Book Name:Khushnaseeb Mareez

(1)  خوش نصیب مریض

                                                مرکز الاولیاء(لاہور) کے اِسلامی بھائی نے(جورُوزگار کے سلسلے میں بابُ المدینہ (کراچی) میں مقیم ہیں ) حلفیہ بیان لکھ کر دیا جس کا لب لباب یہ ہے کہ   میں شام کم و بیش  00 :5 بجے میں ڈرگ کالونی(مین بازار) میں ایک ٹھیلے پررکھے ہوئے پُرانے ٹائپ رائٹر کا سودا کرنے میں مصروف تھا۔اتنے میں میری نظر ایک شخص پر پڑی جو حلئے سے پاگل مَحسوس ہورہا تھا ۔ لوگ اس کو تنگ کررہے تھے ۔ اس نے  مُشْتَعَل ہوکر ایک پتھر اٹھاکر تنگ کرنے والے لوگوں کو مارا ۔جو اُنہیں لگنے کے بجائے میرے پیٹ کے بائیں جانب آلگا ۔میں نے بے قرار ہو کر اپنا پیٹ سہلانا شروع کردیا ۔ تھوڑی ہی دیر میں دردکا احساس جاتا رہا ۔ بات آئی گئی ہوگئی۔ لیکن جب میں نمازِ عصر کیلئے مسجدپہنچا تو دَرْد پھر سے محسوس ہونے لگا اور بڑھتے بڑھتے اتنا شدید ہوگیا کہ میں بے ہوش ہوگیا۔ لوگوں نے مجھے میرے گھر پہنچایا ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میری حالت بگڑتی چلی گئی چنانچہ گھر والے مجھے فوراًP.I.A  کارساز نزد سِوِک سینٹر میڈیکل ہسپتال لے گئے جہاں مجھے داخل کرلیا گیا۔رات بھر میں وہیں رہا۔ صبح ڈاکٹروں نے مجھے چھٹی دے دی اور بتایا کہ یہ درد پیٹ کی گیس کی وجہ سے تھا ۔

                                                 چند دن بعد دوبارہ دَرْد اٹھا۔مگر اس مرتبہ میں کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں گیا بلکہ گھر والوں نے میری درخواست پر مجھے شہید مسجدپہنچا دیا جہاں امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  عام ملاقات فرمارہے تھے۔قِطار کافی طویل تھی۔جب میں آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کی بارگاہ میں پہنچا تواپنی تکلیف سے آگاہ کیا اور تعویذ کے لئے درخواست کی۔ آپ  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  نے اَزراہِ شفقت ہاتھوں ہاتھ ایک تعویذ بنا کر عطاکیااور فرمایا : ’’اِسے باندھ لیجئے اور پھر کبھی دَرْد اٹھے تودرد کی جگہ یہ تعویذ رکھ دیں ، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ    دَرْد ختم ہوجائے گا۔ ‘‘  جُونہی میں نے وہ تعویذ باندھا ایسا لگا کسی نے میرے پیٹ سے دَرْد کھینچ لیا ہو۔ وہاں پر موجوددیگر اِسلامی بھائی بھی حیران تھے کہ ابھی کچھ دیر پہلے درد کے مارے مچھلی کی طرح تڑپنے والا آناً فاناً تندرست کیسے ہوگیا؟اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  میں اپنی طبیعت بہتر محسوس کررہا تھا یہاں تک کہ میں نے نعت شریف بھی پڑھی ۔

                                                وہ تعویذ میں نے کم وبیش 3ماہ تک باندھے رکھا ، اِس دوران مجھے کبھی بھی پیٹ میں درد نہیں اٹھا۔ ایک روز آفس میں ایک دوست کے پیٹ میں دَرْد اٹھا ۔ اُسے درد سے کراہتا دیکھ کر میں نے وہ تعویذ کھول کراسے دے دیدیا ۔میں اور آفس کا دیگر عملہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اُس نے جیسے ہی وہ تعویذ باندھا درد ایسا غائب ہوا جیسے کبھی تھا ہی نہیں ۔آفس سے فارِغ ہو کر جب میں گھر پہنچا تو عصر کی نماز سے کچھ دیر پہلے مجھے و ہی دَرْد دوبارہ اُٹھا۔ تکلیف کے مارے میری حالت غیر ہوگئی۔ مجھے فوراً P.I.A کارساز میڈیکل ہسپتال میں لے جایا گیا، جہاں میری حالت دیکھ کر مجھے داخل کرلیا گیا۔   

