Book Name:Khushnaseeb Mareez

شاید آج بھائی کی زندگی کی آخری رات ہے، وہ کسی کو نہیں پہچان رہے، سانس بھی اُکھڑی ہوئی ہے، کوئی تعویذ دے دیں ۔‘‘ مجلس کے اِسلامی بھائیوں نے انہیں تسلی دی : ’’ آپ مایوس مت ہوں ، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ شفاء دینے والا ہے۔ آپ یہ تعویذ ات ِعطاریہ لے جائیں ، یہ اس زمانے کے ولی سلسلہ عالیہ کے عظیم بزرگ شیخ طریقت امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے عطاکردہ ہیں ۔ ان تعویذات کی بَرَکت سے کئی ایسے مریض بھی شفاپا چکے ہیں جنہیں ڈاکٹروں نے لاعلاج قرار دے دِیا تھا ۔‘‘

                                                دوسرے دن انکے بھائی دوبارہ بستے پر آئے تو ان کے چہرے پر خوشی کے آثار تھے۔ انہوں نے بتایا : ’’ میں نے گھر جاکر جیسے ہی تعویذ اپنے بیمار بھائی جان کے سر پر باندھا تو سارے گھر والے حیران رہ گئے کہ چند منٹ بعد ہی بھائی نے( جو لگتا تھا کہ آخری سانسیں لے رہے ہیں ) آنکھیں کھول دیں ۔انہوں نے گھر والوں کو بٹھانے کا اشارہ کیا ۔انہیں سہارا دے کر بٹھا دیا گیا۔

 اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ   انہوں نے کھانابھی کھانا شروع کردیاہے ۔‘‘2دن بعد برین ٹیومر کے مرض میں مبتلاء رہنے والے اِسلامی بھائی اپنے قدموں پر چل کر تعویذات عطاریہ کے بستے پر ذِمَّہ داران سے ملنے آئے اور بتایا کہ  اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ  میری طبیعت % 75 فیصد صحیح ہوگئی ہے۔

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(3)  ہاتھ کا آپریشن

       نواب شاہ کے مقیم اِسلامی بھائی کاحلفیہ بیان کچھ اس طرح ہے کہ میر ے ْْْبائیں ہاتھ میں اچانک درد اُٹھتا ۔یہ 1993ء کی بات ہے، میں اس ہاتھ سے کوئی کام نہیں کرسکتا تھا ۔جب بھی میں اس ہاتھ سے کوئی کام لینے کی کوشش کرتا مثلاًقمیض کا بٹن لگانے کی کوشش کرتا، موٹر سائیکل چلانا چاہتا یا بیان کے دوران ہِلاتاجُلاتا توشدید دَرْد اُٹھتا ۔میرا ہاتھ سیاہ پڑ جاتا ، دل میں بھی تکلیف محسوس ہوتی اور اُلٹے کندھے میں بھی شدید درد محسو س ہوتا ۔نواب شاہ میں کئی ڈاکٹروں کو دکھایا۔ اُنہوں نے حیدرآباد کے مشہور آرتھوپیڈک سرجن سے ملنے کا مشورہ دیا ۔وہاں میرے ہاتھ کا ایکسرے اور الٹراساؤنڈ ہوا ۔ رپورٹ دیکھ کرڈاکٹر نے کسی ویسکولر سرجن ( جو ہاتھ کی نسوں کے علاج میں مہارت رکھتے ہیں ) کو دِکھانے کا مشورہ دیا ۔ایسے سرجن اُس وقت صرف باب المدینہ کراچی، مرکزالاولیاء لاہور اور اسلام آباد میں دستیاب تھے۔

