Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

 

بتایا، پھر ان کے انتقال تک میں اکثر ملاقات کے لئے ان کے پا س آتا،بالآ خر ان کا انتقال ہوگیا اور اسی جگہ انہیں دفن کردیا گیا،یہ انہیں کی قبر ہے ۔

{اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو۔۔اور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم}

 

۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷

حکایت نمبر22:                                    

 سَر دْ رَات میں سو کوڑے

            حضرت سیدنا ابو وداعہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :’’مَیں حضرت سیدنا سعید بن مسیب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی محفل میں باقاعدگی سے حاضر ہوا کرتا تھا،پھر چند دن میں حاضر نہ ہوسکا۔ جب دوبارہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس حاضر ہوا توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے پوچھا:’’ تم اتنے دن کہاں تھے؟‘‘ میں نے کہا:’’ میری اہلیہ کا انتقال ہوگیا تھابس اسی پریشانی میں چند دن حاضر ی کی سعادت حاصل نہ ہو سکی ۔‘‘ یہ سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:’’تو نے مجھے اطلاع کیوں نہیں دی تا کہ میں بھی جنازہ میں شرکت کرتا ؟‘‘ حضرت سیدنا ابو وداعہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :’’ ا س پر میں خاموش رہا۔‘‘ جب میں نے رخصت چاہی تو آپ  رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:’’ کیا تم دوسری شادی کرنا چاہتے ہو؟‘‘ میں نے کہا:’’ حضور! میں تو بہت غریب ہوں ، میرے پاس بمشکل چند درہم ہوں گے، مجھ جیسے غریب کی شادی کون کروائے گا۔‘‘ تو آپ  رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرمانے لگے:’’ میں تیری شادی کرواؤں گا ۔‘‘ میں نے حیران ہوتے ہوئے عرض کی:’’کیا آپ  رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہمیری شادی کرائیں گے ؟‘‘ فرمایا:’’ جی ہاں !میں تیری شادی کراؤں گا۔‘‘ پھرآپ  رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اللہ عزوجل کی حمد بیان کی اور حضور  صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمپر درود وسلام پڑھا اور میری شادی اپنی بیٹی سے کرادی ۔

            میں وہاں سے اٹھا او رگھر کی طر ف روانہ ہوا ۔میں اتنا خوش تھا کہ میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کرو ں ، پھر میں سوچنے لگا کہ مجھے کس کس سے اپنا قرضہ وصول کرنا ہے ، اور اسی طر ح میں آنے والے لمحات کے بارے میں سوچنے لگا پھر میں نے مغر ب کی نمازمسجد میں ادا کی اور دوبارہ گھر کی طرف چلا آیا ۔میں گھر میں اکیلا ہی تھا، پھر میں نے زیتو ن کا تیل اور رو ٹی دستر خوان پر رکھی اور کھانا شرو ع ہی کیا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی ۔میں نے پوچھا:’’ کون ؟‘‘ آواز آئی:’’ سعید  رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ۔‘‘میں سمجھ گیا  کہ ضرور یہ حضرت سیدنا سعید بن مسیب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہی ہوں گے۔ اتنی دیر میں وہ اندر تشریف لے آئے۔ میں نے کہا:’’آپ

 



Total Pages: 412

Go To