                                                 ڈاکٹروں نے علاج کی پوری کوشش کی مگر دَرْد میں خاطر خواہ کمی واقع نہ ہوئی۔ پوری رات یُونہی گزر گئی ۔جب صبح ہوئی تو میرے بھائی نے (جو مرکزالاولیاء لاہور سے آئے تھے )ڈاکٹر سے کہا کہ اِنجکشن لگا کر کوشش کریں ۔ توڈاکٹر نے بتایا کہ میں پہلے ہی ڈر پ کے ذریعے14انجکشن لگا چکا ہوں ۔مگر حیران ہوں کہ انہیں کوئی فرق نہیں پڑا ۔مزید انجکشن لگانے سے رِی ایکشن کا خدشہ ہے۔ ہمیں اِن کا مرض سمجھ میں نہیں آرہا ، آپ اِنہیں کہیں اور لے جائیں ۔چنانچہ مجھے ناظم آباد کے ایک میڈیکل کمپلیکس میں داخل کروادیاگیا ۔ وہاں میں کم وبیش17دن رہا۔ بھائی میری بیماری کی وجہ سے بہت پریشان تھے ۔کہنے لگے : ’’ نوکری وغیرہ چھوڑو اور میرے ساتھ لاہور چلو۔‘‘میں نے عرض کی : ’’ لگتا ہے اب میں صحت یاب نہیں ہو سکوں گا، لہٰذالاہور جانے سے پہلے آخری بار مجھے میرے پیرو مُرشِد کی زِیارت کیلئے لے چلئے۔‘‘

             مجھے ٹیکسی میں بٹھا کر امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے درِ دولت پر پہنچا دیا گیا۔جب میں کمرے میں داخل ہوا تو کمرہ اِسلامی بھائیوں سے بھرا ہوا تھا۔ ایک ذمّہ دار نے میری حالت دیکھ کرتشویش کا اِظہار کرتے ہوئے کہا کہ اِنہیں ہسپتال لے جائیے ۔میں روتے ہوئے بولا کہ میں ہسپتال سے ہی لایا گیا ہوں ، اب کہیں نہیں جاؤں گا۔ اِتنے میں امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  تشریف لے آئے۔ میں پوری طاقت اکٹھی کرکے آپکی تعظیم کے لئے کھڑا ہوگیا ۔آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  میرے قریب آئے اور پیٹ پر ہاتھ رکھ کر دَم کیا اور پوچھا : ’’دَرْد ہے؟‘‘ میں نے عرض کی :  ’’پہلے سے قدرے کم ہے۔‘‘ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  نے دوبارہ دم کیا۔ پھر پوچھاتو میں نے اچھی طرح پیٹ دبا کر دیکھا مگر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ دَرْد کا پتہ نہ تھا۔ پھر فرمانے لگے کہ میں نے پہلے بھی تعویذ دیاتھا، وہ کہاں ہے؟میں نے ساری صورتحال بتائی تو آپ نے دوبارہ اپنے دست ِ مبارک سے تعویذ بناکر دیااور کھانا کھانے کی دعوت پیش کی۔ میں کھانا کھانے لگا ۔وہاں پر موجود اِسلامی بھائی ایک ولیٔ کامل کی عطاؤں کا کھلی آنکھوں سے نظارہ کررہے تھے ۔(تادمِ تحریر)اس بات کو کم وبیش 10سال ہوچکے ہیں ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ   کبھی دوبارہ مجھے وہ درد محسوس نہیں ہوا۔

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد   

(2 )  بَرین ٹیومرکا مریض تندرست ہوگیا

         سکھر(باب الاسلام سندھ)کے مُقیم اِسلامی بھائی کا حلفیہ بیان کچھ یوں ہے کہ ہمارے علاقے میں ایک شخص کو برین ٹیومر (یعنی دماغ میں پھوڑا) تھا ۔اس کے دو آپریشن ہوچکے تھے۔ اس کی حالت قابلِ رحم تھی۔ڈاکٹروں نے بھی جواب دے دیا تھا۔ کسی نے اُن کو تعویذاتِ عطّارِیہ استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔ مگر مریض کی حالت مایوس کُن ہونے کی وجہ سے گھر والوں نے خاص توجُّہ نہ دی ۔

       ایک دن اُن کے چھوٹے بھائی مجلس مکتوبات تعویذات عطاریہ کے بستے (اِسٹال) پر گھبرائے ہوئے آئے اور روتے ہوئے کہنے لگے : ’’ بھائی جان کی حالت بہت زیادہ خراب ہوگئی ۔لگتا ہے



Total Pages: 8

Go To