Book Name:Jannat ki Tayyari

اسلامی کے مَدَنی قافِلے کے مسافِر راستہ بھول گئے ہیں ان کی رہنُمائی کیلئے تم روشنی لیکر باہَر کھڑے ہوجاؤ ۔‘‘ میری آنکھ کُھل گئی اور بتّی لیکر باہَر نکل پڑا ۔ کچھ دیر تک کھڑا رہا مگر کچھ نظر نہ آیا ، وَسوسہ آیا کہ شاید غَلَط فَہمی ہوئی ہے، آنکھوں میں نیند بھری ہوئی تھی ، گھر میں داخِل ہوکر پھر سَورہا ، سر کی آنکھ بند ہوتے ہی دل کی آنکھ واپَس کُھل گئی اور پھر ایکبار مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کا چہرۂ نور بار نظر آیا، لَبہائے مُبارَکہ کو جُنبِش ہوئی اور رَحْمت کے پھول جَھڑنے لگے ، الفاظ کچھ یوں ترتیب پائے، دِیوانے! مَدَنی قافلہ میں بارہ مُسافِرہیں ، ان کے لئے چائے کا ا     نتِظام کرکے فوراًروشنی لیکر باہَر کھڑے ہوجاؤ ۔میں نے دم زَدن میں خیر خواہی کی ترکیب کی اور روشنی لیکر باہَر نکل آیا کہ اتنے میں عاشِقانِ رسول کا مَدَنی قافِلہ بھی آپہنچا ۔   

آتا ہے فقیروں پہ انہیں پیار کچھ ایسا        خود بھیک دیں اور خود کہیں منگتا کابھلا ہو

تُم کو تو غُلاموں سے ہے کچھ ایسی مَحَبَّت   ہے ترکِ اَدب ورنہ کہیں ہم پہ فِداہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

وُضُو کے بعد کی دُعا

            اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْنْ حضرت ِسَیِّدُنا عمر بن خطاب  رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے کہ اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کے محبوب، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا : ’’ تم میں سے جو شخص کامل وُضُو کرے پھر یہ کلمہ پڑھے : ’’اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَ ہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدً ا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ ۔ترجمہ : میں گو اہی دیتا ہو ں کہ اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ    کے سِوا کوئی معبو د نہیں وہ تنہاہے اُسکا کوئی شریک نہیں اورگواہی دیتا ہو ں کہ حضرت سیدنا محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  اس کے بندے اور رسول ہیں ۔‘‘ تواُس کیلئے جَنّت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے ، جس دروازے سے چاہے جَنّت میں داخل ہوجائے ۔‘‘(صحیح مسلم، کتا ب الطہارۃ ، حدیث ۲۳۴، ص ۱۴۴)

ہم نے مانا کہ گناہوں کی نہیں حد لیکن

تُو ہے اُن کا تَو حسنؔ تیری ہے جنَّت تیری

(ذوقِ نعت از حسن رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن)   

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مُصنّفِ فیضانِ سنّت، امیر ِاہلسنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے عطا کردہ مدنی قافلوں میں سفر کے جَدْوَل (عُمر بھر میں کم از کم ایک مرتبہ یکمُشت بارہ(12) ماہ، ہر بارہ میں کم از کم ایک مرتبہ یکمشت ایک ماہ اور ہرماہ تین(3) دِن) کے مطابق اپنی اور ساری دُنیا کے لوگوں کی اصلاح کا جذبہ لئے مدنی قافلوں کے مُسافر بنیں ، اِنْ شَآءَاللہ اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   صلوٰۃ و سُنّت و اِنفرادی کوشش و درس و بیان کی عملی تربیّت، دُرُست مخارِج کے ساتھ قراٰن سیکھنے سِکھانے کی سعادت، اکثر وقت قیامِ مسجد اور ہَمہ وقت اچھی صحبت کی برکت ، دُعاؤں کی قبولیّت اورمرضِ عِصیاں سے نجات و برأت وغیرہ کے ساتھ ساتھ وُضُو کے بعد کی دُعا اور تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی بہت سی مقبول دُعائیں وغیرہ یاد کرنے کی عظیم سعادت بھی حاصل ہو گی چنانچہ میرے شیخِ طریقت ، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  فرماتے ہیں : مدنی انعام نمبر63 : کیا آپ نے بالغ، نابالغ و نابالِغہ کے جنازے کی دُعائیں ، چھ(6)کلمے، ایمانِ مُفصّل، اِیمانِ مُجْمَل، تکبیر ِتشریق اور تَلْبِیہ(لَبَّیْک) یہ سب ترجمے کے ساتھ زبانی یاد کر لئے ہیں ؟نیز اِس ماہ کی پہلی پیر شریف کو (یا رہ جانے کی صُورت میں کسی اور دِن)یہ سب پڑھ لئے؟

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

تَحِیَّۃُ الْوُضُو

            حضرت ِسَیِّدُنا بُرَیدہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  سے رِوَایت ہے کہ ایک صُبح رسولِ پاک، صاحبِ لولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بیدا ر ہوئے تو حضرت ِسیدنا بلا ل  رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  کو پُکارا پھر دریافت فرمایا :  ’’ اے بلال (رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ )!  کونسی چیزتمہیں مجھ سے پہلے جَنّت میں لے گئی؟آج شب میں جَنّت میں داخل ہوا تو میں نے اپنے آگے تمہارے قدموں کی آواز سنی۔‘‘ تو حضرت ِسیدنا بلال  رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ   نے عرض کیا : ’’یا رسول اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں (وضو کرنے کے بعد) ہمیشہ دو رکعتیں پڑھ کراَذان دیتاہوں اور جب بے وُضُو ہوجاتاہوں تو فوراً وضو کرلیتا ہوں ۔‘‘ تو رحمت ِعالم، شہنشاہِ اُمم، تاجدارِ حرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’(اچھا)یہی وجہ ہے۔‘‘ (مسند احمد ، حدیث بریدۃ الاسلمی ، حدیث ۲۳۰۵۷، ج۹، ص ۲۰)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

            حضرت ِسیدنا عُقْبَہ بن عامِر رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ   سے روایت ہے کہ نبیٔ کریم، رسولِ عظیم، رء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :  ’’جو شخص اَحْسَن طریقے سے وضو کرے اور دو رکعتیں قلبی توجہ سے ادا کرے تواُس کے لئے جَنّتواجب ہو جائے گی۔‘‘    (صحیح مسلم ، کتا ب الطھارۃ  ،  باب ذکر المستحب عقب الوضوء ، حدیث۲۳۴، ص ۱۴۴)

   

بہت کمزور ہوں ہر گز نہیں قابِل عذابوں کے

خُدارا ساتھ لیتے جانا جنّت یا رسول اللہ

(وسائل بخشش (مرمم)، ص ۳۳۲)

        امیر ِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ    ہمیں جَنّتکی طرف لے جانے والے اعمال کی ترغیب دِلاتے رہتے ہیں چنانچہ آپ( دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ )  مدنی انعام نمبر20 میں فرماتے ہیں : کیا آج آپ نے کم از کم ایک بار تَحِیَّۃُ الوُضُو اور تَحِیَّۃُ المَسْجِد  ادا فرمائی؟

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !