Book Name:Jannat ki Tayyari

راہِ خدا   عَزَّ وَجَلَّ   کا مُسافِر

        حضرتِ  سَیِّدُ نا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ  قاسمِ  نِعْمَت، مالکِِ جَنّت ، سَراپا جُود و سَخَاوَت، مَحْبُوبِ رَبُّ الْعِزَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ  کسی بندے کے پیٹ میں راہِ خدا     عَزَّ وَجَلَّ   کا غُباراورجہنم کا دُھواں جمع نہیں فرمائے گا اور جس کے قدم راہِ خدا   عَزَّ وَجَلَّ   میں گردآلودہوجائیں   اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ     اُس کے پور ے جِسْم کو جہنم پر حَرام فرمادے گا اور جِس نے راہِ خدا    عَزَّ وَجَلَّ   َمیں ایک دن رو زہ رکھااللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   اُس سے جہنم کو تیز رفتار سُوارکی ایک ہزارسال کی مُسافَت تک دورفرمادے گا اور جسے راہِ خدا  عَزَّ وَجَلَّ  میں ایک زَخْم لگے گا اُس پر شُہَداء کی مُہر لگادی جائے گی ، جو قِیامت کے دن اُس کے لئے نور ہوگی، اُس کا رنگ زَعْفران کی طرح اور خُوشْبُو مُشک کی طرح ہوگی، اُسے اُس مُہرکی وجہ سے اَوّلین وآخِرین پہچان لیں گے اور کہیں گے فُلاں پر شہیدوں کی مُہر لگی ہوئی ہے اور جو اُونٹنی کو دومرتبہ دوہنے کے درمیان کے وقت تک راہِ خدا  عَزَّ وَجَلَّ   میں جِہادکرے اُس پر جَنّت  واجِب ہوجاتی ہے۔‘‘

(مسند احمد، مسند ابی الدرداء ، حدیث ۲۷۵۷۳ ، ج۱۰، ص ۴۲۰)

کرم سے خُلْد میں عطارؔؔؔؔؔؔؔؔؔؔؔؔؔؔؔؔؔؔؔؔؔؔؔؔ جس دم جا رہا ہو گا

شیاطیں دیکھتے ہوں گے سبھی مُڑمُڑ کے حَسرت سے

(ارمغانِ مدینہ، ازامیر اہلسنت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  )

        عالمِ شریعت، امیر ِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   اپنی اور ساری دُنیا کے لوگوں کی اِصلاح کا جذبہ لئے مدنی قافلوں میں سفر کرنے والوں سے بہت خوش ہوتے اور دُعاؤں سے نوازتے ہیں چنانچہ فر ماتے ہیں

اپنی ساری نیکیاں عطارؔ نے کیں اُس کے نام

بارہ مدنی قافلوں میں جو کوئی کرلے سفر

         مدنی انعام نمبر60 میں ارشاد فرماتے ہیں : کیا آپ نے اِس ماہ جدول کے مطابق کم از کم تین(3)دن کے مدنی قافلے میں سفر فرمایا؟مدنی انعام نمبر67 : کیا آپ نے اِس سال جدول کے مطابق یکمُشت تیس( 30)  دن کے مدنی قافلے میں سفر فرمایا؟(نیز زندگی میں یکمُشت بارہ (12) ماہ کے مدنی قافلے میں سفر کی بھی نیّت فرمائیں )

            دعوتِ اسلامی کے مدنی قافلوں میں سفر کرنے والے خوش نصیب اسلامی بھائیوں کی مدنی بہاروں میں سے ایک بہار ملاحظہ فرمائیے اور ہاتھوں ہاتھ مدنی قافلے کی تیاری کیجئے چنانچہ ’’فیضانِ سنّت ‘‘(جلد اوّل تخریج شُدہ) میں باب المدینہ کراچی کے ایک اسلامی بھائی کا بیان کچھ یوں ہے کہ

  ماں چارپائی سے اٹھ کھڑی ہوئی!