                                                 میں باب المدینہ (کراچی)سول ہسپتال پہنچا اورویسکولر سرجن کو ملا۔ اُنہوں نے میرا چیک اپ کیا ، رپورٹ دیکھی اور میری ہسٹری جاننے کے بعد مجھے بتایا کہ آپکی خون واپس لے جانے والی نس بند ہے، اسکا آپریشن ہوگا۔انہوں نے آپریشن کے لئے ایک ہفتہ بعد کا وقت دے دیا۔چنانچہ میں ایک ہفتہ کے بعد آپریشن کے لئے ذہنی طور پر تیارہوکر نواب شاہ سے کراچی پہنچا ۔مجھے صبح 10بجے ہسپتال پہنچنا تھا۔ رات امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کی بارگاہ میں دعا کے لئے حاضر ہوا بتایا کہ صبح آپریشن ہے ، دعا کیجئے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کرم فرمائے ۔‘‘آپ نے دریافت فرمایا :  ’’کس کا آپریشن ہے۔‘‘ عرض کی : ’’میرا ۔‘‘پوچھا : ’’ کہاں ؟‘‘ عرض کی : ’’سول اسپتال میں ۔‘‘ فرمایا :   ’’آپریشن کے بغیر بھی علاج ہوسکتا ہے۔‘‘ عرض کی : ’’ حضور!  مجھے ڈاکٹروں کی ٹھوکروں میں کیوں ڈالتے ہیں ، آپ ہی روحانی علاج فرمادیں ۔‘‘ فرمایا : ’’ فلاں ڈاکٹر کے پاس میرا یہ خط لے جاؤ وہ تمہیں صحیح مشورہ دیں گے ۔‘‘مگر میری عرض جاری رہی : ’’ آپ کرم فرما دیں ڈاکٹروں کی ٹھوکروں میں مجھے نہ ڈالیں ۔‘‘ لیکن آپ نے مجھے باصرار ڈاکٹر کے پاس بھیج دیا۔دوسرے دن اشراق چاشت کی نماز پڑھنے کے بعد پوچھا : ’’ کیا ہوا؟‘‘ میں نے بتایا کہ اس ڈاکٹر نے ایک اورڈاکٹر کی طرف بھیج دیا ہے ایکسرے اور الٹراساؤنڈ وغیرہ بھی ہوئے ہیں مگر یاسیِّدِی! مجھے ڈاکٹروں کی ٹھوکروں میں نہ ڈالیں آپ ہی رُوحانی علاج فرما دیں ۔‘‘

          آج مجھے بارگاہِ مرشدی میں ساتواں دن تھا ۔ ڈاکٹروں کی رپورٹس اور ایکسرے کثیر تعداد میں جمع ہوکربنڈل کی صورت اختیار کر چکے تھے۔میری تکرار یہی تھی کہ بس آپ ہی کرم فرمادیں ۔آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  نے اشراق چاشت کے نوافل ادا کرنے کے بعد دعا مانگی اورخلافِ معمول ڈاکٹروں کی رپورٹ کے بارےمیں پوچھنے کے بجائے فرمایا : ’’ آج جمعرات ہے سکھر نہیں جاؤ گے؟‘‘ عرض کی : ’’حضور! میں تو اپنی بیماری کی وجہ سے یہاں پڑا ہوں ۔‘‘آپ نے دوبارہ اپنی بات دہرائی :  ’’ہر جمعرات کو آپ سکھراجتماع میں جاتے ہو، کیا آج نہیں جاؤ گے ؟‘‘ میں نے پھر عرض کی : ’’ حضور !میں تو  علاج کے لئے حاضر ہوں ۔‘‘ جب تیسری مرتبہ بھی فرمایا تو میں سمجھ گیا کہ مُرشِد کاکرم ہوگیا ہے۔لہٰذا! میں نے اپنا سامان اُٹھا یا اور سکھر اجتماع میں پہنچ گیا ۔وہاں میں نے بیان بھی کیا مگرمجھے ذرا سا بھی درد محسوس نہ ہوا۔ مجھے یوں لگا کہاَلْحَمْدُ للہ  عَزَّوَجَلَّ میرارُوحانی علاج ہو چکا ہے۔ اس بات کو کم وبیش 15سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے مگر کبھی دوبارہ درد نہیں ہوا ۔ اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو  

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(4)  حیرت انگیز شِفاء

                                                 پتوکی (پنجاب)کے مقیم اِسلامی بھائی مدرسۃ المدینہ (رینالہ خوردضلع اوکاڑہ ) میں زیر تعلیم ایک مَدَنی منے کی والدہ کی فاتحہ خوانی کیلئے ان کے گھر پہنچے تو مَدَنی منے کے بڑے بھائی نے رُوحانی علاج کی بَرَکت کچھ اس طرح سے بتائی کہ والدہ کے انتقال کے بعد ہمشیرہ کی یہ کیفیت تھی کہ 5دنوں سے اس کے منہ میں پانی کا قطرہ تک نہ گیا تھا۔ ہمیں لگتا تھا کہ یہ بھی چل بسے گی ۔ جب مَدَنی منے کے قاری صاحب کو اس بات کا پتا چلا تو انہوں نے مجلسِ مکتوبات و تعویذاتِ عطّارِیہ اوکاڑہ کے اِسلامی بھائیوں سے حاصل کی ہوئی کالے رنگ کی ڈوری (جس پر دم کیا ہوا تھا)دی ۔ جب ہم نے وہ ڈوری بیمار بہن کے گلے میں ڈالی تووہ اسکی بَرَکت سے تقریباً3منٹ کے اندراندر اٹھ بیٹھی ، پھر کھانا بھی کھایا ۔ سُبْحَانَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو

 



Total Pages: 8

Go To