Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

توآپ نے فرمایا:’’ جی ہاں ! میرے پروردگار عزوجل کا مجھ پر قرض ہے ، لیکن اس نے ابھی تک میرا محاسبہ نہ کیا۔ اگر اس نے مجھ سے سوال کرلیایا میرا حساب لے لیا تو میرے لئے ہلاکت ہوگی ، اوراگر مجھے جواب دینے کی تو فیق نہ دی گئی تو میری تباہی وبر بادی ہے۔‘‘ خلیفہ نے کہا :’’حضور! میری مراد یہ ہے کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہپر کسی بندے کا توکوئی قرض وغیرہ نہیں ؟‘‘آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہنے فرمایا:’’ میرے رب عزوجل نے مجھے اس کا حکم نہیں دیا۔بے شک مجھے تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اس کی اطاعت کرو ں ، اور اس کا مخلص بندہ بن جاؤں۔‘‘ اللہ عزوجل ارشاد فرماتاہے:

 وَمَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ0

مَآاُرِیْدُ مِنْھُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّمَآاُرِیْدُاَنْ یُّطْعِمُوْنِ0

اِنَّ اللہَ ھُوَالرَّزَّاقُ ذُوالْقُوَّۃِ الْمَتِیْنِ0

۲۷،الذٰریٰت : ۵۶تا۸ ۵ )

ترجمۂ کنزالایمان:اورمیں نے جنّ اور آدمی اتنے ہی اسی لئے بنائے کہ میری بندگی کریں۔ میں ان سے کچھ رزق نہیں مانگتااورنہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھانادیں۔بے شک اللہ ہی بڑا رزق دینے والا،قوت والا،قدرت والا ہے۔

            حضرت سیدنا فضیل بن عیاضعلیہ رحمۃاللہ الوھاب کی نصیحت آموز باتیں سن کرخلیفہ ہارون الرشید علیہ رحمۃ اللہ المجید کے دل پر بہت گہرااثر ہوا۔پھر خلیفہ نے ایک ہزار دینار آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو دیتے ہوئے عرض کی:’’ حضور! یہ حقیر سا نذرانہ قبول فرمالیں ، انہیں اپنے اہل وعیال پر خرچ کریں اور ان کے ذریعے عبادت پر قوت حاصل کریں۔‘‘

            یہ سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:’’ سبحان اللہ عزوجل! میں تجھے نجات کا راستہ بتارہاہوں اور تو اس کے صلہ میں مجھے یہ( حقیر) دولت دے رہاہے۔اللہ عزوجل تجھے نیک اعمال کی تو فیق دے،اورتجھے سلامت رکھے۔ ‘‘

ٍ            پھرآپ  رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ خاموش ہوگئے ، اور ہم سے کوئی کلام نہ فرمایا۔ فضل بن ربیع کہتے ہیں : پھر ہم آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہکے پاس سے اٹھ کر چلے آئے۔جب ہم دروازے پر پہنچے توخلیفہ ہارون الرشید علیہ رحمۃ اللہ المجید نے مجھ سے کہا :’’اے عباس !جب بھی مجھے کسی کے پاس لے جانا چاہو تو ایسے ہی پاکباز اولیاء کرا م کے پاس لے جایا کرو،بے شک ایسے لوگ ہی مسلمانوں کے سردار ہیں۔‘‘

            ابھی ہم یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ حضرت سیدنا فضیل بن عیاض علیہ رحمۃاللہ الوھاب کے اہلِ خانہ میں سے ایک عورت آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس آئی اور کہنے لگی: ’’ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جانتے ہی ہیں کہ ہم کیسے تنگ حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اگر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہوہ رقم قبول کرلیتے تو اس میں کیا حرج تھا،ہمارے حالات کچھ بہتر ہوجاتے۔‘‘ تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہنے اس عورت سے فرمایا: ’’میری اور تم لوگو ں کی مثال اس قوم کی سی ہے کہ جن کے پاس اونٹ ہو اور وہ اس کے ذریعے


 

 



Total Pages: 412

Go To