Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

پھر جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو خلیفہ بنا یا گیا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زوجۂ محترمہ اس لونڈی کو تیار کرکے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں لائی اور عرض کی:’’ میں یہ لونڈی بخوشی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہکو پیش کرتی ہوں کیونکہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو یہ بہت زیادہ پسند ہے ۔‘‘آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  بہت خوش ہوئے ، اور فرمایا:’’ اسے میرے پاس بھیج دو۔‘‘جب وہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہکے پاس آئی توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس کا حسن وجمال دیکھ کربہت متعجب ہوئے ،اور اس سے قربت اختیار کرنا چاہی لیکن پھر رک گئے، اور اس لونڈی سے کہا:’’ بیٹھ جاؤ، اور پہلے مجھے یہ بتاؤ: تم کون ہواور فاطمہ کے پاس تم کہا ں سے آئیں ؟‘‘

             وہ کہنے لگی:’’ میں ’’ کوفہ‘‘ کے گو رنر کی غلامی میں تھی اور وہ گورنر حجاج بن یوسف کا بہت مقروض تھا ، اس نے مجھے حجاج بن یوسف کے پاس بھیج دیا۔ حجاج بن یوسف نے مجھے عبدالملک بن مرو ان کے پاس بھیج دیا۔ ان دنوں میرالڑکپن تھا ، پھر عبدالملک بن مروان نے مجھے اپنی بیٹی فاطمہ کوہبہ کر دیااوریوں میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس پہنچ گئی ۔‘‘

             آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس سے پوچھا :’’ اس گو رنر کا کیا ہوا؟‘‘ کہنے لگی:’’ وہ تو مرگیا۔‘‘ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے پوچھا:’’ کیا اس کی کوئی اولاد ہے؟‘‘اس نے جواب دیا:’’جی ہاں ! اس کا ایک لڑکاہے۔‘‘ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے استفسار فرمایا: ’’اس کا کیا حال ہے ؟‘‘کہنے لگی:’’ اس کاحال بہت براہے، بہت زیادہ مفلسی کی زندگی گزار رہا ہے۔‘‘

             آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہنے اسی وقت کوفہ کے موجود ہ گورنر’’ عبدالحمید علیہ رحمۃ اللہ المجید‘‘کو خط لکھا کہ فلاں شخص کو فوراً میرے پاس بھیج دو، فوراً حکم کی تعمیل ہوئی اور وہ شخص آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہکے پاس آگیا ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے پوچھا:’’ تجھ پر کتنا قرض ہے؟‘‘ تواس نے جتنا بتا یا آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے سارا ادا کردیا۔

            پھر فرمایا :’’ یہ لونڈی بھی تمہاری ہے، اسے لے جاؤ۔‘‘ یہ کہتے ہوئے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے وہ لونڈی اس کے حوالے کردی ،جوں ہی اس نے لونڈی کا ہاتھ پکڑنا چاہا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا :’’ خبردار ! تم دونوں ایک دوسرے کی قربت سے بچنا،ہو سکتا ہے تیرے والد نے اس لونڈی سے وطی کی ہو۔‘‘(کیونکہ اولاد پراپنے باپ، داداکی موطو ء ہ حرام ہیتفسیر نعیمی، ج۴،ص۵۶۵ملخصًا)

             اس نے کہا :’’اے امیر المؤمنین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ !یہ لونڈی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہہی رکھ لیجئے۔‘‘ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:’’مجھے اب اس کی کوئی حاجت نہیں۔‘‘ اس نے عرض کی:’’ پھرآ پ مجھ سے خرید لیں۔‘‘ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے پھر انکار کردیا اور فرمایا:’’ جاؤ،اسے اپنے ساتھ ہی لے جاؤ۔‘‘یہ سن کروہ(لونڈی )کہنے لگی:’’اے امیرالمؤمنین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ! آپ تو مجھے بہت چاہتے تھے ، اب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہکی وہ چاہت کہاں گئی ؟ ‘‘آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:’’ میری تجھ سے محبت وچاہت اپنی جگہ بر قرار ہے بلکہ اب تو اور زیادہ بڑھ گئی ہے ۔‘‘ پھر ان دونوں کو روانہ کردیا ۔

{اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو۔۔اور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم}

 

 



Total Pages: 412

Go To