہلسنت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  )

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

        والدین کے حقوق سے متعلق شیخِ طریقت، امیر ِاہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کا رسالہ’’سَمُندری گُنبد‘‘مکتبۃ المدینہ کی کسی بھی شاخ سے ہدیۃً حاصل کرکے پہلی فرصت میں اِس کا ضرور مطالعہ کیجئے۔ان شآء اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ   آپ کادل والدین کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہو جائے گا۔آئیے!دعوتِ اسلامی کی ایک مجلس’’المدینۃ العلمیہ‘‘کا پیش کردہ رسالہ’’گونگا مُبلغ‘‘سے رسالہ

’’   سَمُندری گنبد‘‘ کی ایک انوکھی بہار مُلاحظہ فرمائیے :

    اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ  30جولائی2007ء بروز پیر شریف گونگے بہرے اسلامی بھائیوں کا سنّتوں بھرا اجتماع جامع مسجد غوثیہ شیخو پورہ(پنجاب) میں منعقد ہوا۔اس عَلاقہ میں گونگے بہرے اسلامی بھائیوں میں کام شروع ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا مگر اسلامی بھائیوں کی انفرادی کوشِش کی برکت سے اجتماع میں کثیر تعداد میں گونگے بہرے اسلامی بھائیوں نے شرکت کی ۔

        مُبلغِ دعوتِ اسلامی نے شیخِ طریقت، امیر ِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کے رسالے ’’سمندری گنبد‘‘کی مدد سے اشاروں کی زبان میں بیا ن کیا۔یہ رسالہ والدین کی اطاعت کے موضوع پر اپنی مثال آپ ہے ۔والدین کی اطاعت کی فضیلت اور نافرمان اولاد پر عذاب کا تذکرہ اشاروں کی زبان میں سُن کر گونگے بہرے اسلامی بھائی آبدیدہ ہو گئے۔امیر ِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے قلم کے لکھے ہوئے الفاظ کا اثر تھا کہ وہاں پر موجود ڈیف کلب کا صدر اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا۔وہ دورانِ بیان اُٹھا اور مُبلغ کے سینے سے لگ کر رونے لگا۔بہر حال رِقّت انگیز ماحول میں بیان جاری رہا۔بعدِ اجتماع جب امیر ِاہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  سے مرید ہونے کے لئے نام لکھنے کا سلسلہ ہوا تو ایسا لگ رہا تھا جیسے ہر ایک گونگا چاہتا ہے کہ میں پہلے اپنے آپ کو عطاری رنگ میں رنگ لوں ۔شرکائِ اجتماع نے نمازوں کی پابندی اور اجتماعات میں شرکت کی نیّت کرنے کے ساتھ ساتھ آئندہ زندگی اطاعتِ الٰہی  عَزَّ وَجَلَّ   میں گزارنے کا بھی عزم کیا۔اس اجتماع میں موجود4بد مذہب گونگے بہروں نے بھی توبہ کی اورامیر ِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  سے مرید ہو کر ’’عطاری‘‘ بھی بن گئے۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

صِلہ رِحْمِی  [1]؎

            ایک رِوَایت میں ہے کہ شَہنْشاہِ کو ن و مکان، رحمتِ عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :  ’’ اور رشتہ داروں کے ساتھ صِلہ رحمی کرو۔‘‘ جب وہ(آنے والا) لوٹ گیا تو رسول



 1    صِلہ رحمی، ظلم کے بھیانک انجام اور مسلمانوں کا احترام کرنے کے فضائل وغیرہ سے آگاہی حاصل کرنے کے لئے شیخِ طریقت ، امیر ِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے رسالے’’ظلم کا انجام‘‘، ’’احترامِ مُسلم‘‘اور کیسٹ بیان ’’رشتہ داری کاٹنا حرام ہے ‘‘مکتبۃ المدینہ کی کسی بھی شاخ سے ہدیۃً حاصل کر کے اِستفادہ کیجئے۔



Total Pages: 31

Go To