Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

کہ’’جب بھی میں کسی بادشاہ سے ملوں گا تواسے نیکی کی دعوت دوں گااوربری باتوں سے منع کروں گا۔اوراسے اللہعزوجل کی یاد ضروردلاؤں گا۔( چنانچہ خلیفہ کونصیحت کرکے میں نے اللہ عزوجل سے کیا ہوا اپناوعدہ پورا کیا ہے، کوئی برُا کام نہیں کیا)

{اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو۔۔اور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم}

 

 

۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷

 

 

حکایت نمبر15:                          

جس دن قدم پھسل رہے ہوں گے

 حضرت سیدنافضیل بن عیاض علیہ رحمۃاللہ الوھّاب کی خلیفۃ المسلمین ہارون الرشید علیہ رحمۃ اللہ المجیدکو نصیحت

            فضل بن ربیع کابیان ہے:’’جب خلفیۃ المسلمین ہارون الرشیدعلیہ رحمۃاللہ المجیدحج ادا کرنے کے لئے مکۃالمکرمہ آئے، تو ان دنوں مَیں اپنے گھرہی میں موجود تھا۔اچانک مجھے اطلاع ملی کہ ہارون الرشیدعلیہ رحمۃاللہ المجید میرے پا س تشریف لارہے ہیں۔ اطلاع ملتے ہی میں فوراً حاضرخدمت ہو ااور عرض کی:’’حضور!آپ رحمۃ اللہ تعا لیٰ علیہنے کیوں زحمت فرمائی ، مجھے پیغام بھجوا دیا ہوتا میں خود ہی حاضرہوجاتا ۔‘‘

            خلیفہ ہارون الرشیدعلیہ رحمۃاللہ المجیدنے فرمایا:’’ اے ابن ربیع ! میرے دل میں ایک بات کھٹک رہی ہے،تم جلدی سے مجھے کسی ایسے بزرگ کے پاس لے چلو جو میری مشکل کو آسان کر دے، کیا تمہاری نظرمیں کوئی ایسا شخص ہے؟‘‘میں نے کہا:’’ جی ہاں !حضرت سیدنا سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مکہ مکرمہ میں موجود ہیں۔ ‘‘خلیفہ نے کہا :’’مجھے فوراً ان کے پاس لے چلو۔‘‘

             چنانچہ ہم ان کے گھر پہنچے اور میں نے دروازہ کھٹکھٹایا ۔اندرسے آوازآئی: ’’کون ہے؟‘‘میں نے کہا :’’خلیفہ ہارون الرشیدعلیہ رحمۃاللہ المجید تشریف لائے ہیں۔ جلدی سے حاضرخدمت ہوجاؤ۔ہارون الرشید کانام سنتے ہی حضرت سیدنا سفیان بن عیینہرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فوراًباہرآئے اور کہا:’’ حضور! آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے تکلیف کیوں کی؟‘‘ مجھے حکم نامہ بھیجا ہوتا میں خود ہی حاضر ہوجاتا۔‘‘خلیفہ نے کہا :’’اللہ عزوجل آپ پر رحم فرمائے۔ہم جس مقصد کے لئے آئے ہیں اس کے متعلق کچھ ارشاد فرمائیے۔‘‘ پھرخلیفہ ہارون الرشید علیہ رحمۃاللہ المجیدنے ان کے سامنے اپنا مسئلہ پیش کیا اور دیرتک ان سے باتیں کرتے رہے۔

            پھران سے پوچھا:’’ کیا آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پر کسی کا قرض ہے؟‘‘ کہا:’’جی ہاں ! میں مقروض ہوں۔‘‘ خلیفہ نے فرمایا:’’ اے عباس ! ان کا قرض ادا کر دینا۔‘‘پھرآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مجھے لے کر وہاں سے آگے چل دیئے اور فرمایا: ’’میں ان سے مطمئن نہیں ہو ا، مجھے کسی اور بزرگ کے پاس لے چلو۔‘‘

 



Total Pages: 412

Go To