Book Name:Jannat ki Tayyari

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًاؕ-حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِیْنَ(۷۳) وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَ اَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّةِ حَیْثُ نَشَآءُۚ-فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ(۷۴)

ترجمہ کنزالایمان : اور جو اپنے ربّ (  عَزَّ وَجَلَّ  )سے ڈرتے تھے اُن کی سواریاں گروہ گروہ جَنّت کی طرف چلائی جائیں گی یہاں تک کہ جب وہاں پہنچیں گے اور اُس کے دروازے کھلے ہوئے ہوں گے۔اور اُس کے داروغہ اُن سے کہیں گے سلام تم پر تم خوب رہے تو جَنّت میں جاؤ ہمیشہ رہنے۔اور وہ کہیں گے سب خوبیاں اللہ ( عَزَّ وَجَلَّ )کو جس نے اپنا وعدہ ہم سے سچا کیا۔اور ہمیں اس زمین کا وارث کیا کہ ہم جَنّت میں رہیں ۔ جہاں چاہیں تو کیا ہی اچھا ثواب کامیوں ( اچھے کام کرنے والوں )کا۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

علمِ دین کی جستجو

         حضرت سَیِّدُنا ابودَرْدَاء  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے سرورِ ہَردوسَرا، مَحْبُوبِ کِبْرِیا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کو فرماتے ہوئے سُنا کہ ’’جو اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ    کی رِضا کے لئے عِلْم کی جستجومیں نکلتاہے تواللہ   تَعَالٰی اُس کے لئے جَنّت کا ایک دروازہ کھول دیتاہے اورفِرشتے اُس کے لئے اپنے پربِچھادیتے ہیں اور اُس کے لیے دُعائے رحمت کرتے ہیں اور آسمانوں کے فِرِشتے اورسَمُندر کی مچھلیاں اس کے لیے اِسْتِغْفَارکرتی ہیں اور عالِم کو عابِد پر اتنی فضیلت حاصل ہے جِتنی چودھویں رات کے چاند کو آسمان کے سب سے چھوٹے ستارے پر اور علمائ، انبیائِ کرام  عَلَیْھِمُ السَّلام  کے وارث ہیں ۔ بیشک انبیائِ کرام  عَلَیْھِمُ السَّلام  دِرھم ودِینار کا وارِث نہیں بناتے بلکہ وہ نُفُوسِ قُدْسِیہعَلَیْھِمُ السَّلام تو عِلْم کا وارث بناتے ہیں لِہٰذا جِس نے علم حاصل کیا اُس نے اپنا حصّہ لے لیا اور عالِم کی موت ایک ایسی آفت ہے جس کا اِزالہ نہیں ہوسکتااورایک ایسا خلاء ہے جِسے پُر نہیں کیا جا سکتا (گویا کہ )وہ ایک سِتارہ تھا جو ماند پڑ گیا، ایک قبیلے کی موت ایک عالِم کی موت سے زیادہ آسان ہے ۔‘‘

(بیہقی شعب الایمان ، با ب فی طلب العلم ، حدیث ۱۶۹۹، ج ۲ ، ص ۲۶۳ )

پڑوسی خُلد میں اپنا بنا لو

کرم آقا پئے احمد رضا ہو

(از امیر اہلسنت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ )

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مدنی قافلوں کی پابندی کے ساتھ ساتھ جب ہم وقت مقرر کر کے روزانہ فکرِ مدینہ کرتے ہوئے مدنی انعامات کے پابند بنیں گے تو اِنْ شَآءَاللہ اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   ہمیں بھی علمِ دین کی جستجوکا مدنی جذبہ حاصل ہوگا اور ہم بھی جَنّت میں لے جانے والے اعمال کی تیاری میں مشغول ہوجائیں گے چنانچہ پیکرِ عِلم و حکمت ، امیر ِاہلسنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   مدنی انعام نمبر 68میں فرماتے ہیں ۔کیا آپ نے اِس سال کم از کم ایک بار امام غزالی   عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْوَالِیکی آخری تصنیف ’’مِنْھَاجُ العَابِدین‘‘ سے تَوبہ ، اِخلاص، تَقویٰ، خوف و رَجا، عُجب و رِیا ، آنکھ ، کان، زبان، دل اور پیٹ کی حفاظت کا بیان پڑھ یا سُن لیا؟ اسی طرح مدنی انعام نمبر 69میں بھی ارشاد فرماتے ہیں :  کیا آپ نے اِس سال کم از کم ایک مرتبہ بہارِ شریعت  حصّہ۹ سے مُرتَد کا بیان حصّہ ۲ سے نَجَاستوں کا بیان اور کپڑے پاک کرنے کا طریقہ ، حصّہ ۱۶سے خریدو فروخت کا بیان ، والدین کے حقوق کا بیان (اگر شادی شدہ ہیں تو )حِصّہ ۷ سیمُحَرَّمات کا بیان اور حُقوق ُالزَّوجَین حِصّہ ۸ سے بچوں کی پَروَرِش کا بیان ، طَلَاق کا بیان، ظِہار کا بیان اور طلاقِ کِنَایہ کا بیان پڑھ یا سُن لیا؟

