Book Name:Jannat ki Tayyari

جُوق درجُوق آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضِر ہو نے لگے۔ میں بھی اُن لوگوں میں شامل تھا ۔جب میں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے چہرۂ مبارک کو غور سے دیکھااورچھان بِین کی تو جان لیا کہ یہ کسی جُھوٹے کا چہرہ نہیں اور پہلی بات جو میں نے رسولِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   سے سُنی وہ یہ تھی کہ ’’اے لوگو ! سلام کو عام کرو اور محتاجوں کو کھاناکِھلایا کرو اور صِلۂ رحمی اِختیا رکرو اور رات کو جب لوگ سو رہے ہوں تونماز پڑھا کرو جَنّت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ گے۔‘‘ (سنن ترمذی، کتا ب صفۃ القیامۃ ، با ب ۴۲ ، حدیث۲۴۹۳ ، ج ۴، ص ۲۱۹)   

        شیخِ طریقت، عاملِ قراٰن و سنّت، امیر ِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   مدنی انعام نمبر6میں ارشادفرماتے ہیں : کیا آج آپ نے گھر، دفتر، بس، ٹرین وغیرہ میں آتے جاتے اور گلیوں سے گُزرتے ہوئے، راہ میں کھڑے یا بیٹھے ہوئے مسلمانوں کو سلامکیا؟

شہااپنی جَنّت میں قدموں میں رکھنا

یہی عاجزانہ مِری التجاء ہے

(مغیلانِ مدینہ، از امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ )

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

نَمازِ تَہجُّد

         حضرت ِسَیِّد تُنَا اَسماء بِنت یزید  رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ ما سے روایت ہے کہ مکی مدنی سرکار، محبوبِ غفّار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا : ’’ قِیامت کے دن تمام لوگ ایک ہی جگہ اِکٹھے ہوں گے پھر ایک مُنادی نِدا کرے گاکہ’’ کہاں ہیں وہ لوگ جِن کے پہلوبستروں سے جُدا رہتے تھے؟ ‘‘پھر وہ لوگ کھڑے ہوں گے اوروہ تعداد میں بہت کم ہونگے اوربِغیر حِساب جَنّتمیں داخل ہوجائیں گے ، پھرتمام لوگوں سے حساب شروع ہوگا۔(الترغیب  والترہیب ، کتاب النوافل ، حدیث ۹، ج ۱، ص ۲۴۰)

ان کے کرم کے صدقے فضل و کرم پہ قرباں

عطّارؔ کو وہ لیکر جنت میں جا رہے ہیں

(مغیلانِ مدینہ، از امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ )

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

نَمازِ چاشت

        حضرت ِ سَیِّدُ نا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے کہ نبیٔ رحمت، شفیعِ اُمّت، شہنشاہِ نُبُوت، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’بیشک جَنّت میں ایک دروازہ ہے جسے ضُحٰی کہا جاتا ہے جب قِیا مت کا دن آئے گا تو ایک مُنادی نِدا کرے گا نَمازِچاشت کی پابندی کرنے والے کہاں ہیں ؟یہ تمہارا دروازہ ہے اس میں داخل ہوجاؤ۔‘‘

(طبرانی اوسط ، حدیث۶۰ ۵۰ ، ج ۴ ، ص ۱۸)

بے عدد غلام آقا خلد جا رہے ہیں کاش!

میں بھی ساتھ ان کے یا شاہِ بحر و بر جاتا

(مغیلانِ مدینہ، از امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ )

        جَنّت کی اَبدی نعمتوں کے طلبگار اسلامی بھائیو!صاحبِ کرامت ، امیرِ اہلسنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  نوافل کی کثرت کرتے اور اپنے متعلقین و مریدین کو بھی اِس کی ترغیب دِلاتے رہتے ہیں ۔چنانچہ مدنی انعام نمبر19میں ارشادفرماتے ہیں : کیا آج آپ نے  تہجد، اشراق و چاشت اور اوّابین ادا فرمائی؟مدنی انعام نمبر20میں ارشاد ہوتا ہے :  کیا آج آپ نے کم از کم ایک بار تَحِیّۃُ الوُضُو اور تَحِیّۃُ الْمَسْجِد ادا فرمائی؟

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 پانچ اعمال

          حضرت ِسَیِّدُ نا ابوسَعِیْد خُدْرِی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ   فرماتے ہیں کہ میں نے حضور، سراپا نور، شاہِ غیورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو فرماتے ہوئے سنا کہ پانچ اعمال ایسے ہیں جو اِنہیں ایک دن میں کرے گااللہ    عَزَّ وَجَلَّ   اُسے جنّتیوں میں لکھے گا :

(۱) مریض کی عِیادت کرنا(۲)جنازے میں حاضر ہونا(۳) ایک دن کا روزہ رکھنا (۴)جمعہ کے لئے جانا اور(۵)غُلام آزاد کرنا۔‘‘

(مجمع الزوائد ، کتاب الصلوۃ ، باب مایفعل من الخیریوم الجمعۃ ، حدیث ۳۰۲۷، ج۲، ص ۳۸۲)

        شیخِ طریقت، امیر ِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  مدنی انعام نمبر53میں ارشاد فرماتے ہیں : کیا آپ نے اِس ہفتے کم از کم ایک مریض یا دُکھی کی گھر یا اسپتال جا کر سُنّت کے مطابق غمخواری کی؟اور اس کو تحفہ(خواہ مکتبۃ المدینہ کا شائِع کردہ رسالہ یا پمفلٹ)پیش کرنے کیساتھ ساتھ تعویذاتِ عطاریہ کے استعمال کا مشورہ دیا؟

یا خدا مغفرت کر دے عطارؔ کی

اِس کو جنّت میں دے دے نبی کا جوار

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 



Total Pages: 31

Go To