Book Name:Jannat ki Tayyari

گنہگارو چلو دوڑو کہ وقت آیا شفاعت کا

وہ کھولا نائبِ رحمن نے دروازہ جنت کا

(قَبالۂ بخشش از خلیفہ اعلیٰ حضرت جمیل الرحمن قادری رضوی علیہ ر حمۃ اللہ  القوی)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

چھ (6)چیزوں  کی ضمانت

         حضرت ِسَیِّدُ نَا عُبَادہ بن صَامِت رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے کہ سُلطانِ بَحْر و بَر، مَدینے کے تَاجْوَر، مَحْبُوبِ رَبِّ اَکْبَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ ’’تم مجھے چھ(6) چیزوں کی ضمانت دے دو میں تمہیں جَنّت کی ضمانت دیتا ہوں ، (۱) جب بولو تو سچ بولو(۲) جب وعدہ کرو تو اُسے پورا کرو(۳) جب امانت لو تو اُسے ادا کرو (۴) اپنی شرمگاہوں کی حِفاظت کرو (۵) اپنی نگاہیں نیچی رکھا کرو اور(۶) اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو ۔‘‘(الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ، کتاب البر والصلۃ والاحسان۔۔الخ ، باب الصدق۔۔۔الخ ، حدیث ۲۷۱ ، ج۱، ص ۲۴۵)

ہم جائیں گے فردوس میں رِضواں سے یہ کہہ کر

روکو نہ ہمیں ہم ہیں غلامانِ محمد

(قَبالۂ بخشش از خلیفہ اعلیٰ حضرت جمیل الرحمن قادری رضوی علیہ ر حمۃ اللہ  القوی)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

پیٹ کا قُفلِ مد ینہ وغیرہ

        حضرت ِ ِ ِسَیِّدُ نَا اَ بُوْ ہُرَیْرَہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ   ُ سے روایت ہے کہ خَاتمُ الْمُرسلین، رَحْمَۃٌ لِلّعٰـلَمِیْن، شَفِیعُ الْمُذْنِبِین، اَنِیسُ الْغَرِیْبِین، سِرَاجُ السَّالِکِین، محبوبِ ربُّ الْعٰلَمِیْنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اپنے اِرْد گِرد بیٹھے ہوئے صحابۂ کِرام (عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان) سے فرمایا :  ’’تم مجھے چھ(6) چیزوں کی ضَمانت دے دوتو میں تمہیں جَنّت کی ضَمانت دے دوں گا۔ ‘‘میں نے عرض کیا :  ’’یارسول اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ و ہ چھ(6) چیزیں کون سی ہیں ؟ ‘‘اِرشاد فرمایا :  ’’نمازاداکرنا، زکوٰۃ دینا، اَمانت لوٹانا ، شرمگاہ، پیٹ اور زبان کی حفاظت کرنا۔‘‘

 (مجمع الزوائد ، باب فر ض الصلاۃ، حدیث ۱۶۱۷، ج ۲، ص۲۱)

چار   یاروں  کا  صَدْقہ    شہا

خُلْد میں جا عطا کیجئے

(ارمغانِ مدینہ از امیر اہلسنت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  )

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ روایت میں شرم گاہ اور زبان کے ساتھ ساتھ پیٹ کی حفاظت کا ذکر بھی ہے ۔علّامہ عبدالرؤف مناوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ  الْہَادِی فیض القدیر جلد 2صفحہ 121پر لکھتے ہیں : پیٹ کی حفاظت کا مطلب یہ ہے کہ تم اس میں حرام کھانا یا پانی مت اُتارو ۔

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!’’پیٹ کا قفلِ مدینہ‘‘ لگاتے ہوئے یعنی اپنے پیٹ کو حرام اور شُبُھات سے بچاتے ہوئے حلال غذا بھی بھوک سے کم کھانے میں دین و دنیا کے بے شُمار فوائد ہیں ۔شیخِ طریقت، امیر ِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  نے بھوک کے فضائل کے متعلق ’’فیضانِ سنّت ‘‘(جلد اوّل تخریج شدہ)میں ایک پورا باب بنام ’’پیٹ کا قفلِ مدینہ ‘‘باندھا ہے ۔آئیے! اس میں سے کچھ رِوایات صَفْحہ۷۰۸ تا۷۱۱ ملاحظہ فرمائیے چنانچہ

موٹا مچھر

        حضرت سیدنا ربیع بن اَنَس رحمۃ اللّٰہ  تَعَالٰی علیہ فرماتے ہیں : ’’مچھر جب تک بھوکا رہے زندہ رہتا ہے اور جب کھا پی کر سیر ہو جائے تو موٹا ہو جاتا ہے اور جب موٹا ہو جاتا ہے تو مر جاتا ہے ۔یہی حال آدَمی کا ہے کہ جب وہ دنیا کی نعمتوں سے مالا مال ہوتا ہے تو اُس کا دِل مردہ ہو جاتا ہے‘‘۔(تَنْبِیْہُ الْمُغْتَرِّیْنْ ص۵۴)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مچھر تو موٹا ہوتے ہی موت کے گھاٹ اُتر جاتا اور خاک میں مِل جاتا ہے مگر آہ!انسان جب جانداریاموٹا تازہ ہو جاتا ہے تو بعض اوقات طرح طرح کی آفتوں سے دُنیا ہی میں دو چار ہوتا اور طرح طرح کے گُناہوں میں پڑ کر اللہ  و رسول   عَزَّ وَجَلَّ  و صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کی ناراضی کی صورت میں نزع و قبر و حشر کی ہولناکیوں اور جہنّم کے درد ناک عذابوں میں گرفتا رہو جاتا ہے۔چُنانچہ

جاندار بدن کی آفتیں

        حضرت سیدنا یحیٰ بن مُعاذ رازی رحمۃ اللہ   تَعَالٰی علیہ فرماتے ہیں : جو پیٹ بھر کے کھانے کا عاد ی ہو جاتا ہے اُس کے بدن پر گوشت بڑھ جاتا ہے اور جس کے بدن پر گوشت بڑھ جاتا ہے وہ شہوت پرست ہو جاتا ہے۔ اور جو شہوت پرست ہو جاتا ہے اُس کے گُناہ بڑھ جاتے ہیں ، اور جس کے گناہ بڑھ جاتے ہیں اُس کا دِل سخت ہوجاتا ہے اور جس کا دِل سخت ہو جاتا ہے وہ دُنیا کی آفتوں اور رنگینیوں میں غرق ہوجاتا ہے۔   (المنبھات للعسقلانی باب الخماسی۵۹)

کھانے کی حِرص سے تُو یا ربّ نجات دے دے

اچھا بنا دے مجھ کو اچھی صِفات دے دے

  پیٹو پر گُناہو ں کی یلغار

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!واللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   !    تشویش سخت تشویش کی بات ہے کہ پیٹ بھر کر کھانا گُناہوں میں انسان کوغرق کر دیتا ہے۔چُنانچہ حضرت سیدنا  امام محمد غزالی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی



Total Pages: 31

Go To