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

جھگڑا ترک کرنا

             حضرت ِسَیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  سے رِوَایت ہے کہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایاکہ’’ جوباطل جھوٹ بولنا چھوڑدے، اُس کے لئے جَنّت کے کنارے پر ایک گھر بنایا جائے گااور جو حقّ پر ہوتے ہوئے جھگڑنا چھوڑدے گا، اُس کے لئے جَنّت کے وَسْطْ میں ایک گھر بنایا جائے گا اور جس کا اَخلاق اچھا ہوگا ، اُس کے لئے جَنّت کے اعلی مقام میں ایک گھر بنایا جائے گا۔‘‘(سنن ترمذی ، کتا ب البروالصلۃ ، باب ماجاء فی المراء ، حدیث ۲۰۰۰ ، ج ۳ ، ص ۴۰۰)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آفتابِ قادریت ، ماہتابِ رضویت ، امیرِ اہلسنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   ہمیں لڑائی جھگڑوں والے اُمُور سے بچا کر راہِ جَنّت پر گامزن کرنے کی سَعْی کرتے ہوئے مدنی انعامات میں فرماتے ہیں : مدنی انعام نمبر 26 : کسی ذِمہ دار(یا عام اسلامی بھائی سے )بُرائی صادر ہو جائے اور اِصلاح کی ضرورت محسوس ہو تو تحریری طور پر یا براہِ راست مل کر(دونوں صورتوں میں نرمی کے ساتھ)سمجھانے کی کوشش فرمائی یا معاذ اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   بِلا اِجازت ِ شرعی کسی اور پر اِظہار کر کے غِیبت کا گُناہِ کبیرہ کر بیٹھے؟(ہاں خود سمجھانے کی جرأ ت نہ ہو یا ناکامی کی صورت میں تنظیمی ترکیب کے مطابق مسئلہ حل کرنے میں مضائقہ نہیں )۔

مدنی انعام نمبر33میں فرماتے ہیں : آج آپ نے (گھر میں اور باہر) کسی پر تُہمت تو نہیں لگائی، کسی کا نام تو نہیں بگاڑا؟کسی سے گالی گلوچ تو نہیں کی؟ (کسی کو سور، گدھا، چور، لمبو ، ٹھنگو وغیرہ نہ کہا کریں )

مدنی انعام نمبر7 : کیا آج آپ نے  (گھر میں اور باہَر بھی) ہر چھوٹے بڑے حتّٰی کہ والدہ (اور اگر ہیں تو اپنے بچوں اور ان کی امّی) کو بھی تُو کہہ کر مخاطب کیا یا آپ کہہ کر؟ نیز ہر ایک سے دورانِ گفتگو ہیں کہہ کر بات کی یا جی کہہ کر؟ (آپ کہنا، جی کہنا دُرُست جواب ہے )

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حَلال کھانا اور سُنّت اپنانا

        حضرت ِسَیِّدُنا ابو سَعِیْد خُدْرِی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  سے رِوَایت ہے کہ تاجدارِ مدینۂ منورہ ، مکینِ گنُبدِ خَضرٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ’’ جِس نے حَلَال کھا یا اور سُنّت کے مطابق عمل کیا اور لوگ اُس کے شر سے محفوظ رہے تووہ جَنّت میں داخل ہوگا۔‘‘ صحابہ کرام   رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ م نے عرض کیا ’’یارسول اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    ایسے لوگ تو



Total Pages: 31

Go To