Book Name:Jannat ki Tayyari

ارشاد فرماتے ہیں : زیادہ کھانے سے اعضاء میں فِتنہ پیدا ہوتا اور فساد برپا کرنے اور بیہودہ کام کر گُزرنے کی رغبت جَنَم لیتی ہے ۔ کیونکہ جب انسان خوب پیٹ بھر کر کھاتا ہے تو اس کے جسم میں تکبّر اور آنکھوں میں بدنِگاہی کی خواہش پیدا ہوتی ہے ، کان بُری باتیں سُننے کے مُشتاق رہتے ہیں ۔زبان فُحش گوئی پر آمادہ ہوتی ہے ، شرمگاہ شہوت رانی کا تقاضا کرتی ہے ، پاؤں ناجائز مقامات کی طرف چل پڑنے کے لئے بے قرار ہوتے ہیں ۔اِس کے برعکس اگر انسان بھوکا ہو تو تمام اعضائے بدن پُر سکون رہیں گے۔نہ تو کسی بُرائی کا لالچ کریں گے اور نہ بُرائی کو دیکھ کر خوش ہو ں گے۔حضرت اُستاذ ابو جعفر  علیہ رحمۃ اللّٰہ الاکبر  کا ارشادِ گرامی ہے : پیٹ اگر بھوکا ہو توجسم کے باقی اعضاء سَیر یعنی پُر سکون ہوتے ہیں ۔کسی شئے کا مطالبہ نہیں کرتے۔اور اگر پیٹ بھرا ہوا ہو تو دوسرے اعضاء بھوکے رہ جانے کے باعث مختلف بُرائیوں کی طرف رُجوع کرتے ہیں ۔‘‘  (مِنْھَاجُ الْعَابِدِیْن، الفصل الخامس البطن وحفظہ، ص ۹۲)

ہلکے بدن کی فضیلت

        حضرت سیدنا عبد اللہ  ابن عبّاس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے ، نبی کریم، رء وف رّحیم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ    کو تم میں سب سے زیادہ وہ بندہ پسند ہے جو کم کھانے والا اور خفیف(یعنی ہلکے) بدن والا ہے۔(اَلْجَامِعُ الصَّغیر ص ۲۰ حدیث ۲۲۱)

        امیر ِاہلسنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  ’’وزن کم کرنے کا طریقہ‘‘ رسالہ میں تحریر فرماتے ہیں :  حصولِ ثواب کی نیت سے پیٹ کا قفلِ مدینہ لگائیے یعنی سادہ غِذا اور وہ بھی خواہش سے کم کھائیے، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ   آپ خوش اَندام(SMART) رہیں گے، مزید فرماتے ہیں :

کس  کا کتنا وزن ہونا چاہئے

        قد کے مطابق مرد کیلئے فی انچ ایک کلو وَزْن مناسب ہے مثلاً ساڑھے پانچ فٹ کے مرد کیلئے 66کلو اور سوا پانچ فٹ کی عورت کا وزن 59کلو۔              (وزن کم کرنے کا طریقہ، ص۱۰)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

کسی سے کُچھ نہ مانگنا

         حضرت سَیِّدُ نا ابواُمَامَہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  سے رِوَایت ہے کہسیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے فرمایا :  ’’میری بَیْعَتْ کون کرے گا؟ تو رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے غلام حضرت ِ  سَیِّدُنا ثَوبان رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ   نے عرض کیا : ’’یارسول اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کس بات پر بیعت کریں ، کیا ہم نے پہلے آپ کی بیعت نہیں کی؟‘‘ اِرشادفرمایا : ’’ اِس بات پر کہ کسی سے کچھ نہ مانگو گے۔‘‘ حضرت سَیِّدُ نا ثَوبان رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  نے عرض کیا :  ’’یارسول اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! جو یہ بیعت کرلے اُسے کیا ملے گا؟‘‘ فرمایا :  ’’جَنّت۔‘‘ تو حضرت سَیِّدُ نا ثَوبان رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ   نے بَیْعت کرلی ۔ حضرت ِ ِ ِ ِ ِسَیِّدُ نَا اَبُواُمَامَہ  رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ    فرماتے ہیں : ’’ میں نے اُنہیں مکۂ مکرمہ میں لوگوں کے ایک بہت بڑے اِجتماع میں دیکھا کہ اُن کا کوڑا نیچے گرگیا اور وہ گھوڑے پر سُوار تھے، وہ کوڑا ایک شخص کے کندھے پر گرا اُس شخص نے وہ کوڑا آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ   کو پیش کیا تو آپ  رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  نے نہ لیا بلکہ گھوڑے سے اُترے پِھر وہ کوڑا پکڑا ۔‘‘ (طبرانی کبیر، حدیث ۷۸۳۲، ج۸، ص ۲۰۶ )

بہت کمزور ہوں قابِل نہیں ہرگز عذابوں کے

خُدارا ساتھ لیتے جانا جنت یارسول اللہ

(ارمغانِ مدینہ از امیر اہلسنت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  )

        امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  ہمیں بے جا سُوال سے بچانا چاہتے ہیں چنانچہ مدنی انعام نمبر25میں ارشاد ہوتا ہے : کیا آج آپ نے دوسروں سے مانگ کر چیزیں (مثلاً چادر، فون، گاڑی وغیرہ)استعمال تو نہیں کیں ؟(دوسروں سے سُوال کرنا مُرّوت کے خلاف ہے ۔ضرورت کی چیز نشانی لگا کر اپنے پاس بحفاظت رکھیں ۔)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

مُسَلمان سے بَھلائی

        حضرت ِ سَیِّدُ نَا اَبُو سَعِیْد خُدْرِی  رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ   سے رِوَایت ہے کہ حُضورِ پُر نُور، شَافِعِ یومُ النّشُورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :  ’’جو مسلمان اپنے مسلمان بھائی کے سِتْر کو ڈھانپے گا ، اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ    اُسے جَنّت کا سَبْز لِباس پہنائے گا اور جو کِسی بُھوکے مسلمان کو کھانا کِھلائے گا  اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   اُسے جَنّت کے پَھل کِھلائے گا اور جو کِسی پیاسے مسلمان کو سیرا ب کرے گا  اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ    اُسے جَنّت کی پاکِیزہ شَراب پِلائے گا۔ ‘‘(تر مذی، کتاب صفۃ القیامۃ، باب ۱۸ ، حدیث ۲۴۵۷، ج ۴، ص ۲۰۴)

وسیلہ خُلَفائے راشِدیں کا

تمام اصحاب و تابِعیں کا

جوار جَنّت میں ہو عِنایت

     نبیٔ رحمت شفیعِ اُمت    (ارمغانِ مدینہ، ازامیر اہلسنت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  )

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد      

صَدَقَہ اور قَرض

         حضرت سَیِّدُ نا ابو اُمامَہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  سے رِوَایت ہے کہحُضورِ پُرنُور، شَافِعِ یومُ النّشُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایاکہ’’ ایک شخص جَنّت میں داخل ہوا تو اُس نے جَنّت کے دروازے پر لکھا ہوا دیکھا کہ َصدَ قَہ کاثواب دَس گُناہے اور قَر ض کا اَٹھارہ گُنا‘‘۔( المعجم الکبیر ، حدیث ۷۹۷۶،



Total Pages: 31

Go To