Book Name:Uyun ul Hikayaat Hissa 1

اے امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ! میرے اور آپ کے سامنے ایک تنگ اور دشوار گزار گھاٹی ہے، جسے صرف کمزور اور ضعیف لوگ ہی عبور کرسکیں گے پس ہوسکے تو اپنے آپ کو ہلکا کرلیں ،اللہ عزوجل آپ پر رحم وکرم فرمائے ۔‘‘

            یہ سن کرحضرت سیدنا عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا درہ زمین پرمارا اور فرمایا:’’ اے عمر! کاش! تجھے تیری ماں نے جناہی نہ ہوتا ،کاش! وہ بانجھ ہوتی ۔‘‘

            پھر فرمایا :’’کیا کوئی ایسا ہے جو مجھ سے خلافت کو اس کی ذمہ داریوں اور اس کے ثواب کے ساتھ قبول کرلے ۔‘‘

            حضرت سیدنا اویس قرنی علیہ رحمۃ اللہ الغنینے عرض کی:’’اے امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ  !جو کوئی اللہ عزوجل سے ڈرتا ہے وہ اس (خلافت) سے دوربھاگتاہے  (ہماری جدائی کا وقت آگیا ہے)اب آپ ایک طرف تشریف لے جائیں او رمیں دوسری طر ف چلاجاتا ہوں۔چنانچہ امیرالمؤمنین حضرت سیدناعمرفاروق اور حضرت سیدناعلی المرتضیٰرضی اللہ تعالیٰ عنہما مکۃ المکرمہ کی طرف تشریف لے گئے ۔اور آپ رحمۃ اللہ تعا لیٰ علیہ اونٹوں کو لے کر دو سری طرف چل دیئے، اور اونٹوں کو قوم کے حوالے کردیا ۔

            پھرسب کام چھوڑ کر صرف اللہ عزوجل کی عبادت میں مشغول ہوگئے اور بالا ٓخر اپنے خالق حقیقی عزوجل سے جاملے ۔

{اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو۔۔اور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم}

۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷

 حکایت نمبر14:                                        

با ہمت ومخلص مبلغ

            حضرت سیدنا خالد بن صفوان بن الاھتم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم  فرماتے ہیں :’’ایک مرتبہ (یمن کے گورنر) یوسف بن عمرنے مجھے عراق کے ایک وفد کے ساتھ خلیفہ ہشام بن عبدالملک کے پاس بھیجا ،جب میں وہاں پہنچا تو دیکھا کہ خلیفہ ہشام بن عبدالملک اپنے لشکر،اہل وعیال ، خادموں اور غلاموں کے ساتھ سیرو سیاحت کے لئے روانہ ہو رہاہے۔چنانچہ میں بھی اس سفرمیں لشکرکے ساتھ شامل ہوگیا۔ خلیفہ نے ایک ایسی وادی میں لشکرکے پڑاؤ کا حکم دیا جونہایت وسیع وعریض ، خوبصورت اور صاف ستھری تھی۔ موسم بہارمیں وہاں کئی بارشیں ہوچکی تھیں جس کی وجہ سے وادی پھولوں اور مختلف قسم کے نباتات سے آراستہ وپیراستہ تھی ۔وہ وادی ایسی خوبصورت اوردل کولبھانے والی تھی کہ اسے دیکھتے ہی وہاں قیام کرنے کو جی چاہتا تھا اور ویسے بھی وہ ہر اعتبار سے قیام کے لئے موزوں تھی۔وہاں کی مٹی ایسی تھی جیسے کافورکی ڈلیاں ،اور وہاں کے ڈھیلے ایسے صاف وشفاف تھے کہ اگر انہیں اٹھا کر پھینکا جائے تو ہاتھ بالکل گَرد آلودنہ ہوں۔وہاں خلیفہ کے لئے وہ ریشمی خیمے نصب کئے گئے جنہیں یوسف بن عمرنے یمن سے بھجوایا تھا، پھر ان خیموں میں سرخ ریشم کے چار بسترلگائے گئے اور ایسے ہی سر خ ریشمی تکیے ان پر رکھے گئے ۔

           


 

 



Total Pages: 412

Go To