Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

غسل دینا چاہالیکن پانی بالکل ختم ہوگیا تھا۔ چنانچہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بغیر نہلائے کفن دیا گیا، پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہکو دفن کر دیا گیا ۔

            آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تدفین کے بعد ہم وہاں سے رخصت ہوگئے۔ ایک جگہ ہمارے قافلے کو پانی میسر آیا تو ہم نے باہم مشورہ کیا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو غسل دے کر دوبارہ دفن کیا جائے ۔چنا نچہ ہم اس جگہ پہنچے جہاں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دفن کیا تھا۔ لیکن وہاں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی لاش موجود نہ تھی۔ خوب تلاش کیا لیکن آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا لاشہ مبارک نہ مل سکا پھر ہمیں ایک شخص نے بتا یا کہ میں نے حضر ت سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو وصال سے پہلے یہ دعا کرتے سنا تھا :’’یَاعَلِیُّ، یَاعَلِیْمُ، یَاحَلِیْمُ،یَاعَظِیْمُ ‘‘اے ہمارے پروردگار عزوجل !میری موت کو ان لوگو ں پر پوشیدہ کر دینا اور میرے ستر کو کسی پر ظاہر نہ فرمانا۔ جب ہم نے یہ سنا تو ہم واپس لوٹ آئے اور ہم سمجھ گئے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ دعا بھی قبول ہوچکی ہے، اسی لئے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جسم اطہرنہیں مل رہا ۔

            حضرت سیدنا عمر بن ثابت بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں :’’ ایک مرتبہ بصرہ کے رہنے والے ایک شخص کے کان میں ایک کنکری چلی گئی، طبیبوں نے بہت علاج کیا مگر وہ نہ نکلی بلکہ مزید اندر چلی گئی اور دماغ تک جا پہنچی، اس شخص کا تکلیف کے مارے برا حال تھا، راتوں کی نینداور دن کا آرام وسکون سب برباد ہوگیا ، پھر بصرہ میں حضرت سیدنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی کے رفقاء میں سے ایک شخص آیا ۔یہ غم کا مارا اس کے پاس پہنچا اور اپنا درد بیان کیا ۔

             حضرت سیدنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی کے رفیق نے کہا :’’ تیرابھلا ہو ، اگر تو چاہتا ہے کہ تیری تکلیف دور ہو جائے تو ان کلمات کے ساتھ اللہ عزوجل سے دعا کر جن کے ذریعے حضرت سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ دعا کرتے تھے ، انہوں نے صحراؤں اور سمندروں میں ان کلمات سے دعا کی تو ان کی دعا مقبول ہوئی۔پس تو بھی انہیں کلمات کے ذریعے دعا کر۔‘‘ وہ شخص عرض گزار ہوا :’’وہ کلمات کون سے ہیں ؟‘‘ اس نے بتایا:’’ وہ کلمات یہ ہیں :’’یَاعَلِیُّ،یَاعَلِیْمُ،یَاحَلِیْمُ،یَاعَظِیْمُ ‘‘جیسے ہی اس شخص نے ان کلمات کے ساتھ دعاکی فوراً اس کے کان سے وہ کنکری نکلی اور دیوار سے جا لگی اور اس شخص کو سکون نصیب ہوگیا۔

            علّامہ ابن حجر عسقلانی قدِّس سرہٗ الرَّبانی  فرماتے ہیں :’’ حضرت سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اصل نام ’’عبداللہ بن عماد بن اکبر بن ربیعہ بن مالک بن عوف حضرمی‘‘ تھا ۔

            آپ نبی ٔمُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے صحابی تھے ، حضورنبی ٔ رحمت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو’’ بحرین ‘‘کا امیر بنا کر بھیجا ۔حضرت سیدنا ابو بکر صدیقرضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ خلافت میں بھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بحرین کے امیر رہے اور حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بحرین کاامیر  بر قرار رکھا۔

{اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو۔۔اور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم}

 



Total Pages: 412

Go To