        میری امّی جان سخت بیماری کے سبب چار پائی سے اُٹھنے تک سے معذور ہو گئی تھیں اور ڈاکٹروں نے بھی جواب دے دیا تھا۔ میں سُنا کرتا تھا کہ عاشِقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں کی تربیّت کے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافِلوں میں سفر کرنے سے دُعا ئیں قُبول ہوتیں اور بیماریاں دُور ہوجاتی ہیں ۔ چُنانچہ میں نے بھی دِل باندھا اور دعوتِ اسلامی کے نور برساتے عالمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ میں ’’مَدَنی تَربیّت گاہ‘‘ حاضِر ہو کر تین دن کیلئے مَدَ نی قافِلے میں سفر کا ارادہ ظاہر کیا، اسلامی بھائیوں نے نہایت شفقت کے ساتھ ہاتھوں ہاتھ لیا، عاشِقانِ رسول کی مَعِیَّت میں ہمارا مَدَنی قافِلہ بابُ الاسلام سندھ کے صَحرائے مَدینہ کے قریب ایک گوٹھ میں پہنچا، دورانِ سفر عاشِقانِ رسول کی خدمات میں دُعا ء کی درخواست کرتے ہوئے میں نے امّی جان کی تشویشناک حالت بیان کی ، اس پر اُنہوں نے امّی جان کیلئے خوب دُعائیں کرتے ہوئے مجھے کافی دِلاسہ دیا، امیرِ قافِلہ نے بڑی نرمی کے ساتھ اِنْفِرادی کوشِش کرتے ہوئے مجھے مزید 30دن کے مَدَنی قافِلے میں سفر کیلئے آمادہ کیا ، میں نے بھی نیّت کر لی۔ میں نے امّی جان کی صحت یابی کیلئے خوب گڑگڑا کر دُعائیں کیں ، تین دن کے اِس مَدَ نی قافِلے کی تیسری رات مجھے ایک روشن چہرے والے بُزُرْگ کی زِیارت ہوئی ، اُنہوں نے فرمایا :  ’’اپنی امّی جان کی فِکْر مت کرو اِنْ شَآءَاللہ اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ    وہ صِحّت یاب ہو جائیں گی۔‘‘ تین دن کے مَدَنی قافِلہ سے فارِغ ہو کر میں نے گھر آ کر دروازے پر دستک دی دروازہ کُھلا تو میں حیرت سے کھڑے کا کھڑا رَہ گیا، کیوں کہ میری وہ بیمار امّی جان جو کہ چارپائی سے اُٹھ تک نہیں سکتی تھیں ، اُنہوں نے اپنے پاؤں پر چل کر دروازہ کھولا تھا! میں نے فَرطِ مسرت سے ماں کے قَدَم چومے اور مَدَنی قافِلے میں دیکھا ہوا خواب سنایا۔ پھر ماں سے اجازت لیکر مزید 30دن کیلئے عاشِقانِ رسول کے ساتھ مَدَنی قافِلے میں سفر پر روانہ ہوگیا۔

    ماں جو بیمار ہو قرض کا بار ہو            رنج و غم مت کریں قافِلے میں چلو

ربّ کے در پر جُھکیں اِلتِجائیں کریں       بابِ رحمت کُھلیں قافِلے میں چلو

دل کی کالک دُھلےمرضِ عصیاں ٹَلے      آؤ سب چل پڑیں قافِلے میں چلو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

قرآن پڑھنے والا

          حضرت ِ سَیِّدُ ناعبداﷲ بن عَمْرو بن عَاص  رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  سے رِوَایت ہے کہ نبَیوں کے سُلْطان ، رحمتِ عَالمیَان ، سَرورِ د و جَہان ، محبوب ِ رحمن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’قراٰن پڑھنے والے سے کہاجائے گاکہ قراٰن پڑھتا جا اور جَنّت کے دَرَجَات طے کرتاجا اور ٹھہرٹھہر کر پڑھ جیساکہ تو دنیا میں ٹھہر ٹھہر کرپڑھا کرتاتھاتو جہاں آخری آیت پڑھے گا وہیں تیراٹھکانا ہوگا۔‘‘(سنن ابی داود، کتاب الوتر، باب استحبا ب الترتیل فی القراء ۃ، حدیث ۱۴۶۴ ، ج۲، ص ۱۰۴)

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت ِسَیِّدُ ناابوسُلَیْمان خطابی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْغَنِی ’’معالم السنن‘‘میں فرماتے ہیں کہ ’’رِوَایات میں آیا ہے کہ قراٰن کی آیتوں کی تعداد جَنّت کے دَرَجات کے برابر



Total Pages: 31

Go To