Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

            جب خلیفہرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کوکچھ افاقہ ہو ا تو فرمایا:’’اللہ عزوجل آپ پررحم فرمائے ،مجھے کچھ اور نصیحت فرمائیے ۔‘‘

            آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا :اے امیر المؤمنین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ !مجھے خبر پہنچی ہے کہ حضرت سیدنا عمربن عبدالعزیزعلیہ رحمۃاللہ العزیز کے ایک گورنرنے شکایت کی تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اسے خط بھیجا جس میں لکھا تھا:

            ’’ میں تجھے جہنمیوں کی اس شدید بے چینی وبے آرامی سے ڈراتا ہوں جو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہوگی۔ خبر دار!ایسے کاموں سے کوسوں دور بھاگنا جوتجھے اللہ عزوجل کی یادسے دور کردیں۔ یاد رکھ !آخری لمحات میں امید یں ختم ہوجائیں گی۔ ‘‘

            جب اس گو رنر نے یہ خط پڑھا تو فوراً حضرت سیدنا عمربن عبدالعزیز علیہ رحمۃاللہ العزیز کی طرف چل دیا۔جب وہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہکے پاس پہنچا توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس سے پوچھا:’’ تجھے کس چیزنے یہاں آنے پرمجبورکیا ؟‘‘اس نے عرض کی:’’ حضور! آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہکے خط نے میرا دل پارہ پارہ کر دیا ہے ،اب میں کبھی بھی گورنر کا عہدہ قبول نہیں کروں گا یہاں تک کہ مجھے موت آجائے۔‘‘ یہ سن کر خلیفہ ہارون الرشید علیہ رحمۃاللہ المجیدپھرزورزورسے رونے لگے ،اورفرمایا: اے فضیل بن عیاض  رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ !اللہ عزوجل آپ پر رحم فرمائے،مزیدکچھ نصیحت فرمائیے۔‘‘

            آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہنے فرمایا:’’اے امیرالمؤمنینرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ!جب ہمارے پیارے آقا، دو عالم کے داتا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمکے پیارے چچاحضرت سیدناعباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمکی بارگاہ میں عرض کی:’’یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّممجھے کسی شہر کا حاکم بنا دیں تو حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمنے فرمایا: ’’بے شک امارت (یعنی حکومت) حسرت وندامت ہے ، اگرتجھ سے ہوسکے تو کبھی بھی (کسی پر)امیرنہ بننا ۔‘‘

 (سنن النسائی،کتاب آداب القضاۃ، باب النھی عن مسألۃ الامارۃ، الحدیث:۵۳۸۷،ص۲۴۳۱)

(حلیۃ الاولیائ، الفضیل بن عیاض، الحدیث:۱۱۵۳۶، ج۸، ص۱۰۹)

            خلیفہ ہارون الرشید علیہ رحمۃاللہ المجیدیہ سن کر پھررونے لگے، اور عرض کی: ’’اللہ عزوجل آپ پر رحم فرمائے، مزید کچھ ارشاد فرمائیں۔‘‘

            آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:’’ اے حسین وجمیل چہرے والے! یاد رکھ! کل بروز ِقیامت اللہ عزوجل تجھ سے مخلوق کے بارے میں سوال کرے گا ۔اگر تو چاہتا ہے کہ تیرا یہ خو بصورت چہرہ جہنم کی آگ سے بچ جائے تو کبھی بھی صبح یاشام اس حال میں نہ کرناکہ تیرے دل میں کسی مسلمان کے متعلق کینہ یا عداوت ہو۔ بے شک رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمنے ارشاد فرمایا:’’جس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ کینہ پرورہے تو وہ جنت کی خوشبو نہ سونگھ سکے گا۔‘‘  (حلیۃ الاولیائ، الفضیل بن عیاض، الحدیث۱۱۵۳۶،ج۸،ص۱۱۰)

            خلیفہ ہارون الرشیدعلیہ رحمۃاللہ المجید رونے لگے ،اور عرض کی :’’حضور! آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہپرکسی کا کوئی قرض وغیرہ ہے ؟ ‘‘


 

 



Total Pages: 412

Go To