Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

حکایت نمبر28:                               

سمندرمیں راستے

            حضرت سیدنا قدامہ بن حماطہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :’’میں نے حضرت سیدنا سہم بن منجاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ فرماتے  سنا کہ’’ ایک مرتبہ ہم حضرت سیدنا علاء بن حضر می رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ جنگ کے لئے ’’دارین‘‘ کی طر ف روانہ ہوئے ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مستجاب الدعوات تھے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہنے راستے میں تین دعائیں کیں اور تینوں مقبول ہوئیں۔راستے میں ایک جگہ پانی بالکل ختم ہوگیا،ہم نے ایک جگہ قافلہ روکا، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وضو کے لئے پانی منگوایا اور وضو کرنے کے بعد دورکعتیں ادا فرمائیں ، پھر دعا کے لئے ہاتھ اٹھادیئے اور بارگاہ ِخدا وندی عزوجل میں اس طر ح عرض گزار ہوئے :’’اے ہمارے پروردگار عزوجل !ہم تیرے بندے ہیں ،تیری راہ کے مسافر ہیں ،ہم تیرے دشمنوں سے قتال کریں گے ، اے ہمارے رحیم وکریم پروردگار عزوجل !ہمیں بارانِ رحمت سے سیراب فرما دے تا کہ ہم وضو کریں اور اپنی پیاس بجھائیں۔‘‘

             اس کے بعد قافلے نے کوچ کیا۔ ابھی ہم نے تھوڑی سی مسافت ہی طے کی تھی کہ گھنگور گھٹائیں چھاگئیں اور یکایک بارانِ رحمت ہونے لگی ، سب نے اپنے اپنے بر تن بھرلئے اور پھر ہم وہاں سے آگے چل دیئے ۔

             حضرت سیدنا سہم بن منجاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :’’ تھوڑی دور چلنے کے بعد مجھے یاد آیا کہ میں اپنا برتن تو اسی جگہ بھول آیاہوں جہاں بارش ہوئی تھی۔ چنانچہ میں اپنے رفقاء کو بتا کراس طرف چل دیاجہاں بارش ہوئی تھی۔ جب میں وہاں پہنچاتویہ دیکھ کر مجھے بڑی حیرانگی ہوئی کہ ابھی کچھ دیر پہلے جہاں شدید بارش کا سماں تھا اب وہاں بارش کے آثار تک نہ تھے ۔ ایسا لگتا تھا جیسے یہاں کی زمین پر بر سوں سے ایک قطرہ بھی نہیں برسا۔ بہر حال میں اپنے بر تن کولے کر واپس قافلے میں شامل ہوگیا ۔

            جب ہم ’’دارین‘‘ پہنچے تو ہمارے اور دشمنوں کے درمیان ٹھاٹھیں مارتا سمند ر تھا۔ ہمارے پاس ایسا سازو سامان نہ تھا کہ ہم سمندر پار کر سکیں۔ ہم بہت پریشان ہوئے اور معاملہ حضرت سیدنا علاء بن حضر می رضی اللہ تعالیٰ عنہکی بارگاہ میں پیش کیا گیا۔آپ  رضی اللہ تعالیٰ عنہنے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور ان کلمات کے ساتھ دعا کرنے لگے :’’یَاعَلِیُّ،یَاعَلِیْمُ،یَاحَلِیْمُ،یَاعَظِیْمُ ‘‘اے ہمارے پروردگار عزوجل! ہم تیرے بندے ہیں اور تیری راہ کے مسافر ہیں ،ہم تیرے دشمنوں سے قتال کریں گے، اے ہمارے پروردگار عزوجل! ہمارے لئے ان کی طر ف کوئی راستہ بنادے ۔‘‘

            آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دعا قبول ہوئی اور ہمارے لئے سمندر میں راستے بن گئے ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمیں لے کر سمندر میں اُتر گئے اور ہم نے اس طرح سمندر پار کیا کہ ہمارے کپڑ ے بھی گیلے نہ ہوئے۔جنگ کے بعد جب ہماری واپسی ہوئی تو راستے میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیٹ میں درد ہونے لگا اور اسی درد کی حالت میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصال ہوگیا۔ ہم نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو


 

 



Total Pages: 412

Go To